ملک بھر میں پری مون سون بارشوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ مختلف شہروں میں کہیں ہلکی، کہیں تیز بارشیں جاری ہیں اور محکمۂ موسمیات نے مزید طوفانی بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔ برسات کے موسم میں ضروری ہے کہ شہری اپنی جان و مال کا تحفظ یقینی بنائیں۔ ہمیں گھر کی چھتوں پر نکاسیِ آب کا جایزہ لینا چاہیے، تاکہ پانی جمع نہ ہو۔ برساتی نالوں اور تالابوں میں ہر گز نہیں نہانا چاہیے۔ بچوں کو بجلی کے تاروں اور کھمبوں سے دور رکھنا چاہیے اور زمین پر گری بجلی کے تاروں کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق برسات کے موسم میں بے شمار وبائی امراض پھیلنے کا خدشہ ہوتا ہے، جن میں سیزنل انفلوائنزا (وبائی زکام)، ملیریا، ٹائیفایڈ، ڈینگی بخار، ہیضہ اور ہیپاٹائٹس اے سرفہرست ہے۔
وبائی زکام ( سیزنل انفوائنزا) برسات کے موسم میں پھیلنے والی عام بیماری ہے۔ انفلوائنزا وائرس ہوا کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے اور ناک، گلے اور پھیپڑوں کو متاثر کرتا ہے۔ چوں کہ اس کاوائرس کھلی فضا میں موجود ہوتا ہے، اس لیے ایک فرد سے دوسرے میں باآسانی منتقل ہوجاتا ہے۔ اس بیماری کی نشانیوں میں بہتی ہوئی ناک، جسم اور گلے میں شدید درد اور بخار شامل ہیں۔ اس وبائی مرض سے بچنے کے لیے اچھی غذا لینا چاہیے، تاکہ جسم کی قوتِ مدافعت زیادہ مضبوط ہو اور جو اس وائرس کو ختم کرسکے۔
اس کے علاوہ ہیضہ برسات کے موسم میں پھیلنے والی خطرناک بیماریوں میں سے ایک ہے۔ ہیضہ کچھ خطرناک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے، جو خراب کھانوں، گلے سڑے پھلوں، گندے پانی اور حفظانِ صحت کی کمی کے باعث پھیلتے ہیں۔ اس کی علامات میں پیچس اور قے آنا شامل ہے۔ ان کی وجہ سے جسم سے بہت زیادہ پانی ضایع اور پٹھوں میں کھچاؤ پیدا ہوجاتا ہے اور انسانی جسم میں نمکیات کی کمی ہوجاتی ہے۔
ہیضے کے مریض کو فوری علاج کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیوں کہ انسانی جسم میں نمکیات کی کمی موت کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
ہیضے کے مریض کو اُو آر ایس پانی میں گھول کر پلانا چاہیے، جو جسم میں پانی کے ساتھ ساتھ نمکیات کا توازن برقرار رکھتا ہے۔ ہیضے سے بچاؤ کے لیے اُبال کر صاف پانی کا استعمال اور حفظانِ صحت کے اصولوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
برسات کے موسم میں آلودہ پانی میں پائے جانے والے بیکٹیریا کی وجہ سے ٹائیفائڈ کے پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتاہے جوکہ آلودہ کھانے یا کسی متاثرہ شخص کے فضلے سے پھیلتا ہے۔ اس کی علامات کچھ دنوں تک تیز بخار، پیٹ میں شدید درد، سر درد اور قے آنا ہے۔ اس بیماری کی سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس کا جراثیم علاج کے بعد بھی پتے میں رہ جاتا ہے۔ اس بیماری کی تشخیص خون کے ٹیسٹ کے ذریعے کی جاتی ہے۔ اس مرض سے بچاؤ کے لیے احتیاتی تدابیر میں صاف پانی کا استعمال، اچھے انٹی بیکٹیریا صابن کا استعمال اور بہتر نکاسیِ آب کا انتظام کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ ہیپاٹائٹس اے (پیلا یرقان) کا شمار بھی ان خطرناک وبائی بیماریوں میں ہوتا ہے…… جو جگر میں انفیکشن پیدا کرتی ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں پر بیٹھنے والی مکھیاں اس بیماری کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور اسی وجہ سے ماہرینِ صحت یہ تلقین کرتے ہیں کہ ہر چیز پانی سے دھو کر استعمال کی جائے۔ اس بیماری کی علامات جگر میں سوزش کی نشان دہی کرتی ہے۔ آنکھوں، جلد اور پیشاب کا پیلا ہونا، معدے میں درد، بھوک کا ختم ہونا، متلی ہونا، بخار اور پتلے پیچس آنا شامل ہے۔
اس بیماری کا کوئی خاص علاج نہیں کیا جاتا بلکہ اکثر اوقات مختلف مشروبات پینے کی تلقین کی جاتی ہے۔
اسی طرح برسات کے موسم میں پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ملیریا ہے جو کہ بارش کے کھڑے پانی میں پیدا ہونے والے مچھروں کی وجہ سے پھیلتی ہے۔ اس کی نشانیوں میں تیز بخار، جسم اور سر درد، پسینا آنا شامل ہیں۔ اگر اس کا علاج بروقت نہ کیا جائے، تو جگر اور گردوں کے مسایل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ملیریا سے بچاؤ کی احتیاتی تدابیر کے لیے مچھر دانی کا استعمال کرنا چاہیے اور کوشش کرنی چاہیے کہ گھر میں گندے پانی کا ذخیرہ نہ ہو۔
پانی جمع ہونے سے ڈینگی بخار پھیلنے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ ڈینگی مچھر صاف پانی میں پیدا ہوتاہے۔ اس مچھر کی پہچان یہ ہے کہ اس کے جسم پر سفید اور کالی لکیریں ہوتی ہیں اور یہ دوسرے مچھروں سے عموماً بڑا ہوتا ہے اور صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔
ڈینگی بخار کی نشانیوں میں جوڑوں اور پٹھوں میں شدید درد، آنکھوں کے پیچھے درد، سر درد، بخار اور جسم پر سرخ نشانات بننا شامل ہیں۔
گرم موسم میں بارشیں جہاں ہمارے لیے رحمت اور راحت کا سبب بنتی ہیں، وہیں احتیاطی تدابیر اختیار نہ کرنے کی وجہ سے درجِ بالا بیماریوں کی وجہ بھی بن سکتی ہیں۔ لہٰذا برسات کے موسم کو انجوائے کرنے کے لیے ضروری ہے کہ صحت و صفائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ خود کو اور گھر کو صاف ستھرا رکھا جائے، تاکہ وبائی امراض کے پھیلاؤ اور اس کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات سے بچا جاسکے۔
……………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔