اگر آپ کسی بھی بندے سے پوچھیں کہ زندگی میں وہ کیا چیز ہے جسے پانے یا حاصل کرنے کی وہ سب سے زیادہ خواہش رکھتا ہے؟ تو کچھ نمایاں جوابات یہ ہوں گے…… عزت، دولت، مرتبہ، شہرت، صحت، سکونِ قلب، وقار، اطمینان، علم، شعور، آگہی، آسایش، آرام وغیرہ۔ یہ وہ بنیادی زمرے ہیں جن کی وسعت میں وہ تمام چیزیں سماجاتی ہیں جو ہماری خواہشات میں شامل ہیں۔ خواہش، طلب، آرزو، چاہت، یہ وہ چند الفاظ ہیں جن سے ہماری زندگی کبھی خالی نہیں ہوتی۔
کوئی سالانہ امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنا چاہتا ہے، تو کوئی بہترین جاب کی تلاش میں ہوتا ہے…… کسی کو ترقی درکار ہے، تو کسی کو پوزیشن برقرار رکھنے کا غم…… کسی کو پُرآسایش زندگی کی تلاش ہے، تو کوئی پُرسکون نیند اور اطمینانِ قلب کے لیے در در کی خاک چھانتا پھرتا ہے…… کوئی دنیا گھومنا چاہتا ہے، تو کوئی دنیا کو گھمانا چاہتا ہے…… غرض ہم میں سے ہر ایک، ہروقت کسی نہ کسی خواب کے پیچھے بھاگ رہا ہوتا ہے۔
یہ خواب جس کے پیچھے بندہ ایک ’’ستارے‘‘ کی مانند کھلے آسمان (عملی زندگی کا میدان) میں بھاگتا پھرتا ہے، حقیقت میں اس کا اپنا ’’چاند‘‘ ہوتا ہے…… جسے یہ بندہ حاصل کرنے کی تگ و دو کرتا ہے۔ یہی وہ حقیقی منزل ہے…… جسے یہ ستارہ(بندہ) پانا چاہتا ہے۔ یعنی یہ مستقبل کی وہ تصویر ہے…… جو یہ حقیقت میں دیکھنا چاہتا ہے (’’وژن‘‘)۔
تو اپنے چاند یعنی خواب تک پہنچنے کا جو راستہ یہ بندہ اختیار کرتا ہے…… اُسے ’’پلان آف ایکشن‘‘، حکمت عملی، ’’مشن‘‘ اور ’’پروگرام‘‘ جیسے الفاظ سے سمجھا جاسکتا ہے ۔
یہ ستارہ یعنی بندہ اپنے چاند یعنی اپنے ’’وژن‘‘ تک پہنچنے کے لیے جس راستے یعنی ’’مشن‘‘، پروگرام پر چل رہا ہوتا ہے…… اُسی پر مختلف ’’سپیڈ بریکر‘‘، آزمائشیں، تکالیف، مخالفت اور رکاوٹیں آتی ہیں…… جن کے ساتھ رہتے ہوئے یہ بندہ اپنا کام جاری رکھتا ہے ۔ ان کے ساتھ اپنا توازن (’’بیلنس‘‘) برقرار رکھتا ہے…… (کیوں کہ کوئی بھی راستہ رکاؤٹوں سے مکمل طور پر خالی نہیں ہوسکتا۔) اسی توازن (’’بیلنس‘‘) کو ’’سائیکالوجی‘‘ کی زبان میں ’’ایڈجسٹمنٹ‘‘ کہتے ہیں۔
یہی ’’ایڈجسٹمنٹ‘‘ بندے کے کردار کا تعین کرتا ہے…… یعنی متوازن یا غیر متوازن شخصیت۔
دوسری طرف بندے کے کردار پر سماج بھی اثر انداز ہوتا ہے جسے ہم ’’سائیکالوجی‘‘ کی زبان میں ’’سائیکو سوشل‘‘ کہتے ہیں…… یعنی انسانی کردار پر سماجی اثرات کے متعلق۔ ان سماجی اثرات سے جو بندہ بذاتِ خود محسوس کرتا ہے…… وہ اس کے جذبات یعنی ’’ایموشنز‘‘ کہلاتے ہیں…… جب کہ ان اثرات کی بنیاد پر بندہ جو دوسروں کے ساتھ معاملہ کرتا ہے…… یعنی ردِعمل کا مظاہرہ کرتا ہے، وہ اس کا رویہ یعنی ’’بی ہیویر‘‘ کہلاتا ہے…… یعنی کسی بات پر دکھ پہنچنا جذبات یعنی ’’ایموشنز‘‘ اور اس دکھ کی وجہ سے اسے بددعا دینا، کنارہ کشی کرنا، منھ موڑنا، غصہ کرنا یا جسمانی طور پر ردِ عمل دینا رویہ یعنی ’’بی ہیویر‘‘ کہلائے گا۔ ان جذبات اور رویوں میں ’’ایڈجسٹمنٹ لیول‘‘ کی اطمینان بخش صورتِ حال کو ’’مینٹل ہیلتھ‘‘ کہتے ہیں…… یعنی جتنا یہ لیول اطمینان بخش ہوگا…… اتنا ہی انسان کا ’’مینٹل ہیلتھ‘‘ بہتر قرار پائے گا…… اور جتنا یہ ’’ایڈجسٹمنٹ لیول‘‘ کم زور ہوگا…… اتنا ہی ’’مینٹل ہیلتھ کمپرومائزڈ‘‘ ہوگا۔
یہ ’’ایڈجسٹمنٹ لیول‘‘ بہتر اور اطمینان بخش ہو، تو بندہ خود بھی خوش رہتا ہے…… اور دوسروں کو بھی خوش رکھتا ہے…… اور غیر تسلی بخش اور کم زور ہو، توبندہ خود بھی پریشان رہتا ہے…… اور دوسروں کے لیے بھی عذاب بن جاتا ہے۔
یہ ’’ایڈجسٹمنٹ لیول‘‘ کمپرومائزڈ ہو، تو بندہ مختلف قسم کی ذہنی بیماریوں اور الجھنوں کا شکار ہوجاتا ہے۔ جیسے نیند کا نہ آنا یا بہت زیادہ نیند…… بھوک کا نہ لگنا یا بسیار خوری……جسم میں درد محسوس کرنا لیکن جگہ کا معلوم نہ ہونا کہ کہاں درد ہورہا ہے ؟ کام میں دل نہ لگنا…… کسی کی بھی پروا نہ ہونا…… مایوسی…… اپنا آپ مظلوم لگنا…… یہ محسوس کرنا کہ میرا کوئی نہیں…… اور ’’سوِنگ موڈ‘‘ یعنی پل میں تولا اور پل میں ماسہ والی کیفیت…… یہ اور ان جیسی دیگر علامات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آپ کی ’’مینٹل ہیلتھ‘‘ کمپرومائزڈ ہے…… اور اس کی بنیادی وجہ جذبات اور رویوں میں ’’ایڈجسٹمنٹ لیول‘‘ کا غیرتسلی بخش ہونا ہے۔
………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔