تقسیمِ ہند سے پہلے پنجاب کے دل لاہور سے ’’پرتاب‘‘ نام کا ایک اخبار نکلا کرتا تھا…… جو کہ پرتاب نام کے ایک ہندو کا تھا۔ وہی اس کا مالک بھی تھا اور چیف ایڈیٹر بھی۔ ایک دن پرتاب نے سرخی لگا دی: ’’تمام مسلمان کافر ہیں۔‘‘ لاہور میں تہلکہ مچ گیا۔ پرتاب کے دفتر کے باہر لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہوگیا…… جو مرنے مارنے پر تیار تھا۔ نقصِ امن کے خطرے کے پیشِ نظر انگریز کمشنر نے پولیس طلب کرلی۔ مجمع کو یقین دلایا گیا کہ انصاف ہو گا اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ تمام مکاتبِ فکر کی مشترکہ کمیٹی کے پچاس آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کٹوا دیا گیا۔ چالان پیش کیا گیا اور مجسٹریٹ نے جو کہ انگریز ہی تھا…… پرتاب سے پوچھا: ’’یہ اخبار آپ کا ہے؟‘‘
’’جی میرا ہے!‘‘
’’اس میں جو یہ خبر چھپی ہے کہ مسلمان سارے کافر ہیں، آپ کے علم اور اجازت سے چھپی ہے؟‘‘
’’جی بالکل! مَیں ہی اس اخبار کا مالک ہوں…… اور چیف ایڈیٹر ہوں، تو میرے علم و اجازت کے بغیر کیسے چھپ سکتی ہے؟‘‘
’’آپ اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہیں؟‘‘
’’جی! جب یہ جرم ہے ہی نہیں، تو مَیں اس کا اعتراف کیسے کرسکتا ہوں؟ مجھے تو خود مسلمانوں ہی نے بتایا ہے…… جو مَیں نے چھاپ دیا ہے، صبح ہوتی ہے تو یہ لوگ سپیکر کھول کر شروع ہوتے ہیں کہ سامنے والی مسجد میں نماز پڑھنے والے کافر ہیں۔ وہ ظہر کے بعد شروع ہوتے ہیں، تو عشا تک ہمیں یقین دلاتے ہیں کہ فلاں مسجد والے کافر ہیں…… اور اتنی قطعی دلیلیں دیتے ہیں کہ مَیں تو قایل ہوگیا کہ یہ واقعی کافر ہیں…… اور مجھے یقین ہے کہ عدالت بھی یقین کرنے پر مجبور ہو جائے گی۔ بس اگلی تاریخ پر فلاں فلاں محلے کے فلاں فلاں مولوی صاحبان کو بھی بلا لیا جائے اور جن 50 آدمیوں کی مدعیت میں پرچا کاٹا گیا ہے، انہیں بھی اگلی پیشی پہ بلا لیا جائے، تو معاملہ ایک ہی تاریخ میں حل ہوجائے گا۔‘‘
اگلی پیشی پر تمام متعلقہ مولویوں کو جو کہ صبح و شام دوسرے فرقے کے لوگوں کو مدلل طور پر کافر قرار دیتے تھے اور پرتاب نے جن کا نام دیا تھا…… باری باری کٹہرے میں طلب کیا گیا۔ مجمع میں سے تمام افراد کو کہا گیا کہ دیوبندی، اہلِ حدیث اور بریلوی الگ الگ کھڑے ہوں۔ بریلوی مولوی سے قرآن پر حلف لیا گیا…… جس کے بعد پرتاب کے وکیل نے اس سے پوچھا کہ دیوبندیوں اور اہلِ حدیث کے بارے میں وہ قرآن و سنت کی روشنی میں کیا کہے گا؟ مولوی نے کہا کہ یہ دونوں توہینِ رسالتؐ کے مرتکب اور بدترین کافر ہیں۔ پھر اس نے دیوبندیوں اور اہلِ حدیث کے بزرگوں کے اقوال کا حوالہ دیا اور چند احادیث اور آیات سے ان کو کافر ثابت کر کے فارغ ہوگیا۔ جج نے پرتاب کے وکیل کے کہنے پر اہلِ حدیث اور دیوبندیوں سے کہا کہ وہ باہر تشریف لے جائیں۔ اس کے بعد دیوبندی اور اہلِ حدیث مولویوں کو یکے بعد دیگرے حلف لے کر گواہی کے لیے کہا گیا۔ دونوں نے بریلویوں کو مشرک ثابت کیا اور پھر شرک کے بارے میں قرآنی آیات اور احادیث کا حوالہ دیا۔ پھر تینوں کو ایک ساتھ بلوایا اور کہا کہ آپ تینوں کا شیعہ کے متعلق کیا خیال ہے؟ تینوں نے مشترکہ طور پر کہا کہ جناب! ہم تینوں اس بات پر متفق ہیں کہ شیعہ ہماری نظر میں پکے کافر ہیں۔
پھر مجسٹریٹ نے سب کو عدالت سے باہر بھیج دیا۔ اس کے بعد پرتاب کے وکیل نے کہا کہ مجسٹریٹ صاحب آپ نے خود سن لیا کہ یہ سب ایک دوسرے کو کافر سمجھتے اور ببانگ دھل کہتے بھی ہیں۔ کافر ہوکر عدالت سے نکل بھی گئے ہیں۔ اب عدالت میں جو لوگ بچتے ہیں، ان میں سے مدعیوں کے وکیل صاحب بھی ان تینوں فرقوں میں سے کسی ایک فرقے کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا یہ بھی کافروں میں سے ہی ہیں۔ باقی جو مسلمان بچا ہے، اسے طلب کر لیجیے، تاکہ کیس آگے چلے۔
یوں مجسٹریٹ نے نتیجتاً کیس خارج کر دیا اور پرتاب کو باعزت بری کردیا۔ ’’پرتاب اخبار‘‘ کو بھی دوبارہ بحال کر دیا۔
یہ دھندا تقسیمِ ہند کے 70 سال بعد بھی جاری وساری ہے۔ اب یہاں ایک لطیفہ بھی سن لیں کہ جس کو ایک غیر معروف شاعر نے باقاعدہ نظم کی شکل میں لکھ کر پڑھا اور سن کر کم از کم میں تو اَش اَش کر اُٹھا۔ اس نظم کا سلیس اردو ترجمہ کچھ یوں ہے کہ گجرات میں ایک شاہ صاحب کے پاس ایک عیسائی آیا کرتا تھا۔ سو کچھ عرصہ بعد شاہ جی نے اس کو اسلام کی دعوت دی، جو قبول کر لی گئی۔ سو عیسائی مسلمان ہوا اور شاہ جی سے اسلام سیکھنا شروع کر دیا۔ چند دن بعد وہ ایک قابلِ عمل مسلمان بن گیا اور بہت مطمئن ہوگیا۔ خدا کی کرنی، اس کو اگلے دن لاہور جانا پڑگیا۔ راستہ میں اس کو گجرانوالہ رکنا تھا۔ سو جوں ہی بس رُکی، اس نے دیکھا مغرب کی نماز ہو رہی ہے۔ سو وہ فوراً مسجد گیا اور جماعت میں کھڑا ہوا…… لیکن جوں ہی ایک نمازی کی نظر پڑی کہ اس نے ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھنی شروع کی، تو نماز ایک طرف رہی اور تمام مسجد ’’کافر، کافر‘‘ کے نعروں سے گونج اُٹھی اور اس کو دفع ہونے کا حکم ملا۔ تب اس نے منت کرکے بتایا کہ جناب! میری غلطی نہیں۔ میں پیدایشی عیسائی تھا اور گجرات میں فلاں شاہ جی نے مجھے ایسے ہی نماز سکھائی ہے۔ اب وہ رُکے اور مولوی صاحب نے اس کو بتایا کہ تم چند دن یہی رکو۔ ہم تم کو ’’اصل اسلام‘‘ بتائیں گے۔ سو انہوں نے اس کو نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ بتایا۔ یوں وہ مطمئن ہوگیا کہ وہ اصل اسلام تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد وہ مولوی صاحب کا شکریہ ادا کرکے لاہور روانہ ہوا۔ اتفاق سے وہ لاہور تب پہنچا جب عشاکی نماز کا وقت تھا۔ وہ پھر جماعت میں کھڑا ہوا اور جوں ہی مولوی نے ’’ولاالضالین‘‘ کہا، تو نومسلم نے گجرانوالہ والے مولوی کے بتائے طریقہ پر اُونچی آواز میں ’’آمین‘‘ کہا۔ بس پھر کیا تھا۔ اس کو پھر مار پڑی۔ پھر اس کو ایک ماہ کا نیا کورس کرنا پڑا۔ اب وہ ایک بار پھر مسلمان ہوگیا…… لیکن جب لاہور سے واپس آیا، تو پھر ایک جگہ مسجد دیکھ کر نماز کے لیے گیا…… لیکن یہ کیا جوں ہی اس نے ہاتھ باندھے، اس کے کانوں میں پھر کافر کی آواز پڑی۔ اس سے پہلے کہ اس کو پھر مار کر ایک بار پھر ’’سچا مسلمان‘‘ بنایا جاتا…… وہ دم دبا کربھاگ گیا۔ گاؤں پہنچ کر اس نے غسل کیا اور سیدھا گرجا جا پہنچا۔
جب شاہ جی کو معلوم ہوا، تو اس کو فوراً طلب کیا اور پھر عیسائی بننے پر استفسار کیا۔ وہ غریب ہاتھ باندھ کر پاؤں پڑگیا اور کہا، شا جی! اﷲ دی جنت واسطے میری دنیا جہنم تے نہ بناؤ۔ مینوں اتھے ہی رہن دیو۔ یومِ قیامت میں جانوں اور آپ کا اﷲ اور میرا یسوع جانے۔
سو یہ ہے اصل حقیقت……!
لیکن مسئلہ یہ نہیں کہ آج 75 سال بعد بھی ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں…… بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم اب عمل اور نظریات میں جنونی ہوچکے ہیں۔ ہمارے اکثر علما نے مسلمانوں کو شیعہ، سنی، وہابی اور دیو بندی میں تو الجھا ہی دیا ہے…… لیکن ایک جنونی سوچ پیدا کر دی ہے۔ وہ اپنے نظریات میں اتنے جذباتی بنا دیے گئے ہیں کہ وہ کسی کی سننے پر تیار ہی نہیں۔
مَیں نے اکثر نوجوانوں کو ہمارے موجودہ علما یا سیاسی قایدین بارے تو گالی دیتے سنا ہی ہے…… لیکن اب تو ہمارے اکابرین، فقہ و شعیریت کے اماموں حتی کہ اصحابِ رسولؐ بارے بھی بدتمیزی کرتے جا رہے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کو بہت دلیری سے کافر و مرتد تک کہہ دیتے ہیں۔ ہم اپنی تحاریر میں درجنوں بار حکومت، اعلا اربابِ اختیار اور سول سوسایٹی کو اس انتہائی خطرناک رجحان بارے آگاہ کرچکے ہیں…… لیکن کسی کو پروا ہی نہیں۔ حکومت کو بے شک ان نوجوانوں کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا ہوگی…… لیکن اس کے ساتھ ہم پھر کہتے ہیں کہ سول سوسایٹی میں موجود دین کی دکان کھولے ان مفاد پرست عناصر کو بھی سیدھا کیا جائے…… جو محض اپنے مفادات کے لیے ہمارے بچوں کو شاہ دولا کا چوہا بناتے جا رہے ہیں…… مگر عجیب اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہم جیسے کچھ محدود طبقے کے علاوہ اس اہم موضوع پر حکومت اور نہ ہماری سول سوسایٹی کو کچھ پروا ہے۔ شاید وہ اس مسئلہ کو کوئی مسئلہ سمجھتے ہی نہیں۔
کاش! حکومت کوئی کمیشن یا کمیٹی تشکیل دے کہ جو ملک کے اندر…… خاص کر دیہی پاکستان میں ایک سروے کرے، تو ان کو معلوم ہوگا کہ یہ جنونیت کا ایٹم بم کس طرح ہر جگہ تیار ہو رہا ہے…… اور کس طرح یہ ملک کی سالمیت اور قوم کی تباہی بن سکتا ہے۔ گستاخی اور توہینِ مذہب کے بہت کم واقعات میڈیا پر آتے ہیں…… لیکن حقیقت میں یہ بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
ہم بحیثیتِ قوم اس نازک مسئلہ پر خوابِ خرگوش کے مزے لے رہے ہیں۔ یہ بے پروائی اور نیند جتنی طویل ہوگی…… ہم اتنے ہی بڑے نقصان کا سامنا کریں گے۔
کیا میری یہ آواز کسی ذمہ دار تک پہنچے گی…… یا پھر ہم بحیثیتِ قوم پاکستان کو 70 کے عشرے کا لبنان بنانے کے انتظار میں رہیں گے۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔