آئی ایم ایف کی جانب سے مقرر کردہ وطنِ عزیز کے وزیرِ خزانہ جناب محمد اورنگ زیب نے کابینہ کے دو دیگر بھاری بھرکم وزرا جناب عطاء اللہ تارڑ اور جناب اعظم نذیر تارڑ کے ہم راہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی پنشن کو ملکی خزانے پر بہت بڑا بوجھ قرار دیا ہے۔ اُنھوں نے اس سلسلے میں مزید کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمیں سروس سٹرکچر میں تبدیلی کرنا ہوگی، تاکہ پنشن کا خرچہ آہستہ آہستہ ہمارے قابو میں آئے۔
اگر ماضی کے اوراق پلٹے جائیں، تو یہ حقیقت ہمارے سامنے واضح ہوجائے گی کہ مسلم لیگ (ن) جب بھی برسرِ اقتدار آئی ہے، اس نے سرکاری ملازمین کے ساتھ سوتیلاپن ہی برتا ہے۔ سرکاری ملازمین کو خاطرخواہ ریلیف صرف پیپلز پارٹی اور پرویز مشرف کے دورِ حکومت ہی میں ملا ہے۔ سرکاری ملازمین کے معاشی قتل کے معاملے میں مسلم لیگ ن اور پی ٹی آئی ایک ہی صفحے پر نظر آتی ہیں۔ بدقسمتی سے یہی دونوں جماعتیں اس وقت عوامی مقبولیت کی دعوے دار بھی ہیں۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
جناب محمد اورنگ زیب کے پیش رو جناب اسحاق ڈار نے بھی گذشتہ سال بجٹ کے موقع پر پنشنروں کو ملکی خزانے پر بہت بڑا بوجھ قرار دیا تھا۔ اب یہ بات موجودہ وزیرِ خزانہ ’’نشرِمکرر‘‘ کے طور پر بیان فرما رہے ہیں۔ ملکی معیشت کی کشتی کو تباہی کے کنارے پر دیکھ کر اُنھوں نے شاید حبیب ولی محمد کی گائی غزل کا یہ شعر پلے باندھ لیا ہے کہ
اب مجھ پہ نزع کا عالم ہے تم اپنی محبت واپس لو
جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو بوجھ اتارا کرتے ہیں
ملکی معیشت کی کشتی کو اپنی غلط پالیسیوں کے سبب بیچ منجدھار میں لاکر اس میں چھید کرنے کے بعد اس کشتی کا سب سے بے مایہ سامان یعنی پنشنروں کو کشتی سے دھکا دے کر کشتی کو ’’بہ خیر و عافیت‘‘ کنارے پر لے جانے کی عقل مندی کی بات سمجھ سے بالاتر ہے۔ کشتی کے کاریگر ملاح بہ خوبی جانتے ہیں کہ ایسی صورتِ حال میں بھاری بھر کم بوجھ سے جان چھڑائی جاتی ہے۔ کشتی پر بوجھ کا بھاری پتھر پنشنر نہیں بلکہ اس بوجھ کا پہاڑ وہ مراعات یافتہ طبقہ ہے، جس میں ہماری معیشت کی کشتی کے ناخدا یعنی محمد اورنگ زیب صاحب خود بھی شامل ہیں۔
آپ کو یاد ہوگا کہ سابق وزیرِ خزانہ جناب اسحاق ڈار کئی سال خود ساختہ جَلا وطن رہے ہیں۔ عمران خان کے پورے دورِ حکومت میں برطانیہ میں سکونت پذیر رہنے کے بعد جب وطن واپس تشریف لائے، تو اُنھوں نے سینیٹر کے طور پر حلف اُٹھایا۔ یہ تو سبھی سمجھتے ہیں کہ جائننگ کے دن سے ہی کسی کی سروسز کا شمار ہوتا ہے۔ سرکاری ملازمین جب کسی پوسٹ کے لیے منتخب ہونے کے بعد حاضری دیتے ہیں، تو اُن کی ملازمت کا وہ پہلا دن ہوتا ہے۔ چاہے اپائنٹمنٹ آرڈر دس دن پہلے جاری ہوئے ہوں۔ اسی حساب سے جناب اسحاق ڈار نے جب سینٹ کی رُکنیت کا حلف اُٹھایا، تو وہ سینیٹر کے طو رپر اُن کا پہلا دن تھا۔ اخبارات میں رپورٹ ہوا تھا کہ ُانھوں نے اپنی غیر حاضری اور جَلاوطنی کے دور کی مراعات بھی بقایا جات کی مد میں حاصل کیں، جو کروڑوں میں بنی تھیں۔ دیکھا جائے، تو اُن پر اللہ کی خیر ہے۔ وہ بغیر تنخواہ بھی کام کرسکتے ہیں، مگر اُنھوں نے مبینہ طور پر وہ رقم بھی وصول کرلی جس کے وہ اخلاقی طور پر حق دار نہ تھے۔
پاکستان میں ایک قانون یہ بھی ہے کہ کوئی شخص چاہے ایک دن کے لیے بھی وزیرِاعظم یا وزیرِ اعلا رہا ہو، تو وہ ساری زندگی کے لیے پنشن اور مراعات کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ ان مراعات میں نقد پنشن کے علاوہ سیکورٹی گارڈ اور دیگر ڈھیر ساری مراعات بھی شامل ہیں۔ نگران وزرائے اعلا اور وزرائے اعظم کے لیے بھی یہی پیکیج ہے۔ چوں کہ یہ مراعات یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لہٰذا انھیں چھیڑتے ہوئے جناب محمد اورنگ زیب کے پَر جلتے ہیں، مگر سرکاری ملازمین، جنھوں نے اپنی زندگی کے 35 تا 40 سال حکومت کو دیے ہوتے ہیں، وہ چوں کہ ’’شودر‘‘ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے جناب وزیرِ خزانہ کو بوجھ لگ رہے ہیں۔ خود وزیرِ خزانہ بھی ملک کو کروڑوں روپے ماہانہ میں پڑ رہے ہوں گے۔
دیگر متعلقہ مضامین: 
بزرگ پنشنرز (ماسٹر عمر واحد) 
ریاست ماں ہے مگر سگی یا سوتیلی؟ (ساجد امان)
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائے یہود (سید فیاض حسین گیلانی)
بوڑھے پنشنرز مہنگائی سے سب سے زیادہ پریشاں (ماسٹر عمر واحد) 
آپ عوام کے خادم، نہ بِکنے والے، نہ جھکنے والے غیور نمایندوں یعنی ایم پی ایز، ایم این ایز اور سینیٹرز کی مراعات دیکھیں، تو لگتا ہے ہم آئی ایم ایف سے بھیک کی طرح قرض مانگنے والا ملک نہیں، بلکہ آئی ایم ایف ہمارا مقروض ہے۔ ماہانہ مشاہرہ، لاکھوں کا ماہانہ ٹی اے ڈی اے بل، مفت ہوائی جہاز اور ریل کی ٹکٹیں، جنھیں استعمال نہ کرنے پر نقدی کی صورت میں معاوضہ، مفت پٹرول، بجلی، ٹیلی فون اور گیس کی دست یابی، ہزاروں کی تعداد میں ان کے سیکورٹی گارڈ، ان کے منشیوں تک سب کو درجِ بالا سہولیات مفت حاصل ہیں۔
اس کے علاوہ پروٹوکول کے نام پر وزرا کے لیے سیکڑوں گاڑیاں، کچن کے نام پر ماہانہ کروڑوں کے اخراجات، بیرونِ ملک درجنوں افراد ساتھ لے کر سیر سپاٹے، درجنوں افراد کو ساتھ لے جا کر سرکاری حج…… یہ وہ بھاری پتھر ہیں جو معیشت کی ناتواں کشتی پر پہاڑ بن کر لدے ہوئے ہیں۔ اس پہاڑ کے مقابلے میں سرکاری پنشنروں کی حیثیت محض اس ’’شاپر‘‘ جیسی ہے، جس میں محض ہوا بھری ہوئی ہے، جس سے وہ پھولا ہوا نظر آ رہا ہے۔ اس شاپر کا حجم جناب وزیرِ خزانہ کو نظر آ رہا ہے، مگر اس کے وزن کا اُنھیں بالکل بھی اندازہ نہیں۔
کرنے کا کام یہ نہیں کہ قلیل تنخواہ کے بدلے ساری زندگی حکومت کو دینے والے ملازمین کو بڑھاپے میں بے یارومددگار چھوڑ دیا جائے، بلکہ اصل کام ان جونکوں سے جان چھڑانا ہے، جو ملکی خزانے کو دن رات چوس رہی ہیں۔ آپ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو دیکھ لیں۔ لاکھوں روپے ماہانہ معاوضے پر فارغ رہنے کے لیے لوگوں کو کنٹریکٹ دیے گئے ہیں۔ یہ سیاسی رشوت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ پی سی بی کے ہوش ربا اخراجات دیکھیں اور ناقص کارکردگی دیکھیں۔ سوئی ناردرن اور سدرن گیس کے سربراہان، چیئرمین واپڈا اور ان جیسے دیگر کئی محکموں کے سربراہان ماہانہ ایک کروڑ روپے فی کس سے زیادہ میں پڑ رہے ہیں، مگر جناب وزیرِ خزانہ چند ہزار روپے فی کس ساری زندگی کی خدمات کا صلہ پانے والوں کو بوجھ قرار دے رہے ہیں۔
آپ وفاقی کابینہ ہی کو دیکھ لیجیے۔ وزیر، مشیر اور اس سے زیادہ سٹینڈنگ کمیٹیوں کے چیئرمین۔ ہر ایک کا دفتر، پروٹوکول، گاڑیوں اور دیگر سہولیات پر ماہانہ خرچہ ایک کروڑ سے بھی زیادہ۔ ہمارے ہاں تو بے محکمہ وزیر بنائے جانے کا بھی رواج ہے۔ ملکی خزانے کو امانت سمجھ کر نہیں، لوٹ کا مال سمجھ کر مراعات یافتہ طبقے پر لٹایا جاتا ہے، مگر بوجھ معمولی پنشن لینے والوں کو سمجھا جا رہا ہے۔ ایک سروے کے مطابق بجلی کی پیداوار کا 33 فی صد لائن لاسز اور مفت بانٹنے میں خرچ ہو جاتا ہے…… مگر کوئی بھی حکومت اتنے بڑے نقصان پر قابو پانے کے لیے کبھی سنجیدہ نہیں ہوئی۔ ہر ماہ لاکھوں لٹر تیل حکومتی خزانے پر جانے کیوں بوجھ نہیں لگتا۔ مالِ مفت کو بے رحمی سے لوٹا جا رہا ہے، مگر اس پر کوئی قدغن نہیں لگائی جاتی۔
گذشتہ سال یہ اَن ہونی بھی ہو چکی ہے کہ رمضان بازاروں میں ’’شان دار‘‘ کارکردگی دکھانے والوں اور بجٹ 2024ء- 2023ء کے موقع پر کام کرنے والے ملازمین کو اضافی تنخواہوں سے نواز کر ملکی خزانے کا بوجھ ہلکا کیا گیا۔ گذشتہ جون میں 4، تنخواہیں وصول کرنے والوں میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری خوراک، سیکرٹری ایمپلی منٹیشن اینڈ کوآرڈی نیشن شامل ہیں۔ رمضان پیکیج کے دوران میں 352 افراد نے تین، تین تنخواہیں وصول کیں جن میں چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب، 9 ڈویژنوں کے کمشنر، سی سی پی اُو، آر پی اُو اور 36 اضلاح کے ڈپٹی کمشنر، ڈی پی اُوا ور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر شامل ہیں۔
یاد رکھیے! پنشن صرف چند ہزار روپے نہیں ہوتے۔ یہ پنشنر کی عزتِ نفس کو محفوظ رکھنے کا ایک ذریعہ ہوتے ہیں۔ 60 سال سے 80 سال کی عمر تک کے یہ بزرگ عمر کے اس حصے میں کوئی بھی کام کرنے کے قابل نہیں ہوتے۔ عمرِ عزیز کا سنہرا دَور یہ حکومت کی نذر کر چکے ہوتے ہیں۔ بال بچوں کی شادیاں ہوچکی ہوتی ہیں۔ نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں جب اپنے والدین کے ساتھ اُن کے پاس رہنے کے لیے آتے ہیں، تو اخراجات اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ بیٹیوں کو خالی ہاتھ رخصت بھی نہیں کیا جاتا۔ یہ لوگ برادری کے سربراہ بن چکے ہوتے ہیں۔ رشتے داروں کا آنا جانا لگا رہتا ہے، جو اخراجات کا متقاضی ہے۔ برادری میں بیاہ شادی، خوشی و غمی کے موقع پر بھی انہیں جانا پڑتا ہے، جو اضافی اخراجات کا موجب ہے۔ بڑھاپا بہ ذاتِ خود ایک مرض ہے اور اپنے ساتھ کئی بیماریاں لے کر آتا ہے۔ ادویہ کی قیمتیں آسمانوں پر اور ڈاکٹروں کی فیسیں آسمانوں سے بھی اوپر جاچکی ہیں۔ پنشنروں کو بوجھ نہ کہیں۔ ان کے حالات کو سمجھیں۔ ملکی معیشت پر پنشنر بوجھ نہیں۔ قابض اشرافیہ معیشت کے لیے بھاری بوجھ بنی ہوئی ہے۔
معیشت کی کشتی میں پڑا ہوا اصل بوجھ اشرافیہ کا بھاری پتھر ہے اور آپ معمولی سے شاپر کو بوجھ سمجھ رہے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔