کہا جاتا ہے کہ سچ بولنا مشکل ہے۔ سچ بولنا مشکل نہیں لیکن سچ کو برداشت کرنا مشکل ہے یعنی سچ برداشت کرنے کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ اس لیے سچ بولنا مشکل بن جاتا ہے اور یہی حال سچ لکھنے کا بھی ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک شخص کو لوگ پتھر مار رہے تھے۔ ایک عورت، جو وہاں سے گزر رہی تھی، نے اس شخص سے پوچھا کہ یہ لوگ آپ کو پتھر کیوں مار رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ چوں کہ میں سچ بولتا ہوں، تو یہ لوگ مجھے پاگل سمجھ کر پتھر مارتے ہیں۔ یہ سن کر عورت اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے لوگوں کو بُرا بھلا کہنے لگی کہ یہ آپ کو سچ بولنے پر پاگل کہتے ہیں اور پتھر مارتے ہیں! وہ شخص اس عورت کو مخاطب کرتے ہوئے بولا کہ اگر مَیں نے آپ کے متعلق بھی سچ بات کہی، تو آپ بھی مجھے پاگل کہتے ہوئے پتھر ماریں گی۔ عورت بولی کہ مَیں آپ کے سچ بولنے پر ایسا کیوں کروں گی؟ تو اس شخص نے کہا کہ اگر سچ کہوں، تو مَیں ایک پرایا مرد اور آپ ایک پرائی عورت ہیں…… آپ کو مجھ سے بات کرنے کا کیا حق ہے؟ یہ سن کر وہ عورت بھی اسے پاگل کہتے ہوئے پتھر اٹھا کر مارنے لگی۔
یہی صورتِ حال ہمارے معاشرے کا بھی ہے۔ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ آپ لوگ سچ نہیں لکھ سکتے اور سچ لکھنے کا تقاضا بھی کرتے ہیں…… لیکن جب لکھا جاتا ہے، تو سب سے پہلے محولہ بالا عورت کی مانند ناراض ہو کر پتھر مارنے لگتے ہیں۔
ان باتوں کے لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک طرف لوگ تقاضا بھی کرتے ہیں کہ سوات اور اس کی تاریخ کے حوالے سے جو بے سر و پا، غلط اور بے ہودہ باتیں لکھی گئی ہیں…… ان کے متعلق لکھ کرحقائق کو منظرِ عام پر لائیں اور دوسری طرف ایسا کرنے پر ناراض بھی ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا مجھے اس بات کا ادراک ہے کہ میرے مضامین کے اس سلسلے کے نتیجے میں بہت سے ایسے لوگ جن کی باتوں اور تحاریر، اور یا ان کے ممدوحین اور جن سے انھیں عقیدت ہے…… کے حوالے سے غلط تحاریر اور غلط فہمیوں کی تصحیح کی جائے گی۔ وہ ناخوش ہوں گے اور بہت سارے ایسا کرنے پرخوش بھی ہوں گے…… لیکن میرا مقصد کسی کو خوش اور ناخوش کرنا ہرگز نہیں……! بلکہ حتی المقدور حقائق کو منظرِ عام پر لانا ہے۔
یاد رہے کہ مَیں نے اکتوبر 2012ء میں اپنے مضمون میں اس طرف اشارہ کیا تھا جو کہ میری کتاب ’’سوات: تاریخ کے دوراہے پر‘‘ میں صفحہ 290 پر ان الفاظ میں موجود ہے کہ ’’افسوس کہ جس طرح 1897ء کی جنگ کے نتیجے میں چرچل، سوات اور یہاں کے باشندوں کے متعلق سنی سنائی باتوں اور اپنی خواہشات کی بنیاد پر غیر حقیقت پسندانہ اور مبالغہ آمیز باتوں کو صفحہ قرطاس کرنے کا مرتکب ہوا ہے، سوات کے 2007ء تا2009ء کی شورش کے نتیجے میں بھی سوات، اس کی تاریخ اور باشندوں کے متعلق افسانوی اور رومانوی داستانیں اور غیرحقیقت پسندانہ اور کئی حوالوں سے مبالغہ آمیز منفی باتیں اخبارات، رسائل و جرائد، کتابوں اور دوسرے ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی جا رہی ہیں جو کسی طور بھی مستحسن اقدام نہیں ہے۔‘‘
سوات کے حوالے سے دوسری تحاریر میں اس طرح کی باتوں کے علاوہ ایک باپ اور اس کی بیٹی کے نام سے چھاپی گئیں کتابوں میں بھی ڈھیر ساری بے سر و پا باتیں رقم کی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں اس طرح کی تحریر شدہ باتوں پر چوں کہ ایک تفصیلی تحریر کی ضرورت ہے…… لہٰذا یہاں اُن کتب پر بات نہیں کی جائے گی۔ یہاں باپ کی کتاب کے اُردو ترجمہ ’’اسے پرواز کرنے دو!‘‘ کے اُردو مترجم کی کتاب میں تحریر کیے گئے دوسرے امور پر بھی نہیں بلکہ صرف دو باتوں کے ضمن میں بات کی جائے گی۔ مذکورہ کتاب کے مترجم اپنی تحریر ’’کچھ اس کتاب کے بارے میں‘‘ میں رقم طراز ہیں کہ ’’اُسے پرواز کرنے دو! ایک ایسی کہانی ہے جس میں ہمارے معاشرے کے غیر فطری، غیر انسانی اور عدم مساوات پر مبنی رسوم و رواج کو مسترد کر دیا گیا ہے اور سماج کو بتایا گیا ہے کہ بہن اور بیٹی کی شکل میں ہر گھر میں بے نظیر بھٹو موجود ہے اور ملالہ کی طرح لامتناہی صلاحیتوں اور قابلیتوں کی حامل لڑکیاں موجود ہیں لیکن انھیں صنفی امتیاز کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے، ان کے پَروں کو نہ کاٹا جائے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کرکے انھیں اونچی اڑان کا موقع دیا جائے۔‘‘ (صفحہ 17)
مترجم اگلے صفحے پر لکھتا ہے کہ ’’یہ ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی کہانی ہے لیکن اسے بیان کرنے کی جرأت ہر شخص میں نہیں ہے، یہ جرأت اور حوصلہ صرف ضیاء الدین جیسی بلند قامت شخصیات کا خاصہ ہے۔‘‘ (صفحہ 18)
یہ ایک سوالیہ نشان ہے کہ واقعی سوات کا پورا معاشرہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کتاب میں اس کی منظر کشی کی گئی ہے…… اور واقعی سوات کے پورے معاشرے کے رسوم و رواج ’’غیر فطری، غیر انسانی اور عدم مساوات پر مبنی‘‘ ہیں…… اور واقعی کتاب میں جو کچھ لکھا گیا ہے، وہ ’’ہمارے معاشرے کے ہر گھر کی کہانی ہے‘‘ یا مترجم کا اپنے آپ کو شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ثابت کرنے کی کوشش اور خوشامد اور چاپلوسی کی انتہا ہے؟ اگرچہ سوات کا باشندہ ہونے اور یہاں کے سماج کا اپنے طور پر رکھنے والے شعور اور فہم و ادراک کی بنیاد پر میرا یقین ہے کہ ایسا نہیں ہے…… تاہم مترجم کی تحریر کو مدِنظر رکھتے ہوئے شک پڑجاتا ہے کہ شائد مترجم کے اپنے گھر، خاندان، قریبی رشتہ داروں اور دوستوں کے گھروں کی کہانی ایسی ہی ہے، جس کی بنیاد پر اسے یہ سوات کے ہر گھر کی کہانی معلوم ہوتی ہے…… لیکن وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ سوات کی ہر گھر کی کہانی ہرگز ایسی نہیں۔
یہاں مزید تفصیل کی گنجائش اور ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ ہر معاشرے کی طرح سوات میں بھی ہر طرح کی سوچ، فکر اور نقطۂ نظر رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں…… لیکن سوات کا پورا معاشرہ اور سماج کبھی ایسا نہیں جس طرح کہ صاحبِ کتاب اور مترجم نے اس کی تصویر کشی کی ہے۔
دوسرے دلائل کی بجائے مترجم کی اپنی ہی دوسری تحریروں سے یہاں اقتباسات پیش کیے جا رہے ہیں جو اس کی درجہ بالا باتوں اور دعوؤں کی تردید کے لیے کافی ہیں۔ اپنی کتاب ’’سوات: سیاحوں کی جنت‘‘ کی اشاعتِ سوم کے صفحہ 17 پر وہ خود رقم طراز ہیں کہ ’’وادئ سوات کے باشندوں کو قدرت نے بہت سی خوبیوں سے نوازا ہے۔ یہاں کے مکین فطری طور پر خوش اخلاق، ملنسار اور مہمان نواز ہیں۔ اگر کوئی اجنبی ان سے کوئی جگہ یا راستہ معلوم کرنا چاہے تو وہ اس کو منزل پر چھوڑ آتے ہیں۔ مہمانوں کی عزت اور تکریم کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خصوصاً خواتین کا احترام بہت مقدم جانتے ہیں۔‘‘
اسی طرح وہ فضل خالق کی کتاب ’’جہانِ شرق و غرب‘‘ پر اپنے تبصرے میں لکھتا ہے: ’’جاپان کے سفرنامہ میں مجھے ان کی اس بات نے بے حد متاثر کیا، جس میں وہ لکھتے ہیں کہ یہاں مختلف لوگوں سے بات چیت کے دوران میں مجھے پاکستان کے بارے میں ایک ہی تاثر ملا اور وہ تاثر دہشت گردی کا تھا اور میں حیران تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے علاوہ بہت ساری اچھی چیزیں بھی ہیں، لیکن ان کے بارے میں یہ لوگ نہیں جانتے، مگر فضل کو جب وہاں اپنے ملک کے تعارف کا موقع ملا، تو انھوں نے واضح کیا کہ میں آج دہشت گردی سے متاثرہ ملک پاکستان سے آپ کے سامنے مخاطب نہیں ہوں بلکہ ایک ایسے ملک کے نمائندے کی حیثیت سے مخاطب ہوں جو قدیم تہذیبوں کا گہوارہ رہا ہے اور جہاں سندھ اور مہر گڑھ کی تہذیبوں کے علاوہ شہرہ آفاق ’’گندھارا تہذیب‘‘ نے بھی جنم لیا اور دوام پایا تھا۔ جہاں سوات اور شمالی علاقہ جات جیسی خوب صورت وادیاں دامنِ دل کھینچ لیتی ہیں۔ بدھ مت اور دیگر اقوام کی قدیم تاریخی اور تہذیبی آثار یہاں کی شناخت ہیں۔ میں آپ سب کو دعوت دیتا ہوں کہ پاکستان آئیں اور وہاں کی حیرت انگیز خوب صورتی کے علاوہ اس کی قدیم و جدید تہذیب اور ثقافت کی متنوع طلسماتی دنیا کی سیر کریں۔ فضل خالق جیسے سیلف میڈ اور باصلاحیت جوانوں کو جب عالمی سطح پر آگے بڑھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ اپنے ملک کا روشن اور پُرامن رُخ سامنے لانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے۔‘‘
مترجم صاحب کی اپنی یہ تحاریر نہ صرف بہ طورِ مترجم ’’سوات اور اس کے معاشرے‘‘ کے بارے میں اس کی لکھی گئیں محولہ بالا باتوں کی نفی کے لیے کافی ہیں بلکہ خود اس کی اپنی ذات پربھی ایک سوالیہ نشان لگاتی ہیں کہ فضل خالق کی تعریف و توصیف کرتے ہوئے خود کیوں اس کے جیسے نہ بنے……؟ یا جیسا کہ اس نے ’’ووگ‘‘ میگزین میں ملالہ کے انٹرویو کے ’’پارٹنر شپ‘‘ والی بات پر اعتراض کرنے والوں کے حوالے سے سوشل میڈیا پر تحریر کیا تھا کہ ’’ہمارے معاشرے میں ذہنی بیماروں اور نفسیاتی مریضوں کی کوئی کمی نہیں۔ ملالہ سے اپنی من مرضی کے بیان اور ٹویٹ کی توقع ضرور رکھیں گے لیکن اس کے کسی اچھے کام کا کبھی کوئی تذکرہ یا حوصلہ افزائی نہیں کریں گے، بس جہاں کہیں انھیں (اُن کی نظر میں) ملالہ کی کسی بات میں کوئی معمولی سا کمزور نکتہ نظر آئے گا، وہ ان کے لئے کافی ہوتا ہے۔‘‘
اُسے خود کیوں سوات کا ہر گھر ایسا نظر آرہا ہے؟ آیا وہ خود بھی ذہنی بیمار اور نفسیاتی مریض ہے؟
باقی آئندہ، اِن شاء اللہ!
………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔