حضرت شعیب استاد صاحب ہمارے فارم ماسٹر ہوا کرتے تھے۔ انتہائی شفیق اور سلجھے ہوئے انسان تھے۔ ذہن پر انتہائی زور دیتا ہوں، تو سزا تو دور کی بات ان کا غصہ ہونا بھی یاد نہیں پڑتا۔ خاموش طبع اور حلیم قسم کے انسان تھے۔ ہمیں پڑھاتے ہوئے ان کی کوشش ہوتی کہ بچوں کے کچھ نہ کچھ پلے پڑجائے۔
اُس وقت کے اساتذۂ کرام کی فہرست میں ایک انتہائی اہم استاد صاحب کا ذکر کرنا شاید ماموں خورشید علی استاد صاحب بھول گئے تھے۔ آج جیسے ہی یہ سطور رقم کرنے بیٹھا، تو ذہن میں ایک کوندا سا لپکا اور ماسٹر عمر واحد کا چہرۂ انور آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ماسٹر صاحب نے ہمیں غالباً دوسری جماعت میں ’’آیت الکرسی‘‘ زبانی یاد کرنے میں مدد دی تھی۔ آج ماسٹر صاحب روزنامہ آزادی کے اُس صفحہ میں اپنی نگارشات شایع کرنے کی غرض سے بھیجتے ہیں جس کا راقم عرصہ بارہ تیرہ سال سے مدیر ہے۔ ماسٹر صاحب ’’ٹاک پوائنٹ‘‘ کے سلسلے کے ساتھ مختلف موضوعات پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ اب تک مجرد ہیں۔ کتب، اخبارات و رسایل سے دل بہلاتے ہیں اور ماہانہ دو تین کالم لکھ کر اصلاح معاشرہ کی سبیل نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ماسٹر عمر واحد صاحب آج کل ’’ٹاک پوائنٹ‘‘ کے سلسلے سے اپنی نگارشات چھاپتے رہتے ہیں۔

گورنمنٹ پرایمری سکول ملا بابا (مینگورہ) کے باہر کی دنیا بھی بڑی عجیب تھی۔ مین گیٹ کے پاس ’’ٹاکرے‘‘ نامی ایک مفلوک الحال شخص کھڑا مٹر بیچا کرتا۔ اس کے ساتھ ’’گلاب‘‘ نامی ایک دبلا پتلا سا نوجوان ہتھ ریڑھی میں رکھے ایک درمیانے سایز کے دیگچے میں ’’گونگڑی‘‘ بیچا کرتا۔ ان دونوں کے ساتھ ایک ’’سانگہ‘‘ نامی خاتون بھی وہاں مٹی سے بنی ایک چبوترا نما جگہ پر بیٹھ کر ٹافی، چیونگم وغیرہ بیچتی۔
’’سانگہ‘‘ کی کہانی بڑی دردناک ہے۔ اُس کا ایک بیٹا ’’کٹا‘‘ کے نام سے بہت بڑا غنڈا مشہور ہوا۔ واضح رہے کہ ہمارے بچپن میں جو آدمی ٹِنڈ کروا لیتا تھا، اُسے چھیڑنے کی غرض سے ہم ’’کٹا‘‘ (گنجا) پکارتے تھے۔ شرفا ’’کٹا‘‘ کو دیکھتے ہی راستہ بدل لیتے۔ جب اُس نے لوگوں کا ناک میں دم کرکے رکھ دیا، تو پولیس اُس کے پیچھے پڑگئی۔ ایک دن خبر آئی کہ ’’کٹا‘‘ پولیس مقابلے میں مارا گیا۔ ’’سانگہ‘‘ کا دوسرا بیٹا ’’نوشیروان‘‘ شاید ہم سے ایک آدھ جماعت آگے تھا۔ بعد میں سننے میں آیا کہ وہ پڑھائی درمیان میں چھوڑ گیا تھا۔ ایک دن یہی کوئی دس پندرہ سال بعد جب ہمارا آمنا سامنا ہوا، تو مجھے احساس ہوا کہ نوشیروان بھی اپنے بڑے بھائی ’’کٹا‘‘ کے راستے پر چل نکلا ہے۔
’’سانگہ‘‘ سے ہر چھوٹا بڑا ڈرتا تھا۔ اس کے طبعِ نازک پر جب کوئی بات ناگوار گزرتی، تو دایاں ہاتھ زور سے سینے پر مارتے ہوئے کہتی: ’’خبردار! مَیں کٹا کی ماں ہوں……! وہ درگت بناؤں گی کہ آنے والی نسلیں یاد رکھیں گی۔‘‘ شاید اس لیے اس کے پاس سے پھٹکتے ہوئے، ہم جیسوں کے رونگٹے کھڑے ہوجایا کرتے۔
’’گونگڑی‘‘ بیچنے والا نوجوان ’’گلاب‘‘ اللہ میاں کی گائے تھا۔ اس کا انداز بھی خاصا دلچسپ ہوتا۔ 1985-86ء میں اب جب بہ مشکل اُس کی مسیں ہی بھیگی تھیں، ہر وقت گریباں کھلا رکھتا۔ سر کے پچھلے حصے پر ٹوپی کچھ اس انداز سے رکھی ہوتی کہ آدھے سر کے بال کھلے اور پیشانی پر زُلف پریشاں دکھائی دیتی۔ خاموشی کے ساتھ ایک چونی کے عوض پیالہ بھر’’گونگڑی‘‘ دیتا، جس کے اوپر جنگلی پودینہ (وینلے)، سرخ مرچ اور زردی مایل ہرے رنگ کا مسالا ڈال کر ’’سرو‘‘ (Serve) کرتا۔




گلاب سنہ 1985ء میں اتنا پیالہ ایک چونّی کے عوض دیا کرتا تھا۔ آج کل اس کی قیمت 30 روپے ہے۔ (فوٹو: سحابؔ)

سکول کے گیٹ کے ساتھ سجے اس میلے میں ’’ٹاکرے‘‘ سب سے انوکھا کردار تھا۔ واضح کرتا چلوں کہ ’’ٹاکرے‘‘ کا اصل نام کسی بھی ہم جماعت یا اُس وقت کے اساتذہ کو یاد نہیں۔ ’’ٹاکرے‘‘ کی گھنی داڑھی تھی۔ سر پر ہمہ وقت ٹوپی رکھے، چاہے سردی ہو یا گرمی…… ایک پرانا پھٹا ہوا واسکٹ پہنے، لوہے کی موٹی سلاخوں سے بنی ڈھائی تین فٹ اونچی تپائی پر مٹر سے بھرا تھال رکھے، تپائی میں بنی پاؤں کی جگہ میں کبھی دایاں پاؤں اُٹھائے رکھتے، کبھی بایاں۔ وقفے وقفے سے ہاتھ میں تھامے ہوئے چمچ کو تھال کے خالی حصہ پر دے مارتے، جس سے بچوں کی توجہ ’’ٹاکرے‘‘ اور اس کے لذیذ مٹر کی طرف مبذول ہوجاتی۔
’’ٹاکرے‘‘ بڑا مداری قسم کا بندہ تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ ہمیں گیارہ بجے کی تفریح (بریک یا ریسس) میں کچھ کھانے کے لیے ایک چونّی (پچیس پیسے کا سکہ) دی جاتی تھی۔ بیک وقت چونّی کا مصرف یا تو ’’ٹاکرے‘‘ کا مٹر ہوتا، نوجوان گلاب کا ’’گونگڑی‘‘ کا لبا لب پیالہ…… یا پھر ’’سانگہ‘‘ کے تھڑے کی ٹافی، چیونگم وغیرہ۔ ایسے میں ’’ٹاکرے‘‘ کسی مداری کی طرح ہر روز کوئی نیا ’’ٹرِک‘‘ (Trick) آزماتا۔ جیسے ایک روز اُس نے تفریح کے وقت بچوں کو متوجہ کرنے کی غرض سے آواز دی کہ ’’آئیے، آج اپنی قسمت آزمائیے!‘‘ بچے دوڑے دوڑے چلے آئے، تو ان کے سامنے اپنے واسکٹ کی جیب سے آٹھ دس چونّیوں کے سکے تھال میں ڈال دیے اور اس کے اوپر ڈھیر سارا مٹر ڈال دیا۔ اب ہر بچہ یا بچی اپنی اپنی چونّی ’’ٹاکرے‘‘ کے ہاتھ میں تھماتے ہوئے مٹرمانگتا اور ’’ٹاکرے‘‘ جلدی جلدی دو تین چمچ بھر کر اخبار کے تراشے میں مٹر ڈالتا جاتا۔ بچے ملنے والے مٹر کے اندر انگلیاں ڈالتے کہ شاید قسمت یاوری کرجائے اور چونّی یا اٹھنّی ہاتھ آجائے…… مگر
’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!‘‘
اُس وقت تو خیر ہم بچے تھے…… لیکن آج ’’ٹاکرے‘‘ کا پیترا سمجھ میں آرہا ہے کہ چونّی یا اٹھنّی کا وزن زیادہ ہوتا تھا۔ سکہ مٹروں کے نیچے دب جاتا اور ’’ٹاکرے‘‘ اوپر ہی اوپر تھال سے چمچ بھرتا جاتا۔ اس طرح ’’گلاب‘‘، ’’سانگہ‘‘ اور سکول کے سامنے بیٹھنے والے دیگر خوانچہ فروشوں کا کار و بار ماند پڑ جاتا اور ’’ٹاکرے‘‘ بیس پچیس منٹ کے اندر اندر تھال خالی کرکے لمبا بنتا۔
ہم کہاں ایسے قبول صورت ہیں، مگر ’’ٹاکرے‘‘ کی شکل و صورت ہم سے بھی گئی گزری تھی۔ اس لیے بچے ایک دوسرے کو چھیڑتے وقت ’’ٹاکرے‘‘ نام کا استعمال کرتے اور جس لڑکی کو چھیڑنا مقصود ہوتا، تواُسے ’’سانگہ‘‘ کَہ کر مخاطب کیا جاتا۔ مَیں چوں کہ بڑا "Haptic” قسم کا بچہ تھا، اس لیے ہم مکتب ساتھیوں کو مذکورہ ناموں سے پکارنے کی وجہ سے اساتذۂ کرام کی طرف سے گوش مالی بھی ہوتی رہتی۔ کئی بار تو تشریف پہ اساتذہ کی لات شریف بھی رسید ہوتی دیکھی۔
رواں صدی کے آغاز میں جب ہم نوجوان کہلانے کا شرف حاصل کربیٹھے، تو ہمارے ایک ہم عمر محلے دار کا نام ’’ٹاکرے‘‘ پڑگیا۔ پہلے پہل تو موصوف جواباً گالی دینے پر اکتفا کرتا……مگر جب دوستوں نے موصوف کا ’’ٹاکرے‘‘ کے نام سے ناک میں دم کرکے رکھ دیا، تو بات تُو تُو مَیں مَیں سے جوتی لات تک پہنچ گئی۔ اِس وقت یہ سطور رقم کرتے ہوئے سینے میں دھکڑ پکڑ جاری ہے کہ اگر ’’ٹاکرے‘‘ کے ہاتھ یہ تحریر لگ گئی، تو پتا نہیں کہ اگلی قسط لکھنے کے لیے انگلیاں سلامت بھی ہوں گی کہ نہیں……!
Let’s Hope for the Best!
(جاری ہے)
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔