79 total views, 2 views today

  جسمانی صحت و تن درستی، خوشی اور راحت کی کیفیت کا دارومدار ذ ہنی صحت پر ہوتا ہے۔ اگر انسان کسی وجہ سے ذہنی طورپر صحت مند نہ ہو، تو اس کے اثرات پورے بدن پر مرتب ہوتے ہیں۔ کیوں کہ دماغ ہی انسان کے سارے جسمانی نظام کو کنٹرول کرتا ہے۔
دماغی کم زوری یا بیماری کے سبب ہی بہت سی اعصابی، نفسیاتی اور جسمانی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق دنیا بھر میں تقریباًپچاس کروڑ افراد کسی نہ کسی دماغی عارضے میں مبتلا ہیں…… جس میں سب سے زیادہ پائی جانے والی دماغی بیماریاں ’’ڈیپریشن‘‘ اور’’شیزو فرینیا‘‘ ہیں۔
دنیا بھر میں ہر سال ذہنی امراض میں مبتلا 8 لاکھ افراد اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیتے ہیں۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں ذہنی بیماریوں کے علاج معالجے پر بہت کم رقم خرچ کی جاتی ہے۔
’’پاکستان ایسوسی ایشن آف مینٹل ہیلتھ‘‘ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ افراد ذہنی امراض کے مسایل سے دو چار ہیں…… جب کہ پاکستان میں صحت کے لیے مختص کیے گئے بجٹ میں سے صرف 2 فیصد دماغی امراض اور ان کے علاج کے لیے خرچ کیا جاتا ہے۔
ذہنی مرض کا سب سے بڑامسئلہ یہ ہے کہ مریض کو اس بیماری کے احساس کی بجائے عجیب بے چینی و اضطراری کی کیفیت لاحق رہتی ہے۔
پاکستان میں عمومی طور پر لاحق ہونے والے ذہنی و نفسیاتی امراض میں ’’انگزایٹی‘‘، فکر، تشویش، اعصابی دباو، احساسِ کمتری، ’’الزایمر‘‘، تنہائی پسندی، بے خوابی وکم خوابی، بسیار خوابی اور خراٹے لینا، نیند کے دوران میں سانس کا رُکنا، پاگل پن، ’’پارکنسن ڈیزیز‘‘، رعشہ، حسد، حافظہ کی کم زوری، خوف کا فوبیا، خود اعتمادی کا فقدان، منفی خیالات کا تسلط، افسردگی، ذہنی اضمحلال، ذہنی تناو، سردرد اور دردِ شقیقہ، ’’شیزوفرینیا‘‘، ’’فرسٹریشن‘‘، احساسِ محرومی، فالج و لقوہ، مرگی، وہم اور’’ ہسٹیریا‘‘ وغیرہ شامل ہیں۔
مختلف نفسیاتی و ذہنی مرض میں مبتلاافراد کو بھوک یا تو لگتی ہی نہیں…… یا پھر سوچ و فکر میں ایسے پریشان ہوتے ہیں کہ خوراک کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے۔
اس طرح بعض مریضوں کو نیند آتی ہی نہیں…… یا پریشان کن خیالات کی وجہ سے بہت دیر سے آتی ہے۔ رات کو بار بارآنکھ کھل جاتی ہے اور بے چینی کی کیفیت ہوتی ہے۔ اگرچہ تھکن اور کم زوری مختلف جسمانی بیماریوں کی علامت ہے…… مگر ذہنی مریض بغیر کسی وجہ کے اپنے آپ کو بہت کم زور محسوس کرتے ہیں…… اور جلدی تھک جاتے ہیں۔ جسمانی کم زوری کے علاوہ جنسی کم زوری بھی محسوس کرتے ہیں۔ مریض اپنے حلیے اور لباس کی صفائی کا خیال نہیں رکھتے۔ چہرے سے اُداسی، پریشانی، اضطراب یا وحشت ٹپکتی ہے۔ اکثر نفسیاتی بیماریاں مریض کی گفتگو سے ہی پہچان لی جاتی ہیں۔ کچھ خاموش ہوجاتے ہیں…… جواب نہیں دیتے اور بہت سے لوگ مختصر جواب دیتے ہیں۔
اس طرح کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی گفتگو بے ربط ہوتی ہے…… جب کہ کچھ بیماریوں میں مریض بغیر سوچے سمجھے مسلسل بولنا شروع ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ نیند میں بولنا، جھنجھلاہٹ، بلاوجہ غصہ، عضلاتی تناو، گیس کی بیماری، سانس کی تکلیف، سر کا درد، کمر اور جوڑوں کا درد، یہ سب بھی نفسیاتی اور دماغی بیماریوں کی علامات ہو سکتی ہیں۔
انسان کے ذہنی و جذباتی عوامل اس کے جسم پر اثر انداز ہو کر بہت سے پیچیدہ ذہنی، جسمانی و نفسیاتی امراض کا باعث بنتے ہیں۔
جدید ایجادات کی وجہ سے بھی انسانی قدروں میں بڑھتا زوال، سماجی روابط میں کمی اور تنہائی کی کیفیت ذہنی صحت کو تیزی سے تباہ کر رہی ہے اور ان وجوہات کی بنا پر زندگی سے خوشیاں منقود ہو رہی ہیں۔
بڑے شہروں میں دیر سے سونے کے باعث نیند کی کمی بھی جھنجھلاہٹ، غصہ، ’’ڈپریشن‘‘، عضلاتی تناو اور ان جیسے دیگر کئی عوارض کا باعث بنتی ہے۔
اس کے علاوہ آج انسان جس تذبذب، بے چینی اور انتشار کا شکار ہے…… اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہمارا ایمان ذاتِ خداوندی پر کم زور ہوچکا ہے۔ اگر ہم اللہ تعالا پر کامل ایمان رکھتے ہوئے اور اسے رحمان، رحیم، غفار، جبار، قدوس، رزاق، طبیب اور منصفِ اعظم سمجھتے ہوئے ربّ سے تعلق کو مضبوط بنائیں، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بڑے امراض، ڈپریشن، ’’فوبیاز‘‘ اور ’’ایڈز‘‘ وغیرہ کا شکار ہوجائیں۔
بلاشبہ دینِ حق ’’اسلام‘‘ ہماری مادّی فلاح اور بدنی صحت کے لیے بھی ایک بہترین اور مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس پر عمل پیرا ہونے سے نہ صرف ہم اخلاقی و روحانی اور سیاسی و معاشی زندگی میں عروج حاصل کرسکتے ہیں…… بلکہ جسمانی سطح پر صحت و توانائی کی دولت سے بھی بہرہ ور ہوسکتے ہیں۔ قرآنی تعلیمات و احکامات اور سیرتِ طیبہ صلی اللہ علیہ و سلم، تشکیلِ ذات اور تکمیلِ معاشرہ کا بہترین ذریعہ ہیں۔
اسلام ہمیں حسنِ سلوک، صلہ رحمی، عدل و انصاف، معاشیات، سیاسیات، نفسیات، طب غرض یہ کہ زندگی کے ہر شعبے میں اور ہر نہج سے بہترین و مطمئن طرزِ حیات کا سلیقہ سکھلاتا ہے…… اور جیسا کہ انسانی بدن کے عارضوں کو طبی نسخہ جات سے دور کیا جاتا ہے…… ایسے ہی قلب و روح کے تمام مسایل و جملہ امراض سے نجات…… جسم اور روح کی شفا بخشی، اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے بغیر ممکن نہیں۔ جسمانی صحت و توانائی، ذہنی طہارت و لطافت، روحانی بالیدگی و پاکیزگی، ارادوں اور نیتوں کی اصلاح اور کردار کی عظمت و بلندی اسوۂ حسنہ کے لازمی ثمرات ہیں جن کی انسان کو ہر زمانے میں ضرورت رہی ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ انسان کا ایک مقصدِ حیات ہے جس نے اس مقصد کو پہچان لیا…… وہ انسان کامیاب ہے۔ وہ احکاماتِ خداوندی پر عمل کرتا ہے۔ اپنے وجود سے محبت کرتا ہے۔ دیگر انسانوں کی قدر کرتا ہے۔ ہمیشہ خوش و مطمئن رہتا ہے۔ کبھی محرومی اور مایوسی کے اندھیروں میں نہیں کھوتا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اس کاینات کی تخلیق اس کے لیے کی گئی ہے۔ اس کی تمام تر نعمتوں کو اس کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ اس کی ہر خوب صورتی، شادمانی اور کامرانی اس کے لیے وقف کر دی گئی ہے…… اور ان تمام نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے اسے عقل کا نور عطا کیا گیا ہے۔
قارئین، ذہنی و نفسیاتی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم دن میں 8 گھنٹے کی نیند لازمی لیں، تاکہ دن بھر کی جسمانی و دماغی تھکاوٹ دور ہوسکے۔
کھانا آرام و سکون سے کھائیں۔
غصہ، حسد اور کینہ جیسی منفی عادات سے احتراز برتیں۔ غصے کے دوران میں ہمیشہ ضبط سے کام لیں۔
گھر کے اندر، کام کی جگہ اور راستے میں ملنے جلنے والوں سے ہمیشہ خوش اسلوبی سے ملیں اور محبت و رواداری کو اپنا شعار بنائیں۔
چھوٹی موٹی باتوں کو درگزر کریں۔ ہر بات کو اپنے ذہن پر سوار مت کریں۔ اگر کوئی ناموافق بات سنیں…… یا نظر آئے، تو اسے بھلانے کی کوشش کریں۔
چھوٹوں سے پیار و محبت اور بڑے افراد کا ادب کریں۔ محبت پانے کی طلب رکھنے کی بجائے محبت بانٹنے والے بنیں۔ لالچ، حرص و ہوس سے گریز کریں۔
ہر قسم کے نشہ سے دور رہیں۔
احساسِ کمتری کو کبھی خود پر غالب نہ آنے دیں۔
اس طرح عبادتِ الٰہی کے ساتھ ساتھ مراقبہ یعنی خاموشی و یکسوئی سے ارتکاز اور ورزش کی عادت اپنائیں…… جو ذہنی و جسمانی صحت کے لیے اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے۔
زندگی گزارنے کے لیے ہمیشہ پُرامید اور مثبت انداز سوچ اختیار کریں۔
واہمے اور ناامیدی کی کیفیت انسانی دماغ کو کم زور کر دیتی ہے…… اوراس طرح انسان بیماریوں کا گڑھ بن جاتا ہے۔
قارئین، ہمیشہ یاد رکھیں…… ہنسی خوشی زندگی گزارنا ذہنی و جسمانی صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔
……………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔