ڈاکٹر سلطان روم صاحب کا 26 دسمبر کو شائع ہونے والا نیا کالم ’’ہمارے لکھاری اور تاریخ 3‘‘ نظر نواز ہوا۔ میرا خیال تھا کہ اس موضوع پر میں آئندہ قلم نہیں اٹھاؤں گا لیکن ڈاکٹر صاحب نے ایک بار پھر میرے بارے میں کچھ نِکات ایسے اٹھائے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے۔
میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب ایک نہایت مصروف انسان ہیں اور وہ اپنے اصل علمی اور تحقیقی کاموں میں ہی ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں لیکن وہ جس طرح نان ایشوز کو ایشوز بنانے پر تلے ہوئے ہیں، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے پاس وقت کی کوئی کمی نہیں۔ وہ شاید ہر وقت یہی سوچتے رہتے ہیں کہ اپنی ’’اَنا‘‘ کی تسکین کی خاطر کس کو مطعون کریں اور اپنی ذاتی پسند ناپسند کس پر ٹھونسیں اور اگر کوئی ان کا پسندیدہ راستا اختیار نہ کرے، تو تاریخ کی درستی کے نام پر غیرمہذب اور ناشائستہ انداز میں کس کو کس طرح بے وقار کریں۔
یہ درست ہے کہ ڈاکٹر صاحب میرے لیے استاد کا درجہ رکھتے ہیں اور مَیں نے اپنے گزشتہ کالم میں اس بات کا خیال رکھا ہے لیکن انھوں نے جہاں میرے بارے میں تحقیر پر مبنی الفاظ استعمال کیے ہیں، مَیں نے ان کے جواب میں محض ردِ عمل کے طور پر کچھ لکھا ہے۔ اگر صحیح جواب دینا مقصود ہوتا، تو ظاہر ہے وہ بہت سخت ہوتا۔
مجھے ڈاکٹر صاحب کی اس بات سے شدید اختلاف ہے جس کے تحت وہ لکھتے ہیں کہ ’’مؤرخ کا کام خدائی فوج دار بننا ہی ہے‘‘ جی نہیں، مؤرخ کا کام خدائی فوج دار بننا نہیں ہے اور نہ تاریخ کو اسی زعم میں مسخ کرنا ہی ہے۔ خدائی فوج دار کا مطلب یہ ہے کہ ’’ہربات میں ٹانگ اَڑانے والا آدمی، زبردستی لوگوں کی اصلاح کرنے والا‘‘ اب بھی اگر ڈاکٹر صاحب خود کو خدائی فوج دار سمجھتے ہیں، تو ان کی مرضی۔
ان کا دوسرا نکتہ یہ ہے کہ ’’اگر برخوردار اس کو اپنی شان میں گستاخی نہ سمجھے، تو کیا وہ یہ بتانا پسند کریں گے کہ ان کے خیال میں مؤرخ کو صرف اُن کے اور اُن کے ممدوحین کے ضمن میں خدائی فوج دار بننا زیب نہیں دیتا…… یا یہ ایک اصول ہے ؟‘‘
مَیں نے اپنے پچھلے کالم میں وضاحت کی ہے کہ چھپے ہوئے مواد پر تنقید کوئی بھی کرسکتا ہے اور اس حق سے کسی کو محروم نہیں کیا جاسکتا لیکن تنقید برائے تنقیص یا تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے۔ تنقید برائے اصلاح ہونی چاہیے جس کے لیے ضروری ہے کہ لکھنے والے کا قلم تہذیب اور شائستگی کے دائرے کے اندر ہو۔ لیکن بعض لوگ تنقید کے نام پر اپنی اَنا اور ذاتی اختلاف کے باعث دوسروں کی دل آزاری اور توہین کا سبب بنتے ہیں۔ جن ممدوحین کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے، ڈاکٹر صاحب کا اصل غصہ اسی بات پر ہے کہ مَیں نے ان کی کتاب کا ترجمہ کیوں کیا ہے؟ ان کے ذاتی ای میل میں انھوں نے مجھے اس بات پر خوب لتاڑا ہے اور مَیں نے انھیں جواب دیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب! مَیں نے تو ایک کتاب کا ترجمہ کیا ہے۔ ایک علمی اور ادبی کام کیا ہے، کوئی جرم تو نہیں کیا ہے کہ آپ اتنے سخت الفاظ میں مجھے مخاطب کر رہے ہیں او ر ضروری نہیں کہ ترجمہ شدہ کتاب کے حرف حرف سے میرا اتفاق ہو۔ تاہم کتاب کا بیشتر حصہ ایسے خیالات پر مشتمل ہے جس سے مجھے اتفاق ہے اور میرے لیے متاثر کن ہے اور یہ ترجمہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ اس میں لکھے گئے خیالات اور مندرجات پر ایک مثبت بحث اور باہمی مکالمے کا آغاز ہو۔
ڈاکٹر صاحب نے مجھ پر لکھے گئے اپنے ایک کالم ’’راہی اور طعنے ‘‘ کا حوالہ دیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے یہ کالم میرے بارے میں اس وقت لکھا تھا جب سوات کے ایک بزرگ لکھاری اور شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت نے ان کی کتاب ’’ریاستِ سوات‘‘ (1915ء تا 1969ء) پر لکھے گئے میرے ایک کالم کے جواب میں انھیں تنقید و تنقیص کا ہدف بنایا تھا اور مَیں اس معاملے میں ڈاکٹر صاحب کے دفاع میں باقاعدہ مورچہ زن ہوگیا تھا اور اس کے نتیجے میں مجھ پر بھی تنقید کے نشتر چلائے گئے تھے جس کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے میرے بارے میں مذکورہ کالم لکھا تھا۔ (اگرچہ شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو جب مَیں نے ان کی تنقید کا مدلل جواب دیا، تو انھوں نے بعد میں مجھ سے باقاعدہ معافی مانگی تھی۔) ڈاکٹر صاحب نے مجھے اس مضمون کی جو کاپی دی تھی، نہ مَیں اس پہ جھپٹ پڑا تھا اور نہ میرا کوئی ایسا خیال ہی تھا کہ کوئی اسے چھین لے گا۔ کیوں کہ مَیں نے کبھی یہ دعوا نہیں کیا ہے کہ میں کوئی عالم فاضل شخص ہوں یا مَیں کسی احساسِ کم تری کا شکار ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کا لکھا ہوا کالم میری شخصیت میں کوئی چار چاند لگائے گا۔ اُس وقت مَیں نے ڈاکٹر صاحب کے اس کالم ’’راہی اور طعنے ‘‘ پر سوال اس لیے نہیں اٹھایا تھا کہ انھوں نے میرے بارے میں جو کچھ لکھا تھا، اس میں انھوں نے دشنام سے کام نہیں لیا تھا، وہ تو انھوں نے میرے حق میں اس لیے لکھا تھا کہ ان کے دفاع کی وجہ سے مجھ پر تنقید کی گئی تھی۔ اِس وقت مجھے ڈاکٹر صاحب کی تنقید کا کوئی قلق نہیں ہے، مجھے تو دُکھ اس بات کا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا طرزِ تحریر ان کی علمی شان کے مطابق نہیں ہے۔ انھوں نے میرے بارے میں غیر مہذب اور دل آزار الفاظ استعمال کیے ہیں۔ انھوں نے مضامین کے اس سلسلے کی پہلی قسط میں بھی میری کتاب ’’وادئ سوات میں جو ہم پہ گزری‘‘ پر تنقید کی تھی لیکن چوں کہ اس میں توہین کا کوئی پہلو موجود نہیں تھا، تو مَیں نے اس کا جواب نہیں دیا تھا۔
ڈاکٹر سلطان روم صاحب کے علاوہ میرے بارے میں کئی لوگوں نے توصیفی کالم اور مضمون لکھے ہیں اور سچی بات یہ ہے کہ میرے پاس اب ان میں سے کوئی کالم یا مضمون موجود نہیں۔ کیوں کہ مَیں نے کبھی اس بات کو اتنی اہمیت نہیں دی ہے کہ کوئی میری تعریف میں رطب اللسان ہو لیکن ڈاکٹر صاحب چوں کہ میرے لیے نہایت محترم تھے اور ہیں، اس لیے مَیں ان کی تحریر کو اہمیت دیتا ہوں۔ جب مَیں روزنامہ ’’آزادی‘‘ کا صفحہ ایڈیٹ کرتا تھا، تو کسی مضمون میں اگر کوئی میرے بارے میں تعریفی لفظ لکھتا، تو مَیں اسے حذف کرتا تھا۔ تصدیق اقبال بابو مرحوم کے ایک مضمون کے علاوہ مَیں نے اپنے بارے میں ’’آزادی‘‘ کے ادارتی صفحہ پر کوئی مضمون شائع نہیں کیا تھا اور وہ مضمون بھی مَیں نے صفحہ کے سب سے نچلے حصے میں دیا تھا جس کے لیے بابو نے شکوہ بھی کیا تھا…… جب کہ اسلام آباد سے اخبار کے چیف ایڈیٹر ممتاز احمد صادق صاحب نے باقاعدہ مجھے فون کیا تھا کہ یہ مضمون صفحے میں سب سے اوپر ہونا چاہیے تھا اور اس میں میری تصویر بھی ہونی چاہیے تھی۔ تو ڈاکٹر صاحب! مجھے خود نمائی کا کوئی شوق نہیں ہے۔ اس بارے میں آپ ’’آزادی‘‘ کے ادارتی صفحہ کے موجودہ ایڈیٹر امجد علی سحابؔ صاحب سے بھی دریافت کرسکتے ہیں۔
اب جب کہ ڈاکٹر صاحب نے ملالہ اور ضیاء الدین صاحب کو ذاتی دشمنوں کا رُتبہ دیا ہے اور مَیں نے ڈاکٹر صاحب کی شان میں ’’گستاخی‘‘ کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئ کی کتاب کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے، تو اب تو میں بھی ڈاکٹر صاحب کی تنقیص کے نشانے پر آگیا ہوں۔ اس سے پہلے جب مَیں ان کا مدح خواں تھا، تو انھوں نے میرے بارے میں توصیفی کالم لکھا تھا لیکن اب جب کہ مَیں نے ان کے ’’ذاتی دشمنوں‘‘ کی کتاب کے ترجمے کی غلطی کی ہے، تو ان کی ذہنی کایا پلٹ گئی ہے اور ان کا تحقیقی غصہ غیرمہذب اور ناشائستہ تنقید میں ڈھل گیا ہے۔ معلوم نہیں یہ تاریخ کے کسی محقق اور نقاد کی کون سی تحقیق اور تنقید ہے؟
شاید ڈاکٹر صاحب کا حافظہ کم زور ہے یا وہ ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ کے ایڈمن کے حوالے سے آدھی حقیقت بتا رہے ہیں۔ مَیں نے ایڈمن کے بارے میں ان کے کالم کے حوالے سے نہیں کہا تھا کہ انھوں نے اس کالم کو آرکایوز سے ہٹا دیا ہے اور نہ مَیں نے ان کے لیے خبثِ باطن کا لفظ ہی استعمال کیا تھا۔ مَیں نے ڈاکٹر صاحب سے یہ بھی عرض کیا تھا کہ ’’زما سوات ڈاٹ کام‘‘ پر میری دو شائع شدہ کتابیں اَپ لوڈ کی گئی تھیں جن میں ایک کتاب پر میرا نام درج تھا اور دوسری کتاب پر میرا نام نہیں لکھا گیا تھا۔ اس معاملے میں، مَیں نے فیاض ظفر صاحب کو خط لکھا تھا کہ براہِ کرم آپ اپنی ویب سائٹ کے ایڈمن سے کہیے کہ وہ میری دوسری کتاب پر بھی میرا نام شائع کر دیں ۔ مَیں نے فیاض صاحب کو کئی دفعہ اس کی یاد دہانی کرائی تھی لیکن انھوں نے مجھے کہا تھا کہ انھوں نے اس معاملے پر ایڈمن سے کئی دفعہ بات کی ہے لیکن وہ ٹال مٹول سے کام لے رہے ہیں۔ اس کے بعد مَیں نے ان ہی ایڈمن صاحب کے بارے میں فیاض ظفر کو ایک سخت قسم کا شکوہ آمیز خط بھیجا تھا کہ اگر وہ میری کتاب پر میرا نام نہیں ڈال سکتے، تو انھیں کہیں کہ وہ میری کتابیں ویب سائٹ سے ہٹا دیں۔ فیاض ظفر صاحب نے میرا خط ایڈمن کو دکھا دیا تھا جس کے جواب میں ایڈمن صاحب نے میری دونوں کتابیں ویب سائٹ سے ہٹا دی تھیں۔ میرا مطالبہ کوئی غلط نہیں تھا، اگر انھوں نے میری کتابیں اپنی ویب سائٹ پہ ڈال دی تھیں، تو ان پر مصنف کا نام بھی ڈالنا چاہیے تھا۔ تو ڈاکٹر صاحب یہ بات محض آپ کے کالم کے بارے میں نہیں تھی بلکہ میں نے اُس وقت اپنی مذکورہ دو کتابوں اور سو سے زائد اپنے مضامین کا تذکرہ بھی آپ سے کیا تھا۔
مَیں نے اپنے گزشتہ کالم میں کوئی بات غیر ضروری نہیں لکھی تھی۔ ڈاکٹرصاحب کو جو باتیں موضوع سے ہٹی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں، دراصل وہی باتیں اصل موضوع سے متعلق ہیں۔ مَیں نے ملالہ یوسف زئ اور ضیاء الدین یوسف زئ صاحب کے بارے میں کچھ وضاحتی نِکات اس لیے لکھے تھے کہ ڈاکٹر صاحب کو اصل غصہ تو اس بات کا ہے کہ مَیں ان دونوں کا خیرخواہ کیوں ہوں؟ مَیں نے ان کی کتابیں کیوں ترجمہ کی ہیں؟ فیس بک پر ان کے دفاع میں کوئی ایک آدھ لفظ کیوں لکھتا ہوں؟ اور اس کے بارے میں ڈاکٹر صاحب مجھے اپنے تحفظات کے متعلق ذاتی طور پر بھی بتاتے رہے ہیں، امجد علی سحابؔ اور فضل مولا زاہد صاحب کی زبانی بھی پیغام پہنچاتے رہے ہیں اور مَیں بھی ڈاکٹر صاحب کو کئی مواقع پہ بتاتا رہا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب! اس ایک معاملے میں ہمارا اختلاف موجود ہے اور میرا خیال تھا کہ ڈاکٹر صاحب میرے اس اختلاف کا احترام کریں گے اور اگر اس موضوع پہ انھیں کچھ لکھنے کی ضرورت پڑی، تو ان کی تنقیدی آرا میں باہمی احترام کو ملحوظِ خاطر رکھا جائے گا…… لیکن افسوس ڈاکٹر صاحب جو ہمیں لفظوں کی اہمیت کے بارے میں بتاتے رہتے ہیں کہ الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے لیکن خود وہ اس پر عمل کرنے سے گریزاں نظر آئے۔
ڈاکٹر صاحب نے ہر گھر کی کہانی والی بات پھر سے دہرائی ہے، تو مَیں اب بھی یہی کہوں گا کہ ڈاکٹر صاحب رائی کا پہاڑ بنا رہے ہیں۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ اس پہ ڈاکٹر صاحب جیسے مصروف انسان پیہم اپنی توانائی ضائع کریں۔ ہم کبھی کبھی محاورتاً کہتے ہیں کہ آسمان سے باتیں کرنا، تو آسمان سے باتیں کس نے کی ہیں؟ یہ تو مَیں نے معاشرے کے ایک عمومی رویے کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ کوئی معاشرہ نہ مکمل خراب ہوتا ہے اور نہ مکمل صحیح۔ اس حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے یورپ اور امریکہ کی مثال دی ہے، تو ان کی یہ مثال بھی بے محل ہے۔ یورپ اور امریکہ میں پاکستانی معاشرے کے مقابلے میں عدل و انصاف اور فلاحی قوانین کی صورت میں بہتری کے امکانات بے حساب ہیں۔ وہاں پہ اگر ایسا ہوتا ہے، تو قانون کی عمل داری کی وجہ سے جرائم کا ارتکاب کرنے والوں کو قانون کی آہنی گرفت میں لایا بھی جاتا ہے۔ اور ہم یورپ اور امریکہ کے لیے خدائی فوج دار کیوں بنیں؟ اس کام کے لیے وہاں کے موثر قانون موجود ہیں اور وہاں کے مسائل کے بارے میں وہاں کے لوگوں کو حرکت میں آنا چاہیے اور وہ آتے بھی ہیں۔ وہاں تو یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر کسی نے کوئی جرم پچاس سال پہلے کیا ہے اور پچاس سال کے بعد اس کے حقائق منظر عام پر آجائیں، تو مجرم فوراً قانون کی زد میں آجاتا ہے بلکہ وہاں تو عدل و انصاف اتنا یقینی ہے کہ کسی شخص پر اگر بعد از مرگ جرم ثابت ہوجائے، تو بھی اس کے خلاف مقدمہ کھول دیا جاتا ہے اور اسے مرنے کے بعد بھی سزا سنائی جاتی ہے۔
’’اسے پرواز کرنے دو!‘‘ پر لکھے گئے میرے تاثرات میں ایک بات جو رواروی یا معاشرے کے اجتماعی رویے کے بارے میں عمومی انداز میں لکھی گئی ہے، اس کے پیچھے پڑ کر ڈاکٹر صاحب کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ کیا میری اس بات سے معاشرے میں کوئی منفی تبدیلی رونما ہوگئی ہے؟ اس سے کہیں کوئی اشتعال پھیل گیا ہے اور یا اس سے معاشرے کو کوئی زک پہنچنے کا امکان ہے؟ معلوم نہیں یہ تاریخ کی کون سی درستی ہے؟
ڈاکٹر صاحب نے مختلف کتابوں پر میرے تاثرات کے بارے میں تحریر فرمایا ہے، تو ڈاکٹر صاحب! مَیں آپ کی طرح خدائی فوج دار نہیں ہوں کہ جو نوآموز ادیب یا شاعر مجھے اپنی کتاب پر تاثرات لکھنے کے لیے کہے، تو مَیں اس کی کتاب پر اتنی تنقید کروں کہ وہ مزید لکھنا ہی بند کردے۔ جب ہم کسی نو آموز لکھنے والے کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی کتاب کے کسی اچھے حصے کی تعریف کرتے ہیں، تو یہ ہم شعوری طور پر اس کی صلاحیتوں کو جِلا بخشنے اور اس کے ادبی کاموں کو تقویت پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ آپ اگر مختلف کتابوں پر میرے تاثرات کا جائزہ لیں، تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ مَیں نے اصلاح کی غرض سے ان میں مثبت انداز میں کوئی تنقیدی جملہ بھی لکھا ہوگا۔ ایک تعریف ہوتی ہے خوشامد کی غرض سے اور ایک تعریف ہوتی ہے کسی کا حوصلہ بڑھانے کے لیے۔ ڈاکٹر صاحب کو شاید یہ فرق معلوم نہیں۔
’’سوات کے سپوت‘‘ کے بارے ڈاکٹر صاحب کے نقطۂ نظر سے مجھ سمیت فضل مولا زاہد صاحب اور ہمارے دوسرے ساتھیوں کو کوئی اتفاق نہیں تھا۔ معاشرے میں کچھ لوگ اچھا کام کرتے ہیں، انسانیت کی بے لوث خدمت کرتے ہیں، ان کی حوصلہ افزائی ضروری ہوتی ہے اور ان کے اچھے کاموں کو معاشرے کے دوسرے لوگوں کے سامنے لانا بھی ضروری ہوتا ہے…… تاکہ دوسرے بھی ان کی تقلید کریں اور معاشرے میں خیر وبھلائی اور انسانی خدمت کا سلسلہ چلتا رہے ۔

’’ووگ‘‘ میگزین میں ملالہ کے خیالات ایسے بھی نہیں تھے کہ وہ اس پر عمل کرنے والی تھی۔ اس نے ’’پارٹنرشپ‘‘ کے بارے میں اپنے ایک موقف کا اظہار کیا تھا اور اس کو فوراً ہی اپنی والدہ کے موقف کے ذریعے رَد بھی کردیا تھا اور ابھی حال ہی میں اپنے لائف پارٹنر سے باقاعدہ شریعتِ محمدیؐ کے تحت نکاح کرکے آپ جیسے لوگوں کی زبانوں کو بند بھی کردیا ہے۔ جو معاملہ ختم ہوچکا ہے، اسے بار بار دہرانے سے بھی انسان کی منفی ذہنیت کا کھلا اظہار ہوتا ہے۔
آپ نے یقینا میری ترجمہ کی ہوئی مکمل کتاب پڑھی ہے لیکن اسے آپ نے ایک منفی اور متعصبانہ ذہنیت کے ساتھ پڑھا ہے۔ پوری کتاب میں آپ کو جو چند ایک نکتے ایسے نظر آئے ہیں جو آپ کے ’’مزاجِ گرمی‘‘ کے خلاف ہیں، تو انھی نکتوں کو لے کر آپ رائی کا پہاڑ بنا رہے ہیں۔ میرا انداز اوچھا نہیں ہے بلکہ آپ کے غیر مہذب اور اوچھے طرزِ تحریر کا مناسب جواب ہے۔ آپ نے اگر مزید کچھ لکھنا ہو، تو وہ بھی لکھیں اور پورے اطمینان کے ساتھ اپنی متعصبانہ تشنگی دور فرمائیں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ آپ نے جن ای میلوں کا حوالہ دیا ہے، تو سب سے پہلے ای میل آپ ہی نے بھیجا تھا اور آپ ہی نے توہین آمیز الفاظ استعمال کرنے میں پہل کی تھی اور مَیں نے ہر ای میل کا جواب اسی لہجے میں دیا تھا جو لہجہ پہلے آپ نے اپنایا تھا۔ آپ ان ای میلز کو شائع کرکے اپنا شوق ضرور پورا کریں۔ مجھے آپ کے ہر لفظ کے جواب کا حق حاصل ہوگا۔
آپ نے لکھا ہے کہ ’’مَیں نے برخوردار کو درخت پر چڑھنے کا گر سکھانے کی بھرپور کوشش کی ہے لیکن ظاہر ہوا کہ ان کے پلے کچھ نہیں پڑا ہے۔ درخت پر چڑھنا تو درکنا، وہ درخت تک پہنچنے کی صلاحیت بھی حاصل نہیں کرپائے ہیں۔‘‘ مجھے کسی کے سکھائے ہوئے گر کے ذریعے درخت پر چڑھنے کا کوئی شوق نہیں۔ مجھے تو آپ معاف ہی رکھیں۔ مَیں نے آپ سے کچھ معاملوں میں علمی استفادہ ضرور کیا ہے…… لیکن مَیں کسی کے رنگ میں رنگنا نہیں چاہتا۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جہاں پہ مجھے آپ کے استفادے سے اتفاق نہیں رہا ہے، وہ مَیں نے قبول نہیں کیا ہے۔ ظاہر ہے میری اپنی ایک سوچ اور فہم ہے اور مجھے اسی کے مطابق لکھنے لکھانے کا کام کرنا ہے۔ کسی سینئر سے رہنمائی لینے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان اسی کا مخصوص خول اپنے اوپر چڑھالے۔ بہرحال میں پھر بھی ہمیشہ اس معاملے میں آپ کا شکر گزار رہوں گا۔
مَیں نے کسی بھی طور پورے پاکستان پر ایسا کوئی حملہ نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کا ’’پُرامن‘‘، ’’منصفانہ‘‘، ’’روادار‘‘ اور ’’جملہ اوصاف‘‘ سے متصف معاشرے پر کوئی زد پڑے۔ پاکستان میں تو کسی برائی اور بے انصافی کا دور دور تک کوئی نام و نشان نہیں ۔ یہاں تو ہر طرف محبت کا زمزم بہہ رہا ہے اور عدل و انصاف، مساوات اور باہمی احترام پر مبنی ایسے عادلانہ قوانین نافذ ہیں جن کی پوری دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ واقعی آپ کو ذاتی حملوں پر کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پورے معاشرے اور سوات جیسے پُرامن، معتدل اور صالح لوگوں پر تنقید کرنے پر آپ کی تحقیق کی رگِ حمیت پھڑک اٹھتی ہے اور اگر آپ اس معاملے میں خاموش رہیں، تو آپ کو چَین اور سکون نہیں آئے گا۔ زیادہ ’’خدائی فوج دار‘‘ بننے کی ضرورت نہیں، سوات اور پاکستانی معاشرے کے بارے میں ذرا اپنے خود ساختہ خول سے باہر نکل کر کسی عام شخص سے بات کریں، تو آپ کو اس ’’صالح‘‘ اور ہر برائی سے ’’پاک و صاف معاشرے‘‘ کی اصل حقیقت معلوم ہوجائے گی۔
آپ نے جن باتوں کے لیے مجھے مطعون ٹھہرانے کی ناکام کوشش کی ہے، اس کا کوئی تعلق تحقیق یا تاریخ کے کسی تنقیدی نقطۂ نظر سے نہیں ہے…… بلکہ اس کا تعلق آپ کے باطنی بغض و عناد سے ہے۔ آپ کی آمرانہ تاریخی تحقیق اور تنقید کی زد میں جو لوگ آ رہے ہیں، دراصل ان کا مؤقف اور زندگی کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر آپ سے مختلف ہے۔ اس لیے آپ چیں بہ جبیں ہو رہے ہیں۔ جو لوگ کسی مثبت کام کا جائزہ بھی منفی ذہنیت کے ساتھ لیتے ہیں، وہ نہ صرف اپنا وقت ضائع کرتے ہیں بلکہ دوسروں کا قیمتی وقت بھی برباد کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی وجہ سے آپ کو میرے معمولی معمولی نکتوں میں کیڑے نظر آ رہے ہیں، انھیں آنے والے وقت کے سپرد کیجیے۔
ڈاکٹر صاحب! اب اُن دونوں کے بارے میں پورا منظرنامہ تبدیل ہوچکا ہے لیکن آپ کے ذہن میں ابھی تک ذاتی مخالفت کی وہی پرانی باتیں اٹکی ہوئی ہیں۔ ابھی تو وہ اپنے مشن اور کیرئیر کے ابتدائی دور سے گزر رہے ہیں، آنے والا وقت ہی ان کے بارے میں کسی حتمی رائے قائم کرنے میں مؤرخ یا محقق کے لیے معاون ثابت ہوگا۔ کوئی محقق یا تاریخ کا نقاد اگر کچھ باتیں وقت سے پہلے لکھے، تو وہ تاریخ کا حصہ نہیں بن جاتیں بلکہ آنے والا وقت اس کی ان باتوں کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیتا ہے۔
جن لوگوں کے بارے میں ڈاکٹر صاحب اس وقت شدید خلفشار کے شکار ہیں اور اُنھیں اُن کے بارے میں لکھنے کی جلدی ہے، شاید آنے والا وقت اُن کے بارے میں ڈاکٹر صاحب کے تحفظات اور درستی کے نام پر لکھنے والے ان کے تاریخی حقائق غلط ثابت کرے۔ میرا مشورہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو ’’خدائی فوج دار‘‘ بننے کی بجائے کچھ تاریخی حقائق مستقبل کے مؤرخ، محقق اور تاریخ کے نقاد کے لیے بھی چھوڑدینے چاہئیں۔
…………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔