مولوی بادشاہ گل کی پیدائش 1915ء کے آس پاس بحرین میں ہوئی تھی۔ بحرین اُس وقت مقامی طور پر ’’بھونال‘‘ کہلاتا تھا اور پشتو بولنے والے اس کو ’’برانیال‘‘ کہتے تھے۔ بہت کم عمری میں یتیم ہوئے، تو اپنے چچاؤں کی کفالت میں آگئے۔ انہوں نے حصولِ علم کے لیے اپنے بھتیجے کو سوات خوازہ خیلہ کے علاقہ شالپین کی ایک مسجد میں داخل کرایا۔ پھر وہ ایک مسجد سے دوسری اور دوسری سے تیسری تبادلہ کرتے کرتے بڈھ بیر (پشاور) پہنچ گئے۔ وہاں کچھ عرصہ پڑھنے اور ساتھ ساتھ محنت مزدوری کرنے کے بعد اپنے ماموں قاضی عبدالرشید (حاجی عبدالکریم صاحب کے والد) کے ہمراہ ہندوستانی ریاست ’’رام پور‘‘ چلے گئے…… جہاں انہیں بہت اچھے اچھے اساتذہ سے فیض حاصل کرنے کا موقع ملا۔ انہوں نے اُردو بولنے والے ان اساتذہ سے نہ صرف اُردو بولنا سیکھا بلکہ صحیح املا اور گرامر کے ساتھ لکھنے کی قدرت بھی حاصل کی۔ اس زمانے میں بچوں کی خوشخطی پر خصوصی توجہ دی جاتی تھی۔ اس لیے وہ نہایت خوشخط لکھتے۔ اسی دوران میں انہوں نے فارسی اور عربی پر بھی مناسب مہارت حاصل کی اور وہ تمام کتابیں پڑھیں جو درسِ نظامی کے نصاب میں شامل تھیں۔ 1930ء کی دہائی کے اواخر میں ہندوستان سے واپس ہوئے، تو اس وقت سوات کوہستان ’’میانگل عبدالودود المعروف بادشاہ صاحب‘‘ کی عمل داری میں آچکا تھا…… سوائے تحصیلِ کالام کے۔
سوات میں رسمی تعلیم کا آغاز 1922ء کو ودودیہ پرائمری سکول کی صورت میں ہوا۔ یہ وہ وقت تھا جب بادشاہ صاحب کی حکومت کو قائم ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا تھا۔ یہی سکول اگلے 18 سال میں ترقی کرکے 1940ء میں ہائی سکول بنا…… لیکن اس وقت تک باقی سوات کے بڑے بڑے گاؤں ابھی رسمی تعلیم سے نابلد تھے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ والئی سوات کے مقابلے میں ان کے والد بادشاہ صاحب کو تعلیم سے زیادہ اپنی ریاست کو وسعت اور استحکام دینے میں دلچسپی تھی۔
مولوی بادشاہ گل نے اپنے گاؤں میں ایک غیر رسمی سکول کی بنیاد ڈالی اور ماہانہ 8 آنے ٹیوشن فیس مقرر کی۔ بعض طالب علم یہ فیس ’’دانوں‘‘ (غلہ) کی شکل میں دیتے تھے۔ یہ سکول گاؤں کے مختلف جگہوں میں منتقل ہوتا رہا۔ اس وقت کے طلبہ میں سے چٹے خان بحرین، سعداللہ جان زوڑکلے اور خان بہادر درولئی اور ان کی عمر کے دوسرے بچے شامل تھے۔
یہ وہ وقت تھا جب مدین تا بحرین ابھی سڑک نہیں بنی تھی۔ سفر پیدل کیا جاتا تھا اور باربرداری کے لیے گھوڑوں اور خچروں کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اسی دوران میں غالباً 1945-46ء کو ایک دن مولوی صاحب کو معلوم ہوا کہ والئی سوات میاں گل جہانزیب (جو اس وقت ولی عہد تھے اور آگے چل کر 1949ء میں والئی سوات بنے) براستہ بحرین سرہ کاڑ (بڈئی سے اوپر پہاڑی علاقے) کا دورہ کرنے آرہے ہیں اور ان کے ساتھ ریاستِ سوات کے افسران بھی ہیں۔ اس وقت بادشاہ صاحب کی خواہش تھی کہ وہ پڑوسی علاقہ انڈس کوہستان پر بھی قبضہ کریں…… لیکن انگریزوں کی طرف سے پابندی کی وجہ سے بشام کا راستہ استعمال نہیں کرسکتے تھے اور قریبی راستہ مانکیال کے پاس بڈئی اور سرہ کاڑ سے ہوکر جاتا تھا۔ مولوی صاحب نے اس موقع کو غنیمت جانا اور اپنے شاگردوں کو تیار کرکے والی صاحب کے استقبال کے لیے کھڑا کیا۔ بختیار خان (بحرین) کے مطابق انہوں نے بچوں کو کئی دن پہلے سے تیار کروایا اور اس سلسلے میں انہوں نے بچوں کو ایک خاص قسم کی یونیفارم پہنائی، تاکہ طلبہ کی طرف سے استقبال کا اچھا تاثر ہو۔ انہیں دو ررویہ کھڑا کرکے خیرمقدمی نعرے سمجھائے اور ایک درخواست اس مضمون کے ساتھ لکھ کر دی کہ ’’جناب والا! ہمیں تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق ہے…… لیکن سکول نہ ہونے کی وجہ سے ہم پڑھنے لکھنے سے قاصر ہیں۔ ہمارے لیے سکول (جسے اس وقت مدرسہ کہا جاتا تھا) کا بندوبست کیا جائے۔‘‘
کہا جاتا ہے کہ بچوں کی طرف سے وہ درخواست مرحوم شاہنواز نے والی صاحب کو پیش کی تھی جسے پڑھ کر انہوں نے پوچھا کہ مدرسہ نہیں ہے، تو یہ درخواست کیسے اور کس نے لکھی ہے؟ بچوں نے اپنے استاد مولوی بادشاہ گل کی نشان دہی کی جسے فوری طور پر والی صاحب کے سامنے بلایا گیا۔ والی صاحب نے مولوی صاحب سے تصدیق کرائی کہ واقعی وہ درخواست انہوں نے لکھی ہے؟ تو وہی کھڑے کھڑے ان کا بطورِ استاد تعین کرانے کا حکم جاری کیا گیا۔ کچھ دن بعد مولوی صاحب کو تقرر کا سرکاری حکم نامہ بھی ملا…… جس میں ان کی تنخواہ روپوں کی بجائے خریف اور ربیع کی فصلوں سے اناج کی صورت میں مقرر کی گئی۔
والی صاحب نے بچوں کی خیرمقدمی کارروائی سے خوش ہوکر انہیں کچھ رقم انعام کے طور پر دی جسے (مرحوم شاہنواز بھائی کے مطابق) سب نے اپنے استاد محترم کو دے دیا کہ وہی اس پوری تحریک کے محرک تھے۔ ان بچوں میں حاجی میاں شیر، حاجی شہزاد گل، عبدالحق (کمبلئی)، عبدالودودماسٹر وغیرہ شامل تھے۔ مولوی صاحب اپنے تعین کے بعد اور سرکاری سکول کی عمارت کی تعمیر مکمل ہونے تک بچوں کو حسبِ سابق گاؤں کی کسی منڈی (یعنی بڑے اور کھلے کمرے) میں پڑھاتے رہے۔ اورجب 1947ء کو بحرین میں پہلے سرکاری پرایمری سکول کا آغاز ہوا، تو اس کی عمارت سڑک کے کنارے (موجودہ انذر ہوٹل اور اس کے پیچھے کی اراضی) بنی اور مولوی صاحب نے بچوں کو پڑھانا شروع کیا۔
10 یا 15 سال بعد جب بحرین تک سڑک بنی اور گاڑیوں کی آمدو رفت شروع ہوئی، تو لوگوں کو بچوں کی حفاظت کی فکر لاحق ہوگئی۔ کیوں کہ اس وقت کے لوگ گاڑیوں کی طرف سے کچھ زیادہ ہی فکرمند ہوتے تھے۔ سکول موجودہ جگہ منتقل ہوئی، تاکہ بچے گاڑیوں کے نیچے کچلے جانے سے محفوظ رہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تعداد بڑھتی گئی جو زیادہ تر غیر مقامی ہوتے تھے۔ مولوی صاحب کو مدرس اسلامیات (ٹی ٹی یا تھیالوجی ٹیچر) کی پوسٹ پر رکھا گیا، لیکن وہ عملی طور پر فارسی، عربی اور اُردو بھی پڑھاتے تھے۔ کیوں کہ بعد ازاں سکول کو لویر مڈل، مڈل اور پھر ریاست سوات کے پاکستان میں انضمام کے سال یعنی 1969ء کو ہائی سکول کا درجہ دیا گیا۔ وہ اسی پوسٹ پر 38 سال تک پڑھانے کے بعد 1984ء میں سُبک دوش ہوئے۔
مولوی بادشاہ گل محض ایک استاد ہی نہیں بلکہ سکول کے اہم معاملات میں فیصلہ کن رائے بھی رکھتے تھے۔ کیوں کہ وہ سکول ہیڈماسٹر اور اساتذہ کے ساتھ مکمل تعاون کرنے والے اور سکول کو درپیش مسائل کو حل کرنے والے تھے۔ تعلیم کے سلسلے میں علاقے کے بچوں کی حوصلہ افزائی کرتے اور نادار طالب علموں کی اپنی بساط کے مطابق مدد بھی کرتے۔ داخلہ کے وقت وہ بعض ان بچوں کے ناموں میں ترمیم یا تبدیلی بھی کرتے جو ناشائستہ یا نامناسب ہوتے۔ ان سے پڑھے ہوئے طالب علموں کی تعداد یقینا ہزاروں میں ہے جو اُن سے جسمانی سزا کھانے کے باوجود ان کا بہت احترام کرتے تھے۔ وہ ہروقت علاقے کی تعلیمی ترقی کے بارے میں سوچتے رہتے۔ بقولِ محمدگل صوبیدار صاحب (کیدام) مولوی صاحب نے چھم گھڑی میں بھی سکول قائم کرنے کے لیے درخواست لکھی تھی اور وہاں کے کسی مقامی آدمی کے ذریعے حکام تک پہنچائی تھی۔
1985ء میں ریٹایرمنٹ کے اگلے سال وہ حج کرکے آئے، تو اسی سال یعنی 6 اگست 1986ء کو اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔
مولوی صاحب کے غیررسمی درس گاہ کے اولین طلبہ میں سے آج کوئی بھی زندہ نہیں…… لیکن ان کی کوششوں سے قائم گورنمنٹ پرائمری سکول بحرین کے ابتدائی 8، 10 سال کے کئی طالب علم آج بھی بقیدِ حیات ہیں۔ وہ سب اس بات کے معترف ہیں کہ مولوی صاحب نے ایک ایسے وقت علاقے کی تعلیمی پس ماندگی دور کرنے کی کوشش کی…… جب دور دور تک تعلیم یافتہ افراد ناپید تھے۔ وہ آج ہم میں موجود نہیں لیکن وہ ادارے نہ صرف موجود ہیں…… بلکہ پھل پھول رہے ہیں۔
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔