سوات کی تحصیلِ بریکوٹ میں 3 ہزار سال پرانے بدھ مت دور کے شہر ’’بازیرہ‘‘ میں 23 سو سال پرانا بدھ مت کا "Apsidal” مندر دریافت ہوا ہے جو پاکستان کا سب سے پرانا (بدھ مت دور کا) مندر ہے۔ سوات کا یہ مندر اس سے پہلے ٹیکسلا میں ملنے والے بدھ مت کے اِس قسم کے مندر سے بھی پرانا ہے۔
خیبر پختون خوا کے محکمۂ آرکیالوجی اور اٹلی حکومت کی پاکستان میں آرکیالوجی مشن کی مشترکہ کھدائی کے دوران میں یہ مندر اور 2700 سے زائد اُس دور کے نوادرات ملے ہیں۔
پاکستان میں ’’اٹالین آرکیالوجیکل مشن‘‘ کے سربراہ ڈا کٹر لوکا ماریہ اولیوری کے مطابق یہ انتہائی اہم مندر ہے۔ سوات اب ٹیکسلا سے بھی پرانا آثار قدیمہ رکھنے والا علاقہ بن گیا ہے۔ بازیرہ شہر میں کھدائی کے دوران مزید آثار ملنے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر لوکا کے مطابق اس کھدائی کے دوران میں ہند یونانی دور کے بادشاہ منندر کے دور کے سکے، یونانی دیوی کے مجسمے کی انگوٹھی اور خاص کر یونانی دور کے برتن، خروشتی زبان کی لکھائی اور دیگر اہم سامان بھی ملا ہے جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
پاکستان میں تعینات اٹلی کے سفیر آندر یاس فزاریزے کا اس حوالہ سے کہنا ہے کہ پاکستان آثارِ قدیمہ اور مختلف مذاہب کے لیے انتہائی اہم ملک ہے۔ اٹالین آرکیالوجیکل مشن گذشتہ 70 سال سے سوات میں حکومتِ پاکستان کے محکمۂ آثارِ قدیمہ کے ساتھ مل کر آثارِ قدیمہ کی حفاظت اور کھدائی کا کام کررہا ہے۔




اٹلی کے سفیر ’’آندر یاس فزاریزے‘‘ دریافت ہونے والے آثار بارے انٹرویو دے رہے ہیں۔ (فوٹو: فضل خالق)

سفیر محترم کا کہنا ہے کہ آثارِ قدیمہ صرف یونیورسٹی کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ روزمرہ کی زندگی کو بھی چھو کر گزرتی ہے۔ کیوں کہ ہماری پچھلی تاریخ ہی ہمیں وہ بناتی ہے جو آج ہم ہیں اور یہ بہت خوش آئند با ت ہے کہ اٹلی اور پاکستان کے آثارِ قدیمہ میں کافی مشا بہت پائی جاتی ہے۔ یہ با ت بہت غو ر فرما ہے کہ پرانے زمانے میں بھی اس طرح کی عالمگیریت موجود تھی، جس میں لوگ تکنیک، مذہب، نظریات اور ثقافت کو بھی ایک دوسرے کے ساتھ یکساں رکھتے تھے۔ یہ ایک حیران کن حقیقت ہے کہ جتنا ہم تاریخ میں یکسانیت رکھتے ہیں…… اتنا ہی اپنا مستقبل ایک ساتھ نظر آتا ہے۔
ڈائریکٹر میوزیم اینڈ آرکیالوجی خیبر پختون خوا ڈاکٹر عبدالصمد اس حوالہ سے کہتے ہیں کہ بازیرہ شہر اب ٹیکسلا سے بھی پرانا ہے۔ اٹلی کی ٹاپ یونیورسٹیوں کے پی ایچ ڈی طلبہ اور محکمۂ آرکیالوجی خیبر پختون خوا ہر سال ان سائٹس میں کھدائی کرتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالصمد کہتے ہیں کہ نئے نوادرات سے ثابت ہوتا ہے کہ سوات چھے تا سات مذاہب کے لیے انتہائی مقدس جگہ ہے۔ خیبر پختون خوا حکومت نے سوات آثارِ قدیمہ کے 14 سائٹ سیکشن فور کے ذریعے خریدے ہیں…… جن میں کھدائی کا کام جاری ہے۔
ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا کہنا ہے کہ سال 2000ء تا 2010ء بازیرہ شہر میں غیر قانونی کھدائی ہوئی تھی جس میں چور قیمتی نوادرات چرا کر لے گئے ہیں۔ اگر اُس وقت سے اس شہر کو محفوظ کیا جاتا، تو حالیہ کھدائی کے دوران میں اس میں بہت پرانے اور اہم نوادرات ملنے کی توقع تھی…… لیکن آثارِ قدیمہ کے چوروں نے یہاں کا صفایا کردیا ہے۔
بازیرہ شہر میں حالیہ کھدائی میں ملنے والے سیکڑوں نوادرات کو سوات عجائب گھر کے حوالے کردیا گیا ہے۔ پاکستان میں اٹالین آرکیالوجیکل مشن کے سربراہ ڈا کٹر لوکا ماریا اولیوری نے اس حوالہ سے بتایا کہ حالیہ کھدائی کے دوران میں ملنے والے23 سو سال پرانے27 سو نودرات کو سوات عجائب خانہ کے حوالے کردیا گیا ہے، جو اَب اس اہم عجائب گھر کی زینت بنیں گے۔
………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا amjadalisah[email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔