122 total views, 1 views today

یکم جنوری 1981ء کو یہ سطور رقم کرنے والا حضرتِ امجد علی سحابؔ محلہ وزیرِ مال مینگورہ میں فضل رحمان کے ہاں آٹپکا۔ والدہ ماجدہ فرماتی ہیں: ’’بیٹا! جیسے ہی تو پیدا ہوا، تو اتنا کم زور تھا کہ اللہ بخشے تیری نانی اماں نے تجھے دیکھتے ہوئے فرمایا، ارے بیٹی! اک آدھ ہفتہ صبر کرلیتے ہیں۔ نومولود کافی کم زور ہے۔ اس کے بچنے کے چانسز نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ مَیں اس کی پیدایش کی خوشی میں تقریب کا اہتمام کروں اور روح پسلیوں کے اس نازک سے پنجرے کی قید سے آزاد ہوکر پرواز کرجائے۔‘‘
والدہ ماجدہ کہتی ہیں: ’’احتجاجاً جب دو موٹے موٹے آنسو میرے گالوں پر پھسلتے ہوئے نانی (مرحومہ) نے دیکھے، تو اُنہیں پسپا ہونا پڑا۔ یوں بڑی دھوم دھام سے تیرے آدھمکنے کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا گیا۔‘‘
والد کے چچا زاد گلیار المعروف نانا کہتے ہیں: ’’یار! تیری پیدایش پر تیرے سگے باپ کو اتنی سی توفیق نہ ہوئی کہ خوش خبری دینے والے تیرے چچا کے ہاتھ ایک چونّی ہی تھما دیتے، اُلٹا اُسے تشریف میں ایک لات رسید کرتے ہوئے واپس بھیجا کہ کون سا انقلاب بپا ہوا کہ تو ڈھول پیٹے جا رہا ہے۔‘‘
قارئینِ کرام! زیرِ نظر تحریر میں کوشش کی جائے گی کہ 90ء کی دہائی کے مینگورہ شہر پر روشنی ڈالی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے شاید سب سے پہلے راقم کے ٹپکنے کا سانحہ بیان کرنا ضروری تھا۔ اگر زندگی نے وفا کی، تو تحریر قسط وار ہوگی اور کوشش کی جائے گی کہ غیر ضروری باتوں اور ’’مبالغہ آرائی‘‘ سے بطورِ خاص پہلو تہی کی جائے۔ اور پشتو کہاوت ’’د پش نہ پشم خان جوڑول‘‘ کے مصداق ’’ذرّے کو آفتاب‘‘ بنانے سے اجتناب کیا جائے۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے میرے ماموں خورشید علی (جو اُس وقت ’’پی ٹی سی‘‘ پوسٹ پر تھے، اَب ایس ایس ٹی کے طور پر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول حاجی بابا میں فرایضِ منصبی انجام دے رہے ہیں اور سُبک دوشی کے قریب ہیں) مجھے چار سال کی عمر میں اپنے ساتھ گورنمنٹ پرایمری سکول ملابابا یہ کَہ کر لے جایا کرتے کہ ایک سال داخلے کے بغیر سکول آتا جاتا رہے گا، تو کچھ پلے پڑجائے گا۔ ایک سال بعد یعنی 1986ء کو مجھے مذکورہ سکول میں ادنا جماعت میں داخل کرایا گیا۔ ادنا میں پڑھنے والے بچوں کو کمرے کی سہولت میسر نہیں تھی۔ اس لیے برآمدے میں بوری نماٹاٹ پر بیٹھنا پڑتا۔ ہمیں زندگی کا پہلا درس دینے والے عبدالوہاب استاد صاحب تھے جو سکول کے پاس ہی مکان باغ (مینگورہ) کی گلیوں کے اندر رہایش پذیر تھے۔ ان کے ایک بیٹے کا نام ساجد ہے، جو ہمارا ہم جماعت تھا۔ غالباًجاوید ان کے سب سے بڑے بیٹے کا نام ہے۔ سو فی صد یقین کے ساتھ تو نہیں کَہ سکتا مگر جتنا مجھے یاد پڑتا ہے، جاوید ’’مینگورہ کرکٹ کلب‘‘ (ایم سی سی) کی طرف سے فاسٹ باؤلر کے طور پر کھیلا کرتا تھا۔
استادِ محترم خورشید علی کے بقول: ’’سنہ 1984ء میں، مَیں نے پرایمری سکول ملابابا (مینگورہ) میں چارج سنبھالا۔ اس وقت سکول کے ہیڈ ماسٹر خیر محمد صاحب ساکن سیدو شریف تھے۔ دیگر اساتذہ میں سب سے سینئر شاہِ روم فتح خان خیل ساکن عثمان آباد (مینگورہ) تھے۔ اس طرح فضل حکیم (مرحوم) ساکن امانکوٹ، احمد علی ساکن گل کدہ نمبر ایک، احمد علی کے بھائی طالع زر (مرحوم)، فضل عزیز (مرحوم) ولد مولانا حسن الماب ساکن ڈن محلہ (مینگورہ)، خورشید علی میرخیل ساکن تاج چوک (مینگورہ)، محمد اسماعیل ساکن سیدو شریف، محمد ایوب خان ولد محتاج استاد صاحب (مرحوم) ساکن محلہ بنڑ (مینگورہ)، حضرت شعیب ساکن سنگوٹہ، نذیر احمد ساکن مانیار، فلک ناز ساکن تختہ بند، حسین علی ساکن محلہ ملکانان (مینگورہ)، علی رحمان ساکن محلہ مُت خیل امانکوٹ (مینگورہ)، فضل ودود ساکن سیدو شریف، خوئیداد ’’تھیالوجی ٹیچر‘‘ (ٹی ٹی) ساکن پٹھانے (مینگورہ)، مدد خان ساکن بلوگرام، اقبال حسین بوستان خیل ولد سرفراز خان ڈرل ماسٹر (مرحوم) ساکن ڈبہ مسجد مین بازار (مینگورہ) اور کلاس فور دلفروز (مرحوم) ساکن سنگوٹہ سٹاف کا حصہ تھے۔‘‘




گورنمنٹ پرایمری سکول ملا بابا کے سنہ 1985ء کے سٹاف کی باجماعت تصویر۔ (بہ شکریہ خورشید علی)

ادنا جماعت میں میرے ساتھ پڑھنے والوں میں سید شفیق عزیز ساکن میاگانو محلہ گلشن چوک (مینگورہ، خیر سے پشاور الیکٹرک سپلائی کارپوریشن میں سب ڈویژنل آفیسر ہیں)، ملک زادہ ساکن ڈَن محلہ (مینگورہ، حال اٹلی)، کریم اللہ (ایلفی کارخانے والا) ساکن حیات آباد (مینگورہ)، ملک شاہد ولد ملک اکبر خان ساکن ملک آباد، مکان باغ (مینگورہ)، عمر حیات (ٹیلر ماسٹر) ساکن ملا بابا (مینگورہ)، خالد (سلائی کڑائی کا ماہر) وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ سید شفیق عزیز کے پیچھے چوتھی جماعت تک سرپٹ دوڑ لگائی، مگر اس چیتے سے اوّل پوزیشن چھیننا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ خدا بخشے، ہمارے دو ہم جماعت ’’سکندر‘‘ اور ’’دلاور‘‘ جو چچا زاد بھی تھے، مینگورہ خوڑ میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے تھے۔

وہ ہم جماعت دوست جن کی تصاویر سوشل میڈیا کے ذریعے ہاتھ آئیں۔ 1) سید شفیق عزیز۔ 2) ملک زادہ۔ 3) ملک شاہد۔

گورنمنٹ پرایمری سکول ملا بابا کی اُس وقت کی عمارت کی اپنی الگ شان تھی۔ اس کے عین وسط میں چنار کا ایک بڑا درخت کچھ اس طرح کھڑا تھا کہ اس کی شاخیں گرمی میں پورے سکول کو سورج کی تیز کرنوں سے بچانے میں گویا چھت کا کام دیتیں۔ کمروں کی کمی کی بنا پر مذکورہ درخت کے گرد تین، چار مختلف کلاسوں کو شمالاً، جنوباً، شرقاً اور کبھی کبھار غرباً بھی اس طرح بٹھایا جاتا کہ طلبہ و طالبات کے پشت دیو نما درخت کے تنے کی طرف ہوتے اور ان کے سامنے تختہ سیاہ لکڑی کے سٹینڈ میں رکھا دیکھنے کو ملتا۔
90ء کی دہائی میں ملابابا میں پانچویں جماعت تک طلبہ و طالبات کو ایک ساتھ پڑھایا جاتا تھا۔ گرلز پرایمری سکول نہ ہونے کی بنا پر اب بھی شاید لڑکیاں وہاں پڑھتی ہیں۔ اولین چار جماعتیں ملا بابا میں پڑھنے کے بعد میرے نانا (ر) ہیڈ ماسٹر غلام احد مجھے اپنے ساتھ پرایمری سکول شاہدرہ وتکے لے گئے۔ پانچویں جماعت سے دسویں تک مَیں اُدھر ہی پڑھتا رہا۔
ملا بابا کے پرایمری سکول میں 90ء کی دہائی میں ریاض احمد استاد صاحب تقریباً پورے سکول کے آئیڈیل تھے۔ مجھے آج بھی ان کی شخصیت یاد ہے۔ میانہ قد، ہنستا چہرہ، چھدری داڑھی، گھنے بال، چوڑی پیشانی، نرم لہجہ، سادہ مگر صاف لباس (شلوار قمیص) زیبِ تن کرتے۔ ’’رے بن‘‘ (Ray-Ban) برانڈ کا چشمہ لگاکر جیسے ہی سکول میں داخل ہوتے، تو ہمیں ہالی ووڈ کے سُپر سٹار ’’سلور سٹالون‘‘ (Sylvester Stallone) جیسے دِکھتے۔ دونوں میں فرق صرف یہ تھا کہ ریاض استاد صاحب شلوار قمیص میں ملبوس ہوتے اور ’’سلویسٹر سٹالون صاحب‘‘ پینٹ شرٹ میں…… ریاض استاد صاحب کی چھدری داڑھی تھی جب کہ ’’سلویسٹر صاحب‘‘ کا چہرہ صفا چٹ ۔ آج ٹھیک 30، 35 سال بعد سکول جاتے وقت جب ’’رے بن‘‘ برانڈ کا چشمہ لگاتا ہوں، تو ریاض استاد صاحب کی یاد ضرور آتی ہے۔
شاہِ روم فتح خان خیل وہ دوسرے ٹیچر ہیں، جو اَب تک یاد ہیں۔ اُس وقت کوتاہ قد تھے۔ اچھے تن و توش کے مالک تھے۔ گھنی مونچھ، روشن آنکھیں، گنج کی وجہ سے چہرے کی حد آدھی کھوپڑی تک پہنچ چکی تھی۔ان کے پڑھانے کا اپنا ایک انداز ہوتا تھا۔ آتے ہی جماعت میں کسی ایسے بچے کی تلاش میں رہتے، جو یا تو سویا ہوتا، یا اونگھ رہا ہوتا۔ شاہِ روم صاحب نپے تلے انداز میں اُس کی گردن پر ایسا تھپڑ رسید کرتے کہ بندے کو تکلیف بھی نہ ہوتی اور اُس کے سر پر پڑی ہوئی سکول کی مخصوص کالی ٹوپی (جس کے اگلے حصے پر سرخ کپڑے کا ایک مربع نما ٹکڑا سِیا گیا ہوتا) اُڑ کر چار پانچ فٹ آگے گرتی۔ ساتھ ہی استاد صاحب تھپڑ کھانے والے بچے کو مخاطب کرتے: ’’الکہ غلام سیٹھا! کلاس کی بہ اودہ نہ کینے!‘‘ (اُو غلام سیٹھ! کلاس میں سونا بالکل نہیں!) ’’غلام سیٹھ‘‘ ایک طرح شاہِ روم استاد صاحب کا تکیۂ کلام تھا۔ یوں سکول کے طلبہ میں اُن کا نام ’’غلام سیٹھ استاد صاحب‘‘ پڑگیا۔
یادش بخیر! ایک دفعہ لیٹ ہوئے۔ بچوں نے کلاس سر پر اٹھا رکھی تھی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب آئے اور بچوں کو خاموش کرتے ہوئے پوچھا: ’’کس کی کلاس ہے؟‘‘ میں سیدھا کھڑا ہوا اور سینہ تان کر جواب دیا: ’’ہیڈ ماسٹر صاحب! کلاس غلام سیٹھ استاد صاحب کی ہے!‘‘ اگلے لمحے ’’کارٹون مووی‘‘ کی طرح مجھے اپنے سر کے گرد دو تین پرندے ایک چھوٹے سے گول دایرے میں اُڑتے ہوئے محسوس ہوئے۔ بعد میں ہم مکتب ساتھیوں نے یہ گتھی یوں سلجھائی کہ ’’غلام سیٹھ استاد صاحب‘‘ کا نام میرے منھ سے نکلنا تھا کہ دوسرے ہی لمحے ہیڈ ماسٹر صاحب کا ڈیڑھ کلو کا ہاتھ میرے ’’چہرۂ انور‘‘ کا ’’نور‘‘ وقتی طور پر ہوا میں تحلیل کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔وہ تو اچھا ہوا کہ ہاتھ بالی ووڈ فلموں کے اداکار سنی دیول کا نہیں تھا، جن کا دعوا ہے کہ ان کا ڈھائی کلو کا ہاتھ جب کسی پر پڑتا ہے، تو آدمی اٹھتا نہیں، اُٹھ ہی جاتا ہے!       (جاری ہے)
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔