گذشتہ روز مادری زبانوں کا عالمی دن منایا گیا۔ ہم نے اپنی پنجابی زبان سمیت پاکستان میں بولی جانے والی سبھی زبانوں کا تذکرہ بھی کیا۔
پنجابی دنیا کی نویں بڑی زبان ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کی تاریخ تبدیل کرنے والی پہلی زبان بھی ہے۔ دیسی کیلنڈر دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈر میں سے ایک ہے۔ آج ہم انہی دیسی مہینوں کا تعارف اور وجۂ تسمیہ جاننے کے ساتھ ساتھ پنجابی کے کچھ ایسے الفاظ بھی شامل کریں گے جنہیں اب بولتے ہوئے ہم شرما جاتے ہیں۔ ہمارے دیسی مہینوں کے نام بھی ہمیں یاد نہیں، تو ان کا مطلب کیسے یاد ہو سکتا ہے؟ ہمیں اپنی زبان سے پیار کرتے ہوئے اسے بلا جھجک بولنا چاہیے۔
ہمارے دیسی مہینے کچھ یوں ہیں:
٭ چیت/ چیتر (بہار کا موسم)
٭ بیساکھ/ ویساکھ/ وسیوک (گرم سرد، ملا جلا)
٭ جیٹھ (گرم اور لُو چلنے کا مہینا)
٭ ہاڑ/ اساڑھ/ آؤڑ (گرم مرطوب، مون سون کا آغاز)
٭ ساون/ ساؤن/ وأسا (حبس زدہ، گرم، مکمل مون سون)
٭ بھادوں/ بھادروں/ بھادری (معتدل، ہلکی مون سون بارشیں)
٭ اسُو/ اسوج/ آسی (معتدل)
٭ کاتک/ کَتا/ کاتئے (ہلکی سردی)
٭ مگھر/ منگر (سرد)
٭ پوہ (سخت سردی)
٭ ماگھ/ مانہہ/ کُؤنزلہ (سخت سردی، دھند)
٭ پھاگن/ پھگن/اربشہ (کم سردی، سرد خشک ہوائیں، بہار کی آمد)
قارئین! برصغیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس خطے کا ’’دیسی کیلنڈر‘‘ دنیا کے چند قدیم ترین کیلنڈروں میں سے ایک ہے۔ اس قدیم کیلنڈر کا آغاز نصف صدی قبلِ مسیح میں ہوا۔ اس کا اصل نام ’’بکرمی کیلنڈر‘‘ ہے…… جب کہ ’’پنجابی کیلنڈر‘‘، ’’دیسی کیلنڈر‘‘ اور جنتری کے ناموں سے بھی اسے جانا جاتا ہے۔
’’بکرمی کیلنڈر‘‘ کا آغاز 100 قبل مسیح میں اُس وقت کے ہندوستان کے ایک بادشاہ ‘’’راجہ بِکرَم اجیت‘‘ کے دور میں ہوا۔ راجہ ہی کے نام سے یہ بکرمی سال مشہور ہوا۔
اس شمسی تقویم میں سال ’’چیت‘‘ کے مہینے سے شروع ہوتا ہے۔ تین سو پینسٹھ (365) دنوں کے اس کیلنڈر کے 9 مہینے تیس تیس دنوں کے ہوتے ہیں…… اور ایک مہینا ’’وساکھ‘‘ اکتیس دن کا ہوتا ہے۔ دو مہینے جیٹھ اور ہاڑ بتیس بتیس دن کے ہوتے ہیں۔
ہمارے یہ دیسی مہینے انگریزی کی کس تاریخ کو شروع ہوتے ہیں؟ آئیے اب اس بات کا جایزہ لیتے ہیں:
1: 14 جنوری…… یکم ماگھ۔
2: 13 فروری…… یکم پھاگن۔
3: 14 مارچ…… یکم چیت۔
4: 14 اپریل…… یکم بیساکھ۔
5: 14 مئی…… یکم جیٹھ۔
6: 15 جون…… یکم ہاڑ۔
7: 17 جولائی…… یکم ساون
8: 16 اگست…… یکم بھادروں۔
9: 16 ستمبر…… یکم اسوج۔
10: 17 اکتوبر…… یکم کاتک۔
11: 16 نومبر…… یکم مگھر۔
12: 16 دسمبر…… یکم پوہ۔
’’بکرمی کیلنڈر‘‘ (پنجابی/ دیسی کیلنڈر) میں ایک دن کے آٹھ پہر ہوتے ہیں۔ ایک پہر جدید گھڑی کے مطابق تین گھنٹوں کا ہوتا ہے۔ ان پہروں کے نام کچھ یوں ہیں
٭ دھمی/نور پیر دا ویلا: صبح 6 بجے سے 9 بجے تک کا وقت
٭ دوپہر/ چھاہ ویلا: صبح کے 9 بچے سے دوپہر 12 بجے تک کا وقت۔
٭ پیشی ویلا: دوپہر 12 سے سہ پہر 3 بجے تک کا وقت۔
٭ دیگر/ ڈیگر ویلا: سہ پہر 3 بجے سے شام 6 بجے تک کا وقت
٭ نماشاں/ شاماں ویلا: شام 6 بجے سے لے کر رات 9 بجے تک کا وقت۔
٭ کفتاں ویلا: رات 9 بجے سے رات 12 بجے تک کا وقت۔
٭ ادھ رات ویلا: رات 12 بجے سے سحر کے 3 بجے تک کا وقت۔
٭ سرگی/ اسور ویلا: صبح کے 3 بجے سے صبح 6 بجے تک کا وقت۔
لفظ ’’ویلا‘‘ وقت کے معنوں میں برصغیر کی کئی زبانوں میں بولا جاتا ہے۔
پنجابی میں ایک کہاوت بہت کثرت سے بولی جاتی ہے…… خاص کر بزرگ ہمیں سمجھاتے وقت اسے بہ کثرت استعمال کرتے ہیں: ’’ویلے دیاں نمازاں تے کویلے دیاں ٹکراں!‘‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ وقت پر کام کرلیا جائے، تو اسی کا فایدہ ہے…… بعد میں کیا جانے والا کام کسی کام نہیں آتا۔
اس وقت لاہور میں پنجابی زبان کی تریج و ترقی کے حوالہ سے مدثر اقبال بٹ اور میرے استاد جناب جمیل احمد پال صاحب بہت کام کر رہے ہیں۔ پنجابی زبان پر بے تحاشا اور اَن تھک کام ’’پلاک‘‘ کی سربراہ ڈاکٹر صغراں صدف بھی کررہی ہے۔ ایک خاتون ہوتے ہوئے پنجابی زبان کا حق جو انہوں نے ادا کیا ہے…… وہ ہم نہیں کرسکے۔ ایسے افراد ہمارے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہ وہ گوہرِ نایاب ہیں…… جو پنجابی زبان کے لیے اپنا سب کچھ قربان کیے ہوئے ہیں۔ ان کی جتنی بھی قدر کی جائے کم ہے۔ ان لوگوں نے نہ صرف ہمیں احساسِ کمتری سے نکالا ہے…… بلکہ ہماری اس نسل کو بھی یہ سبق سکھایا ہے کہ ماں بولی میں بات کرنا شرمندگی نہیں فخر ہے…… جتنا فخر ہمیں اپنے ماں باپ پر ہے…… اتنا ہی فخر ہمیں اپنی مادری زبان پر بھی ہے۔ اس کا کوئی لفظ برا نہیں۔ یہ وہ بھر پور زبان ہے…… جس کا مطلب سمجھانے میں کوئی دقت نہیں ہوتی اور نہ وقت ہی لگتا ہے۔
پنجابی زبان کو ہمارے سلیبس کا حصہ ہونا چاہیے اور خاص کر پنجاب حکومت پنجابی کے فروغ کے لیے جو عملی اقدامات کر رہی ہے…… وہ بھی لایقِ تحسین ہیں۔
وزیرِ اعلا سردار عثمان بزدار خود بھی علاقائی زبانوں کی ترویج و ترقی چاہتے ہیں۔ انہی کی کاوشوں سے ڈاکٹر صغراں صدف کی زیرِ نگرانی پنجابی زبان کا پہلا سرکاری ٹی وی چینل بھی شروع ہونے جا رہا ہے…… جو نہ صرف پنجاب کی نمایندگی کرے گا…… بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پنجابیوں کی آواز بھی بنے گا۔
’’پلاک‘‘ میں مختلف زبانوں کے ساتھ ساتھ ’’پنجابی‘‘ اور ’’گرمکھی‘‘ بھی سکھائی اور پڑھائی جا رہی ہے۔ اس سے پنجاب حکومت کا پنجابی سے پیار کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ ہم پر بھی یہ ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ ہم اپنی ماں بولی سے پیار کریں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔