میرے دادا حاجی محمد المعروف ’’بزوگر‘‘ گو کہ ناخواندہ تھے مگر ان کی باتیں حکمت سے بھرپور ہوا کرتی تھیں۔ ان کی ایک بات مجھے آج تک یاد ہے۔ ایک دفعہ ہماری روئی کی مشین (محلہ امان اللہ خان، مینگورہ) میں ایک صحت مند بھیک منگا عجیب زبان میں خدا اور رسول کا واسطہ دے کر دستِ سوال دراز کر بیٹھا۔ ہمارے دادا ہٹے کٹے ٹایپ بھیک منگوں کی سخت حوصلہ شکنی کیا کرتے تھے۔ اُسے بھی پشتو زبان میں سختی سے محنت مزدوری کا کہا اور روئے سخن ہماری طرف پھیرتے ہوئے کہنے لگے: ’’سوات میں بالعموم اور مینگورہ شہر میں بالخصوص اگر کوئی پاگل کتا بھی داخل ہوتا ہے، تو وہ بھی یہاں سے نہیں نکلتا، یہ تو پھر بھی ایک ذی ہوش ہٹا کٹا انسان ہے۔‘‘
اللہ بخشے، دادا جی سنہ 1992ء میں انتقال کرگئے، آج ان کی کہی ہوئی بات کا جایزہ لیتا ہوں، تو یقین ہوجاتا ہے کہ واقعی جو بھی سوات میں داخل ہوتا ہے، نکلنے کا نام نہیں لیتا۔ کچھ طاقتوں نے تو داخل ہونے کے لیے باقاعدہ طور پر پلاننگ کی۔ ہمیں ’’مہذب‘‘ دنیا کے سامنے ’’غیر مہذب‘‘ پیش کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا۔ پھر ہم میں سے کچھ کردار تراشے گئے۔ اب اگر دنیا کے سامنے ہمارے ’’غیر مہذب‘‘ ہونے میں کوئی کسر رہ گئی ہو، تو اُسے پوری کرنے میں مذکورہ تراشے گئے کردار بالکل بخل سے کام نہیں لیتے۔ وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
کیسے کیسے ایسے ویسے ہوگئے
ایسے ویسے کیسے کیسے ہوگئے
خیر، یہ تو ایک جملۂ معترضہ تھا۔ واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ مینگورہ شہر میں 90ء کی دہائی میں کئی دیوانے (پاگل، جنہیں ہم پشتو میں ’’لیونے‘‘ کہتے ہیں) دیکھنے کو ملتے تھے۔ ان میں ایک ایاز لیونے، دَ مسافر گل مور (مسافر گل کی ماں)، ٹیغ سترگئی (بھینگا)، عبدالعلی اور پالٹئی لیونے (پالٹئی،ایک طرح سے انگریزی لفظ ’’پارٹی‘‘ کا پشتو ورژن) شامل تھے۔ پالٹئی کے علاوہ ذکر شدہ تمام دیوانے زندگی کی قید سے آزاد ہوچکے ہیں۔ نشست کے آخر میں واضح ہوجائے گا کہ آج دیوانوں کا ذکر کیوں مقصود ہے؟
ذکر شدہ دیوانوں کے علاوہ ایک اور دیوانہ عجیب قسم کا ہوتا تھا…… جو میری عمر کے بیشتر لوگوں کو یاد ہوگا۔ ایک لمبے قد کا آدمی، ہرا لباس زیبِ تن کیے، ہری ٹوپی پہنے، بائیں ہاتھ میں تقریباً ڈیڑھ فٹ لمبے، ایک فٹ چوڑے فریم میں جنرل ایوب خان کی وردی والی تصویر تھامے اور چلتے چلتے دائیں ہاتھ سے ہوا میں کچھ لکھتے نشاط چوک اورگلشن چوک کے آس پاس دکھائی دیتا۔ ہماری عمر کے لڑکوں میں یہ بات مشہور تھی کہ مذکورہ دیوانہ ’’دشمن ملک‘‘ کا ’’ایجنٹ‘‘ ہے۔ عرصہ بعد جب سوات کے حالات خراب کیے گئے، تو اُس کے بعد اب یہ اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں کہ وہ بظاہر دکھنے والا دیوانہ کون تھا اور کس مقصد کے لیے مینگورہ کی چوکوں میں گھومتا تھا!
ذکر شدہ دیوانوں میں ایاز لیونے سب سے خطرناک تھا۔ اس کا پورا نام محمد ایاز تھا۔ اس کے بارے میں مشہور تھا کہ ایک روز تپتے بخار میں ماں نے اُسے نہلایا تھا جس کے بعد وہ دماغی توازن کھو بیٹھا تھا۔ ہمارے دادا دیوانوں کا بطورِ خاص خیال رکھتے۔ ایاز ہر صبح 10 یا 11 بجے ہماری روئی کی مشین کے سامنے بھاگتا بھاگتا آتا اور دادا سے کہتا: ’’ماما، زما چائے خوخ شی!‘‘ (یعنی مجھے چائے پلائیں) دادا مجھے یا اپنے کسی اور پوتے سے چائے لانے کا کہتے۔ عجیب بات یہ تھی کہ روٹی ہمیشہ ایاز اپنے ساتھ لایا کرتا۔ میری ماں کہا کرتی ہیں: ’’کئی بار گھر میں برتن مانجھتے وقت ایاز میرے ہاتھ سے برتن چھین کر بھاگ جایا کرتا، مگر تمہاری دادی کی طرف سے سختی سے کہا گیا تھا کہ دیوانوں کی چھینی ہوئی چیز اُن سے واپس لینا معیوب ہے۔‘‘
ایاز ہم سے کوئی دو تین سال چھوٹا ہوتا ہوگا مگر مجھے آج بھی یاد ہے کہ آخری وقتوں میں وہ ہم سے کافی بڑا اور لحیم شحیم دِکھتا تھا۔ کوئی بھی اُسے چھیڑتا، تو چھیڑنے والے کی شامت آجاتی۔ جو چیز ہاتھ لگتی چھیڑنے والے کے سر پر دے مارتا۔ اس کا نشانہ کم ہی چھوٹتا۔ زندگی کے آخری ایام میں ایاز کے ہاتھوں ایک شخص قتل ہوا جس کے بعد اُس بے چارے کو گھر پر قید کیا گیا۔ تنومند تھا، اس لیے اسے ہم جیسے دو تین لڑکے قابو کرنے میں ناکام رہتے۔ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق اُسے اُس وقت کی تیز ترین نشہ آور دوا (ولیم ٹین گولیاں) دی جانے لگی۔ دن رات نشے کی حالت میں پڑے رہنے کی وجہ سے بالآخر ایک دن وہ زندگی کی بازی ہار گیا۔
مسافر گل کی ماں ایک بوڑھی خاتون تھی۔ ہمہ وقت اس کے ساتھ پرانے کپڑے کی ایک پوٹلی سی ہوتی، جس میں وہ اشیائے خور و نوش ساتھ لیے گھومتی۔ ملک مارکیٹ (مینگورہ شہر کی مشہور ٹی وی، وی سی آر مارکیٹ) میں اُس کے بیٹے ’’مسافر گل‘‘ کی ایک دکان تھی جس میں ٹی وی، وی سی آر کے علاوہ پشتو، اُردو اور انگریزی زبان کی فلمی کیسٹیں کرایے کے عوض دی جاتیں۔ وہ بوڑھی باؤلی خاتون مارکیٹ اپنے جگر گوشے (مسافر گل) کو دیکھنے آتی۔ مسافر گل کبھی کبھار غصہ بھی ہوجاتا…… مگر ماں تو ماں ہوتی ہے، بیٹا اُسے وقت کی مناسبت سے کیک اور چائے یا پھر روٹی کھلا کر رخصت کردیتا۔ وہ بوڑھی باؤلی خاتون تو اب نہیں رہی مگر مسافر گل اب بھی سپین زر پلازہ (مینگورہ) میں موبایل فون کی ڈیلنگ کرتا دکھائی دیتا ہے۔
ٹیغ سترگئی ایک نیم پاگل مگر دلچسپ کردار تھا۔ اس کے ساتھ ہر وقت دو بھیڑ ہوتے۔ وہ انہیں چراتا رہتا۔ بھینگی آنکھیں، گھنی داڑھی، کوتاہ قد، موسم چاہے گرم ہو یا سرد گہرے بھورے رنگ کی اونی چادر اوڑھے رکھتا، سر پر تلے کے کام والی ٹوپی (تیلہ دارہ ٹوپئی) اور پاینچے ہر وقت گھٹنوں کے اوپر رکھتا۔ جہاں کہیں لڑکے بالے نظر آتے، وہ زور زور سے پلکیں جھپکاتا۔ بندہ بے ضرر قسم کا تھا مگر لوگوں نے اس کے حوالے سے کئی کہانیاں گھڑ رکھی تھیں۔
مینگورہ شہر کے ایک اور دیوانے عبدالعلی کے حوالے سے سن رکھا تھا کہ وہ اللہ والا شخص ہے۔ ہوسکتا ہے کہ قارئین میں سے بیشتر کو میری بات عجیب لگے مگر وہ واقعی اللہ والا تھا۔ میری اپنی حالت روزِ اول سے پتلی چلی آ رہی ہے…… مگر کوشش ہوتی کہ عبدالعلی کو تھوڑے پیسے ضرور تھماؤں۔ مہینے میں دو تین بار اس سے آمنا سامنا ہوتا۔ چھوٹتے ہی کہتے: ’’میرے پیسے!‘‘ (سنہ 2005ء کے آس پاس کی بات ہے، وہ پچاس کے نوٹ سے کم نہ لیتا) خدا جھوٹ نہ بلوائے تین چار مرتبہ جب جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی…… مَیں اُسے کہتا عبدالعلی آج پیسے نہیں مانگوگے؟ ہنس کے کہتا، جاؤجب کچھ ہاتھ آئے، تو میرا حصہ بچا کے رکھنا!
سنہ 90ء کی دہائی کے مینگورہ شہر کے مشہور دیوانوں میں پالٹئی بڑا دلچسپ قسم کا دیوانہ ہے۔ سیاسی لوگ آج بھی اُسے ایک دوسرے کے خلاف پروپیگنڈا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ محترم فیاض ظفر کہتے ہیں کہ ایک دن پالٹئی نے مجھے عصا کے ساتھ دیکھ لیا، تو پوچھا: ’’چیئرمین صیب! دا ولی؟‘‘ (یعنی چیئرمین صاحب! یہ آپ کو کیا ہوگیا؟) فیاض صاحب کہتے ہیں کہ مَیں نے اُسے کہا کہ کچھ خاص نہیں بس تھوڑی سی کم زوری ہے۔ دوستوں میں سے کسی نے ازراہِ تفنن پالٹئی کے کان میں کہا کہ چیئرمین صاحب نے خود کو ٹانگ میں گولی مار دی تھی۔ اس لیے عصا لے کے گھومتا ہے۔ اُس کے بعد پالٹئی مینگورہ شہر میں جہاں بھی جاتا…… ایک ہی راگ الاپتا: ’’چیئرمین صاحب نے خود کو گولی ماری ہے!‘‘
یہ بات میری کسی بھی تحریر کا حصہ نہیں (سوائے سوشل میڈیا کے) کہ مَیں لڑکپن میں دیوانوں کو تنگ کیا کرتا تھا۔ ایک طرح سے اس عمل سے حِظ سا اٹھایا کرتا تھا۔ ایک دن ایک عمر رسیدہ دیوانے کے دِل سے کچھ ایسی آہ نکلی کہ میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔فق چہرہ لیے گھر لوٹ آیا اور دوسرے یا تیسرے روز معمول کا کام نپٹاتے ہوئے مَیں اپنی زندگی کے بھیانک ترین حادثے کا شکار ہوا۔ ہمارا روئی کا چمکتا دمکتا کار و بار تھا۔ والدِ بزرگوار کے گزرنے کے بعد ذمہ داری میرے ناتواں کاندھوں پر آ پڑی تھی۔حادثہ یوں رونما ہوا کہ روئی تیار کرنے والی مشین کے آرے نے میرا آستین پکڑا۔چشمِ تصور میں لائیے کہ ’’7 ہارس پاور موٹر‘‘ کی مدد سے چلنے والے آرے نے میرے وجود کا کیا حال کیا ہوگا……!پلک جھپکتے میں میرے دائیں بازو اور پُشت کا گوشت پوست آرے کے ہر دندانے سے مس ہونے کے بعد سامنے والی دیوار پر بوٹیوں اور خون کے دھاروں کی شکل میں دیکھا جاسکتا تھا۔ آپریشن تھیٹر میں اوندھے منھ پڑا کراہ رہا تھا۔درد اتنا شدید تھا کہ دماغ ماوف سا ہوگیا تھا۔پاس کھڑے ڈاکٹر سے بس اتنا ہی کہہ پایا: ’’سر! مجھے بچالیں…… میری بوڑھی ماں کا میرے علاوہ کوئی نہیں!‘‘ اُس مسیحا نے میرے دائیں گال پہ بوسہ دیتے ہوئے کہا: ’’میری روزانہ موت کے فرشتے سے اس تھیٹر میں دھینگا مشتی ہوتی ہے۔آج مَیں زبردست قسم کی ورزش کرکے آیا ہوں۔آج اُسے خالی ہاتھ لوٹنا پڑے گا۔‘‘ یوں اُس وقت میری ڈھارس بندھ گئی۔
ایک مہینے میں تقریباً 14 چھوٹے بڑے آپریشن ہوئے۔ پشت پر 180 ٹانکے لگائے گئے۔ بازو پر تقریباً 30 بڑے ٹانکوں کے ساتھ ران سے 4 بائے 4 انچ پوست اُٹھا کر بازو کے آخری حصہ پر رکھا گیا۔پورا مہینا اوندھے منھ بستر پر پڑا رہا۔ہر روز جب پرانی پٹی ہٹائی جاتی، تو میری چیخ چیخ کر آواز بیٹھ جاتی۔ناناجی ’’ہیڈ ماسٹر (ر) غلام احد‘‘ نور کے تڑکے میرے سرہانے کھڑے رہتے اور پٹی بدلتے وقت کبھی زیرِ لب اور کبھی میری تکلیف کو دیکھتے ہوئے بہ آوازِ بلند قرآنی آیات پڑھ پڑھ کے میری طرف دم کرنے کی غرض سے پھونکا کرتے۔ اب بھی جب وہ لمحات یاد آتے ہیں، تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں، جھرجھری لینے کے بعد واپس حال میں چھلانگ مار لیتا ہوں۔ بخدا 23 سال پورے ہوچکے…… اُس حادثہ کے بعد پھر کسی دیوانے کو چھیڑنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔
یادِ ماضی عذاب ہے یارب……!
چھین لے مجھ سے حافظہ میرا
(جاری ہے)
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔