تحریر: حکیم احمد حسین اتحادی
٭ منکی پاکس کیا ہے؟
’’منکی پاکس‘‘ (Monkeypox) افریقی ممالک میں دریافت ہونے والی بیماری ہے۔ یہ وائرل بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوسکتی ہے۔ اس کی عمومی علامات چیچک سے مشابہ ہیں۔ خواتین کی نسبت مردوں میں یہ مرض زیادہ پایاگیا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق یہ ایسے مردوں میں تیزی سے پھیل رہا ہے جو ہم جنس پرست ہیں۔ بچوں میں بھی یہ مرض تیزی سے حملہ آورہوتاہے۔ اس انفیکشن کا شکار ہونے والے مریض میں مرضیاتی علامات 21 دن بعد نمایاں ہوتی ہیں۔ یوں 21 دن تک وہ شخص بطور کیریئر مرض پھیلانے کا موجب بنتا ہے۔ عموماً مریض کے ساتھ قریبی رابطے اور میل جول رکھنے کی وجہ سے اس مرض کا وائرس دیگرافراد میں منتقل ہوتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق منکی پاکس کا وائرس سانس کے ذریعے پھیل رہا ہے۔ سانس خارج کرتے وقت تنفسی قطرے باہرفضامیں گرتے ہیں۔ یوں موجود افراد میں یہ وائرس باآسانی منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ مرض چھونے سے زیادہ پھیلتا ہے۔ منکی پاکس وائرس متاثرہ فرد کو چھونے یا اس کے جسم پر نکلنے والے دانوں کو چھونے سے پھیلتا ہے۔ متاثرہ مریض سے ہاتھ ملانے، گلے ملنے، بوس و کنار، جنسی تعلقات اورمریض کے زیرِ استعمال بستر، تولیہ یاکپڑوں کو چھونے سے یہ وائرس متاثرہ فرد سے دوسرے انسان کو لگ سکتا ہے۔ متاثرہ جانور کو چھونے یا اس کے خون اورگوشت سے بھی وائرس کی منتقلی کا خطرہ رہتا ہے۔ دنیا میں اس مرض میں مبتلا افراد کی شرح اموات دس فی صد ہے۔ افریقہ، برطانیہ، امریکہ، کینیڈا، اسرائیل، اٹلی، سویڈن، پرتگال، سپین، سنگاپور سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں منکی پوکس کا مرض پھیل چکا ہے۔ پاکستان میں بھی چند مشتبہ کیس رپورٹ ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارۂ صحت نے منکی پاکس کو عالمی صحتِ عامہ کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
٭ منکی پاکس کی علامات کیا ہیں؟
جسم پر غیرمعمولی موٹے دانے یا چھالے بن جاتے ہیں جن میں ریشہ پڑ جاتا ہے اور پھوڑے بن جاتے ہیں۔ ابتدا میں چہرے پر آبلہ دار دانے بنتے ہیں جو بتدریج پورے جسم پر پھیل جاتے ہیں۔ دانوں کے گرد سوجن، سر درد اور بخار ہوتا ہے۔ جسم میں نقاہت یعنی کم زوری محسوس ہوتی ہے۔ جسم میں درد اورکمر درد ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ایسی علامات ہرپیز، خسرہ اور آتشک جیسی امراض میں بھی ظاہر ہوتی ہیں۔ اس لیے ایک ڈاکٹر بہتر جانچ کرکے اس مرض کی نشان دہی کرسکتا ہے۔
٭ منکی پاکس کی حفاظتی تدابیر کیا ہیں؟
اپنی صحت کی حفاظت ہماری ذمے داری ہے۔ منکی پاکس سے بچاؤ کا واحد حل احتیاط ہے۔ منکی پاکس کے مشتبہ مریض یا اس سے قریبی میل جول رکھنے والے افراد سے دور رہیں…… بلکہ ایسے مریض سے روابط رکھنے والے افراد کو از خود صحت مند افراد سے دور رہنا چاہیے۔ مریض سے ملاقات کے بعد اور مریض کی اشیا کو ہاتھ لگانے کے بعد ہاتھ صابن سے اچھی طرح دھو لیں اور سینی ٹائیزر کا استعمال کریں۔ مریض سے ہاتھ ملانے اور براہِ راست ملاقات سے اجتناب کریں۔ بیمار کی تیمارداری کے وقت پرسنل پروٹیکٹیو ایکوپمنٹ، ماسک، گلوز اور حفاظتی کٹ استعمال کریں۔ ایسے جانوروں سے دور رہنا بے حد ضروری ہے جن میں منکی پاکس وائرس کی موجودگی کا خدشہ ہو، جن میں بیمار اور مردہ جانور بھی شامل ہیں۔ متاثرہ جانور کے ساتھ رابطے میں آنے والے تمام افراد اوراشیا سے دور رہیں۔ متاثرہ افرادکوباقی لوگوں سے علاحدہ کر دیں۔ ویٹرنری ڈاکٹر اور ان کا عملہ، فارمر اور جانوروں کی دیکھ بھال پر معمور ملازمین اور قصاب مکمل احتیاط کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی سطح پر انہیں حفاظتی اشیا فراہم کی جائیں۔
٭ منکی پاکس کا علاج کیسے ممکن ہے؟
منکی پاکس کے مریض کا بستر نرم ہوناچاہیے اور اسے علاحدہ کمرے میں رکھا جائے۔ منکی پاکس کے مریض علامات ظاہر ہونے کے بعد 14 سے 21 دن میں خود بخود ٹھیک ہوجاتے ہیں۔ بعض مریض ایک ماہ میں صحت یاب ہوتے ہیں۔ اس دوران میں تکلیف کی شدت کو کم کرنے کے لیے ماہر معالج علامات کے مطابق اینٹی وائرل ادویہ تجویز کرتے ہیں۔ دنیا بھرمیں اس مرض کا علاج تاحال معلوم نہیں ہوسکا۔ اس لیے کوئی دوا معالج کے مشورہ کے بغیر مت استعمال کریں، ورنہ مرض کی شدت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ حکومتی ہدایات پرعمل کریں اورسوشل میڈیا کی بجائے معالج سے بالمشافہ ملاقات کو ترجیح دیجیے۔
٭ منکی پاکس اور طبِ یونانی:۔
طبِ یونانی دنیا کا مقبول طریقۂ علاج ہے۔ منکی پاکس کی علامات کے لحاظ سے ماہرینِ طب یہ ادویہ تجویز کرسکتے ہیں: ’’لہسن بہترین قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے۔ دودھ میں ہلدی ملا کر پلائیں۔ ہلدی کو دافع درد، دافع سوزش اور اندمال زخم دوا کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ بخار کے لیے بنسلوچن 10 گرام، ست گلو 6 گرام، کنہ کنہ 6 گرام اور گوندببول 3 گرام کی نخودی گولیاں بنا کر صبح دوپہر شام دینا مفید ہے۔ نیزبخار کے لیے حب کرنجوہ بھی کھلایاجاسکتا ہے۔ آب منقیٰ میں شہد خالص ملا کر پلایا جائے۔ مصفی خون دوا کے طور پر حب نیم دے سکتے ہیں۔ ابریشم 2 ماشہ، گاؤ زبان 4 ماشہ، گل گاؤ زبان 4 ماشہ، مکوخشک 4 ماشہ، خاکسی 6 ماشہ، پانی آدھالیٹر جوشاندہ بنالیں اور مریض کو وقفہ وقفہ سے پلائیں۔ اس طرح مریض کو پیشاب آور ادویہ دی جائیں۔ ایسے مریض کو نرم غذا دیں۔ سلاد مثلاً کھیرا، تر، پیاز، مولی وغیرہ کھلائیں۔ دالیں پروٹین کا خزانہ ہیں اور اس آبلہ انگیز مرض میں فایدہ مند ہیں۔ منکی پاکس میں مریض کم زوری محسوس کرتاہے، اس لیے اس مرض میں قوتِ مدافعت کو بڑھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے خمیرہ گاؤ زبان عنبری اور خمیرہ ابریشم حکیم ارشدوالا ایک، ایک چمچ صبح شام کھلائیں۔
واضح رہے کہ کوئی دوا معالج کے مشورہ کے بغیراستعمال نہ کریں۔ منکی پاکس ایک تکلیف دہ متعدی مرض ہے۔ علامات ظاہر ہوتے ہی آئی سولیشن اختیارکرکے مستندمعالج سے فوری رابطہ کریں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔