ہماری ’’مینٹل ہیلتھ‘‘ کم زور ہونے کی سب سے بڑی وجہ ترجیحات کا درست تعین کرنے میں ناکامی اور وقت کا ضیاع یا غیر دانش مندانہ استعمال ہے۔ اپنے مقصدِزندگی کو حاصل کرنے کے لیے ہم جن ترجیحات کا تعین کرتے ہیں اور جن سرگرمیوں میں اپنا وقت خرچ کرتے ہیں، انہیں اہم یعنی ’’ایمپارٹنٹ‘‘ اور فوری یعنی ’’ارجنٹ‘‘ کی عینک سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
یاد رکھیں کہ اہم کام صرف اور صرف وہ ہیں جو آپ کو آپ کی منزل (مقصدِ زندگی) تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں اور فوری (ارجنٹ) کام وہ ہیں جو آپ ابھی نہ کریں، تو بعد میں نہ ہوسکتے ہوں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ضروری نہیں کہ ہر فوری کام آپ کے لیے اہم بھی ہو۔ اہم (ایمپارٹنٹ) اور فوری (ارجنٹ) کے اس فلسفے کو ایک مثال سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نعمان خان ایک پڑھا لکھا نوجوان ہے۔ اس نے اپنی زندگی کے لیے چند گول (Goal) متعین کیے ہیں۔ موجودہ جاب میں ترقی اور بہترین آمدنی، پُرآسایش گھر، اچھے خاندان میں شادی اور فلاحِ اُخروی نعمان خان کے چند نمایاں گول ہیں۔ اب ہر وہ کام جو نعمان خان کو ان مقاصد کی طرف لے کر جاتا ہے، اُس کے لیے اہم ہوگا اور جو کام ان مقاصد کے حصول میں کردار ادا نہیں کرتے، وہ کم اہم یا غیر اہم ہوں گے۔
اہم (ایمپارٹنٹ) اور فوری(ارجنٹ) کا یہ فلسفہ ’’اسٹیفن کووی‘‘ نے اپنی مایہ ناز کتاب ’’بے انتہا مؤثر لوگوں کی سات عادتیں‘‘ میں پیش کیا ہے۔ انہوں نے کاموں کو اہم اور فوری کے حساب سے چار حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک کو چوکور کے ایک رُبع سے تشبیہ دی ہے۔ پہلے رُبع میں وہ کام جو اہم (ایمپارٹنٹ ) بھی ہوں اور ارجنٹ بھی۔ دوسرے میں وہ کام جو اہم تو ہوں، مگر ارجنٹ نہ ہوں۔ تیسرے میں وہ کام جو ارجنٹ تو ہیں مگر اہم نہیں اور چوتھے میں وہ کام جو اہم ہیں اور نہ ارجنٹ۔
اب چوکور کے ان چار حصوں کو موبایل پر موصول ہونے والے مختلف پیغامات سے سمجھتے ہیں۔
نعمان خان کو ایک وقت میں چار مختلف پیغامات ملتے ہیں جن کو اوپر دیے گئے چار حصوں میں تقسیم کرنا ہے۔ ایک پیغام یہ تھا کہ ہیڈ آفس میں پروموشن بورڈکو ترقی کے لیے درخواست جمع کرنے کی آج آخری تاریخ ہے۔ دوسرا پیغام یہ تھا کہ ادارے نے ملازمین کے لیے ایک سکیم شروع کی ہے کہ جس ذریعے دفتری عملے کو گھر بنانے کے لیے بلاسود آسان اقساط پر قرضے دیے جا رہے ہیں۔ آخری تاریخ دس دن بعد ہے۔ تیسرا پیغام یہ تھا کہ دفتر میں آج پرانی گاڑیوں کی نیلامی کے لیے دفتری عملے کے درمیان بولی ہوگی۔ چوتھا اور آخری پیغام دفتر میں کام کرنے والے ایک ساتھی کا تھا اور یہ ویسا ہی پیغام تھا کہ جسے آگے 10 بندوں کے ساتھ شیئر کرنے پر شام تک خوشخبری ملتی ہے اور فارورڈ نہ کرنے سے نقصان ہوتا ہے۔ ایسے پیغامات سے اکثر ایمان اور جذبۂ حب الوطنی بھی تولا جاتا ہے۔
اب پہلا کام اہم بھی ہے اور ارجنٹ بھی، کیوں کہ یہ نعمان خان کو اپنے مقصد تک پہنچاتا ہے اور یہ آج نہ کیا، تو کل نہیں ہوسکے گا۔ پھر پروموشن کے لیے شاید کافی انتظار کرنا پڑے۔ دوسرا کام اہم تو ہے کہ گھر بنانا نعمان خان کا خواب ہے، لیکن ارجنٹ نہیں۔ کیوں کہ اس کو کرنے کے لیے اس کے پاس دس دن ہیں اور یہ کام وہ کل بھی کرسکتا ہے۔ تیسرا کام ارجنٹ تو ہے، کیوں کہ نیلامی آج ہورہی ہے…… لیکن اہم نہیں۔ کیوں کہ نعمان خان نے گاڑی نہیں لینی اور نہ اس کے پاس مناسب وسایل ہی ہیں لینے کے لیے۔ آخری پیغام ایک ایسا کام ہے کہ نہ تو ارجنٹ ہے اور نہ اہم ہی ہے۔ ایسے کاموں کے لیے قرآن نے ’’لغو‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے…… اور مومنین کی صفت یہ بیان کی ہے کہ وہ ’’لغو‘‘ سے پرہیز کرتے ہیں۔
’’مینٹل ہیلتھ‘‘ کے لیے سب سے پہلے اور ضروری کام یہ ہے کہ آپ اپنے کام ہمیشہ چوکور کے دوسرے حصے یعنی دوسرے رُبع میں کریں…… جہاں اہم کام اس وقت کیے جاتے ہیں…… جب وہ ارجنٹ نہ بنے ہوں۔ ہر وہ بندہ جو اپنے کام تساہل، سستی اور کاہلی کے وجہ سے لٹکاتا رہتا ہے اور پھر تب کرتا ہے…… جب وہ پہلے رُبع یعنی (وہ کام جو اہم بھی ہو اور فوری کرنے کا بھی) میں داخل نہ ہو، وہ ہمیشہ ذہنی مسایل کا شکار رہتا ہے۔ وہ خود خوش رہتا ہے اور نہ دوسروں کو خوش رہنے دیتا ہے۔ گھر میں ہو، تو رشتہ دار اذیت میں ہوتے ہیں اور دفتر میں ہو، تو عملے کی جان عذاب میں ڈالی ہوئی ہوتی ہے۔ ایسے شخص کے خواب اکثر ادھورے رہتے ہیں۔ البتہ اس کا بلڈ پریشر لیول ہائی رہتا ہے ۔
اکثر لوگ یہ سوچ کر کام کو دوسرے رُبع (یعنی جب کام اہم ہو لیکن ارجنٹ نہ ہو) میں نہیں کرتے کہ ابھی تو کافی وقت پڑا ہے۔ تھوڑا سا تو کام ہے، اس دن کرلوں گا…… اور پھر جب وہ دن آتا ہے، تو بیرونی عوامل کی وجہ سے حالات ایسے بن جاتے ہیں کہ کام نہیں ہو پاتا۔ مثال کے طور پر دوسرے رُبع کا کام تھا۔ درخواست دس دن بعد جمع کرنی تھی…… لیکن نعمان خان نے اسے یہ کہہ کر پہلے رُبع (اہم اور فوری نوعیت کے کام) میں ڈالا کہ ایک درخواست ہی تو ہے اور وہ بھی آن لاین…… کرلوں گا اُسی دن۔ اب جس دن درخواست جمع کرنے کی تاریخ تھی، اُسی دن ماموں کے بیٹے کامران کی بیوی کا بھائی فوت ہوا۔ ماں نے نعمان خان کو کہا کہ وہ نعمان کو وہاں چھوڑ آئے۔ اب نعمان خان اگر نہیں جاتا، تو والدہ ناراض ہوجاتی ہے…… اور جاتا ہے تو درخواست جمع کرنا مشکل ہوجائے گا۔ کیوں کہ کچھ چیزیں سکین کرکے اَپ لوڈ کرنی ہیں، لہٰذا موبایل سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔ پھر بھاگم بھاگ جنازے سے فارغ ہوا، تو راستے میں ’’محافظینِ اسلام‘‘ کے جلوس نے روڈ بلاک کیا تھا۔ عمومی طور پر دیکھا گیا ہے کہ جس دن بندے کو جلدی ہوتی ہے، اسی دن ہی گاڑی خراب ہوتی ہے۔ یا مہمان آجاتے ہیں اور یا روڈ بلاک۔ ایسے میں غصہ آنا اور مایوس ہونا فطری امر ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ آپ خوش تب رہ سکتے ہیں جب آپ کے خواب کسی نہ کسی حد تک پورے ہورہے ہوں…… یا آپ مطمئن ہوں کہ آپ نے اپنی کوشش ضرور کی…… اور یہ خواب تب پورے ہوسکتے ہیں…… جب آپ اس کے لیے اپنی عادات کو تبدیل کرتے ہیں۔
کسی دانا نے کیا خوب کہا ہے کہ آپ اپنے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتے…… البتہ آپ اپنی عادات کا فیصلہ کرسکتے ہیں…… اور آپ کی عادات آپ کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔
یاد رہے کہ اللہ تعالا نے بھی وعدہ کیا ہے کہ وہ کسی کی محنت ضایع نہیں کرتا۔ اس لیے اپنے آپ پر محنت کریں۔ اپنے کاموں کے بارے میں سوچیں۔ رُبع تین (ارجنٹ لیکن غیر اہم) اور رُبع چار (اہم بھی نہیں اور فوری بھی نہیں) کے کاموں سے پرہیز کریں۔ اپنے کام رُبع دوم میں کریں۔ پھر بھی رُبع اول والے کام آئیں گے…… لیکن آپ کے پاس ذہنی سکون اور وقت ہوگا۔ بہترین منصوبہ بندی سے اسے نمٹائیں۔
قارئین! یہی ’’مینٹل ہیلتھ‘‘ کی کنجی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔