پاکستان سے محبت میرے وجود کا حصہ ہے۔ میں جب بہت چھوٹا شاید تین چار سال کا تھا، تو میں نے محسوس کیا کہ اگر ایک چھوٹے سے چارٹ پر ڈیڑھ سو ممالک کے پرچم بنے ہوں، تو پاکستان کا ننھا سا پر چم تلاش کرنے میں مجھے ایک سیکنڈ بھی نہیں لگتا۔ جوں ہی میں چارٹ پر نظر ڈالتا، سبزہلالی پرچم چمک کر گویا مسکراتا ہوا میرے سامنے آتا۔ میں جب بھی اس پرچم پرنظر ڈالتا ہوں، ایک ناقابلِ بیان خوشی، ایک پُرکیف مستی اور ایک عجیب سے فخر کا احساس میرے وجود میں گدگدی کرتا ہے۔ پھر حالات نے ایک عجب کروٹ لی اور اس پُرکیف احساس کے لٹنے کا خدشہ پیدا ہوا۔
یہ ۲۰۰۸ء کے موسمِ سرما کا ذکر ہے۔ میں ایک طالبان کمانڈر کا انٹرویو کرنے سوات گیا ہوا تھا۔ منگورہ شہر سے اپنی منزل کی طرف جاتے ہوئے کئی چیک پوسٹوں سے باعزت بری ہوا۔ ایک دیہی علاقے سے گزرتے ہوئے مجھے شک گزرا کہ آگے شاید چیک پوسٹ ہے۔ خاردار تاریں لگی ہوئی تھیں۔ کنکریٹ کے عارضی رکاوٹیں کھڑی تھیں، لیکن کوئی آدم زاد نظرنہیں آیا، تو میں نے گاڑی آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ ابھی ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا تھا کہ ایک جی دار، تحکم سے بھرپور، میدانِ جنگ کا ذائقہ رکھنے والی آواز کی گونج سنائی دی: ’’رک جاؤ۔‘‘ میں رک گیا۔ ’’گاڑی سے نیچے اترو۔‘‘ میں اتر گیا۔ ’’آنکھوں میں آلو لگے ہیں؟ نظر نہیں آتا، چیک پوسٹ ہے؟‘‘ میں نے آواز کی تلاش میں نظر دوڑائی، تو سڑک کنارے واقع سکول کی چھت پر بنے مورچے میں سپاہی نظرآگیا۔ وہ کیل کانٹے سے لیس تھا۔ اتنے میں قریب ہی ایک اور سپاہی نظر آیا۔ اس نے بندوق میرے اوپر تھانی ہوئی تھی۔ انگلی ٹریگر پر اور آنکھیں میری آنکھوں میں ڈال کر پوچھ گچھ کرنے لگا۔ میں نے اپنی صفائی پیش کرنی چاہی اور کہا کہ غلطی ہوگئی۔ ’’غلطی نہیں، مستی ہوگئی۔‘‘ اس کی آواز میں بلاکا تحکم اور تحقیر تھا۔ مجھے آس پاس ٹینک اور توپ کے گولے پھٹتے ہوئے محسوس ہوئے۔ شاید میں میدانِ جنگ میں تھا۔ سپاہی نے تلاشی نہیں لی اور جانے دیا۔ گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہرا رہا تھا۔ میں ٹھٹک کر رہ گیا۔ یہ آدمی میرے پرچم کے سائے میں مجھ پر بندوق تھان رہا ہے؟ اس پرچم کے سامنے میں مشکوک ٹھہرا ہوں؟ ایک عجیب احساس، جس کی وضاحت میرے لیے ممکن نہیں۔



پی ٹی ایم والے اس پرچم کو اٹھائیں گے، تو پورا پاکستان ان کی حمایت کرے گا۔ اس پرچم سے بے اعتنائی کریں گے، تو اپنے مطالبات کے برحق ہونے کے باوجود تنہا رہ جائیں گے۔ (Photo: Shutterstock)

پھر پاک فوج کی بے پناہ قربانیوں کے نتیجے میں خوں ریزی کا دور ختم ہوگیا۔ پوسٹ آپریشن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا۔ فوج نے وزیرستان، باجوڑ اور سوات میں پورے پورے گاؤں، محلوں اور بازاروں کو حکم دیا کہ ہر بندہ اپنے گھر کے گیٹ پر اور دکان کی شٹر پر پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کا رنگ کرنے کا پابند ہے۔
پاکستان سے میری محبت غیرمشروط ہے، لازوال ہے اور بے مثال ہے۔ میں دنیا کے کسی ملک سے اتنی والہانہ محبت نہیں کرسکتا جتنے کہ اپنے غمزدہ، دکھی پاکستان سے کرتاہوں، لیکن اگر ایک آدمی تحکم کے ساتھ مجھے حکم دے کہ کل تک اپنے گھر کے دروازے اور دکان کی شٹر پر پاکستان کا جھنڈا پینٹ کرو، تو میں خود اپنی حب الوطنی کو مشکوک سمجھوں گا۔
جن لوگوں نے لوڈ شیڈنگ کو صرف سنا ہے، کبھی چکا نہیں۔ جنہوں نے پختونخوا میں ہونے والی دہشت گردی اور جواب میں فوجی آپریشن کو صرف ٹی وی سکرین پر دیکھا ہے، جن کو کبھی شناخت پریڈ کا تجربہ نہیں ہوا ہے۔ اپنے لباس اور گھر کی تلاشی دی ہے، نہ ایک مشکوک کی حیثیت سے اپنی بہادر افواج کے سامنے پیش ہوے ہیں، نہ کبھی لاپتا ہوئے ہیں، نہ ان کے خاندان کا کوئی فرد لاپتا یا مفرور ہے، نہ انہوں نے اپنے کسی عزیز کی مسخ شدہ لاش کسی کھائی سے برآمد کی ہے، نہ انہوں نے نامعلوم نمبر سے کوئی فون کال وصول کی ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا کہ انہیں حب الوطنی کے خوابِ خرگوش سے کیسے بیدار کروں؟
مجھ جیسے گل خانوں کو تو فوجی رنگ سے بھی محبت ہے، لیکن جب آپ کے گھر کے سامنے چار پانچ فوجی گاڑیاں دھول اڑاتی رک جائیں، ہر گاڑی پر سبزہلالی پرچم پینٹ کیا گیاہو، ہر گاڑی پر یہ پرچم لہرا بھی رہا ہو، ہر فوجی کے بازو پر یہ پرچم چسپاں ہو، پھر وہ فوجی اپنے ساتھ لائی ہوئی سیڑھیاں لگا کر آپ کے گھر کی چھت پر، دروازوں سے، دیواروں کو پھلانگ کر اندر گھس آئیں، گلی کی نکڑ پر مشین گن لیے کھڑے ہوں، مردوں کو اُٹھا کر لے جائیں،بعد میں کہیں کہ ہمیں نہیں پتا، تھانے میں رپورٹ کریں، تھانے والے کہیں کہ اس سلسلے میں ہم کچھ نہیں کرسکتے، تو بتائیں کہ پاکستان کا پرچم دیکھ کر آپ کیا محسوس کریں گے؟
پشتین غدار ہے، نہ اس ملک کا دشمن۔ وہ ان جذبات کی ترجمانی کرنے کی کوشش کررہاہے جن کو ہم نے عظیم تر قومی مفاد میں اپنے مردہ دل کے قبرستان میں دفن کیا ہوا ہے۔
سوات میں جب پی ٹی ایم کا پہلا جلسہ ہورہا تھا، تو میں نے تجویز دی تھی کہ پاکستانی پرچم اٹھاکر جلسہ میں شرکت کریں، تاکہ ملک دشمنی کا تاثر زایل ہو، لیکن مجھے جواب دیا گیا کہ کون سا جھنڈا؟ جسے میرے گھر پر زبردستی گھاڑ دیا گیا ہے؟ جو پاک سرزمین پارٹی کا سیاسی پرچم ہے؟ جو ہر اس عمارت پر لگا ہے جہاں اس ملک کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے والا دیمک رہتاہے؟ میرے پاس کوئی جواب نہیں ہوتا۔
اس کے باوجود یہ حقیقت ہے کہ پاکستان کا پرچم ایک طاقت ہے جس کو اصل مالکوں یعنی ملک کے عوام نے فراموش کردیاہے اور باقی لوگ اس کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، روس، چین، ترکی سمیت دنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ نظر آنے والی چیز ان کا قومی پرچم ہوتی ہے۔ پی ٹی ایم والے اس پرچم کو اٹھائیں گے، تو پورا پاکستان ان کی حمایت کرے گا۔ اس پرچم سے بے اعتنائی کریں گے، تو اپنے مطالبات کے برحق ہونے کے باوجود تنہا رہ جائیں گے۔

………………………………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے