22 نومبر 2023ء
روزنامچہ: کامریڈ امجد علی سحابؔ 
سوات سے ’’روزنامہ مشرق‘‘ (پشاور) اور ’’ڈیوہ ریڈیو‘‘ (وائس آف امریکہ) کے رپورٹر فیاض ظفر کی فیس بُک وال پر خبر گرم ہے کہ سیدو ہسپتال کے کیجولٹی وارڈ جسے ’’ٹراما سینٹر‘‘ بھی کہتے ہیں، میں مریض صحت یاب ہونے کی بجائے خوار ہورہے ہیں۔
فیس بُک وال پر دی جانے والی خبر کے مطابق، ملاکنڈ ڈویژن کے 9 اضلاع کے مین کیجولٹی (ٹراما سنٹر) جو سنٹرل ہسپتال سیدو شریف میں واقع ہے، کی سی ٹی سکین مشین کئی دنوں سے خراب پڑی ہے اور ایکسرے فلم ختم ہونے کی وجہ سے ایکسرے ڈیپارٹمنٹ بھی بند ہے۔
اس پر طرہ یہ کہ ٹراما سینٹر میں 90 فی صد ایمرجنسی ادویہ ختم ہیں۔ سگ گزیدہ (کتے کا کاٹا)، دیگر زہریلے جانوروں اور حشرات کے کاٹے گئے مریض کے لیے بھی ویکسین ناپید ہے۔”antiretroviral” (ARV) بھی ختم ہے۔
فیاض ظفر اپنی فیس بُک وال پر یہ بھی لکھتے ہیں کہ کیجولٹی انتظامیہ کے مطابق کیجولٹی میں روزانہ 1500 سے زیادہ ایمرجنسی مریض آتے ہیں۔ کیجولٹی میں علاج کے لیے آنے والے مریض سہولیات کی عدم دست یابی کی وجہ سے خوار ہو رہے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ فیاض ظفر نے جب اس سلسلے میں ٹراما سنٹر کے ڈی ایم ایس سے رابطہ کیا، تو اُنھوں نے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اس بارے میں وہ محکمہ کو بار بار خط لکھ چکے ہیں مگر
’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ!‘‘
یہ تو تھی آج کی سوشل میڈیا کی گرم خبر۔
شام کے وقت ہمارے روزنامہ مشرق کے دفتر (واقع مکان باغ، مینگورہ سوات) ایک مہمان آئے۔ عالم فاضل شخصیت ہیں۔ دفتر سے چھٹی ہوتے وقت اُن سے باقاعدہ طور پرروزنامچہ میں ’’کوٹ‘‘ ہونے کی اجازت نہیں لی، اس لیے اِن سطور میں اُن کا نام شائع نہیں کیا جاسکتا۔ دورانِ گفت گو گرچہ اُن کا روئے سخن فیاض ظفر کی طرف تھا، مگر پھر بھی گردن موڑ موڑ کر میری طرف اِک آدھ جملے پر زور دیتے ہوئے اولاً بھنویں سکیڑتے، ثانیاً سر ہلا کر اپنے مخصوص انداز سے مجھے بھی بات سمجھانے کی سعی فرماتے۔ گفت گو کا نچوڑ ملاحظہ ہو:
مختلف اخبارات اور شخصیات کا ذکر چل رہا تھا کہ ایسے میں ’’فرنٹیئر پوسٹ‘‘ کا ذکر آیا۔ مہمانِ گرامی نے فیاض ظفر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ فرنٹیئر پوسٹ جیسی چس کسی دوسرے اخبار کو پڑھ کر نہیں آئی۔ فیاض ظفر نے بھی ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا کہ اُس وقت ڈان جیسے اخبار کا پرچہ کم اور فرنٹیئر پوسٹ کا زیادہ آتا تھا۔
جملۂ معترضہ کے طور پر جتنا راقم کو یاد پڑتا ہے، ایک دفعہ استادِ محترم فضل ربی راہیؔ نے تاکید کی تھی کہ ادارتی صفحہ کی نوک پلک سنوارتے ایک ایک جملے بلکہ ایک ایک لفظ کی ادائی کا خیال رکھنا ہے۔ ساتھ ’’فرنٹیئر پوسٹ‘‘ اخبار کی مثال دیتے ہوئے کہا تھا کہ دو تین جملوں کو بنیاد بنا کر کیسے ’’توہینِ مذہب‘‘ کی آڑ میں اخبار کے دفتر کو نذرِ آتش کیا گیا۔
جتنا مجھے یاد پڑتا ہے، راہیؔ صاحب نے یہ بھی کہا تھا کہ اخبار کے عروج کے وقت (بالفاظِ دیگر نذرِ آتش ہونے والے دنوں میں) اخبار کے عملے میں ایڈیٹر کی پوسٹ پر ’’محکمۂ زراعت‘‘ والوں نے اپنا بندہ متعین کرایا تھا، جس نے آگے جاکر ایک تحریر کے بیچ کچھ ایسے جملے شائع کیے، جن سے’’توہینِ مذہب‘‘ کی طرف راہ ہم وار کی گئی۔
آمدم برسرِ مطلب، فیاض ظفر نے مہمانِ گرامی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اُس وقت کے ایڈیٹر کو اخبار کے نذرِ آتش ہونے سے پہلے ’’ہیروئن‘‘ کی لت لگ گئی تھی۔ کسی نے ’’ایڈیٹر کے نام خط‘‘ (جو چند جملوں پر مشتمل تھا) اُسے تھمایا، ساتھ کچھ پیسے بھی دیے۔ ایڈیٹر صاحب نے خوشی خوشی پیسے جیب میں رکھے اور خط کو اخبار کے صفحات کی زینت بنالیا۔ اگلے روزسورج فرنٹیئر پوسٹ کے زوال کا پروانہ لے کر طلوع ہوا۔
مہمانِ گرامی نے باتوں باتوں میں راہیؔ صاحب کی کہی ہوئی بات (’’محکمۂ زراعت‘‘ کے بندے والی بات) پر مہرِ تصدیق ثبت کرتے ہوئے ’’محکمہ‘‘ سے اخبار کی طرف آتے وقت کا عہدہ تک بھی واضح کردیا۔
فیاض ظفر نے ایک رونگٹے کھڑے کرنے والا انکشاف یہ کیا کہ اخبار کا پرچہ ابھی بازار آیا بھی نہیں تھا اور پشاور کے ’’سپین جمات‘‘ (سفید مسجد) میں میٹنگ ہوئی کہ صبح جو پرچہ تقسیم ہونے والا ہے، اُس میں توہینِ مذہب کا مواد شائع ہونے جا رہا ہے۔ پھر اُس میٹنگ کے بعد اُس روز جو کچھ ہوا، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔
خلیل الرحمان اعظمی کے بقول
دل کی رہ جائے نہ دل میں یہ کہانی کَہ لو
چاہے دو حرف لکھو، چاہے زبانی کَہ لو
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔