آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے جعلی صحافیوں پر کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت پولیس افسران صحافیوں کے پریس کارڈ چیک کرسکتے ہیں۔ اگر کسی صحافی کے پاس غیر رجسٹرڈ اخبار، چینل یا پریس کلب کا کارڈ ہوا، تو اُس کے خلاف دفعہ 468, 459 اور 471 کے تحت ایف آئی آر درج کی جائے گی۔ تمام پولیس افسران کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایسے ’’فیک صحافیوں‘‘ کے خلاف قانون کی مختلف شقوں کے تحت کارروائی کریں، جن کے ادارے رجسٹرڈ نہیں۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
468 جعل سازی کی دفعہ ہے۔ اسی طرح 459 اور 471 بھی جعل سازی کی دفعات ہیں جو جعلی دستاویز تیار کرنے یا استعمال کرنے والے پر لاگو ہوتی ہیں۔ یہ دفعات اس شخص پر بھی لاگو ہوتی ہیں جو جعلی دستاویز کو حقیقت کے طور پر پیش کرے۔
پولیس افسران کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ اپنے علاقے کے صحافی حضرات کے پریس کارڈز یا اتھارٹی لیٹرز کی کاپی متعلقہ تھانے میں جمع کر کے ان کا اندراج کیا جائے۔ اسی طرح تھانے کی حدود میں جتنی رجسٹرڈ پریس کلب ہیں، اُن تمام کے رجسٹریشن سرٹیفکیٹس کی کاپی تھانے میں جمع کی جائے۔ اگر کسی تھانے کی حدود میں کوئی نیوز چینل کام کر رہا ہے، یا اخبار شائع ہو رہا ہے، تو ان کی رجسٹریشن کی کاپی بھی تھانے میں رکھی جائے۔
دیکھا جائے تو جعلی صحافیوں، جعلی چینلوں اور ڈمی اخبارات کے خلاف کارروائی کا یہ فیصلہ بڑا حوصلہ افزا ہے۔ صحافت جو ایک صاف ستھرا کام تھا، اسے پیسے کے پجاریوں نے اپنی ہوس سے آلودہ کر دیا ہے۔ یہ اعلا تعلیم یافتہ اور عالی دماغوں کا کام ہے۔ صحافی کی ایک قسم ’’پریس رپورٹر‘‘ ہے جو معاشرے کی آنکھ ہوتا ہے۔ وہ جو کچھ دیکھتا ہے من و عن معاشرے کو دِکھاتا ہے۔ اپنی طرف سے تحریف یا اضافہ نہیں کرتا۔ اپنے فرائض کی بجاآوری کرتے ہوئے ذاتی جذبات و احساسات کو پسِ پشت ڈال دیتا ہے…… لیکن ہمارے ہاں جعلی صحافیوں نے اپنی صحافت کو بلیک میلنگ کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ اس کے لیے بھی بڑا کمال طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ کسی کی کم زوری کا پتا چل جائے، تو یہ نام نہاد صحافی اپنے فیس بُک اکاؤنٹ پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہیں، جس میں کسی وقوعہ کے بارے میں اشارہ کر کے بتایا جاتا ہے کہ مکمل تفصیل چند گھنٹے بعد یا اگلے روز پوسٹ کی جائے گی۔ یہ دراصل اپنے ہونے والے ’’شکار‘‘ کے لیے آفر ہوتی ہے کہ دی گئی مہلت سے فائدہ اٹھا کر رابطہ کرلے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
صحافت کی مختصر تعریف 
صحافیوں کے لیے 10 خطرناک ترین ممالک  
برق گرتی ہے تو بے چارے ’’صحافیوں‘‘ پر  
صحافیوں کے نام پر لاکھوں غیر صحافی ڈکار گئے  
لوگ آسان سمجھتے ہیں ’’صحافی‘‘ ہونا 
اگر اُن سے رابطہ کرکے مک مکا کر لیا جاتا ہے، تو واقعہ کو دبا دیا جاتا ہے۔ دوسری صورت میں ’’دبنگ صحافی‘‘ مرچ مصالحہ لگا کر واقعہ کو بڑھا چڑھا کر فیس بک پر اَپ لوڈ کر دیتا ہے۔ اس میں سچائی کم اور مرچ مسالا زیادہ ہوتا ہے۔ آپ نے چنا چاٹ بیچنے والوں کو ایک آواز لگاتے سنا ہو گا: ’’دیکھنے میں یہ چنے ہیں لیکن لذت میں مرغ ہیں!‘‘ بس اسی طرح سے چنے جیسے واقعے کو مسالوں کی آمیزش سے لذیذ مرغ بنا کر پیش کر دیا جاتا ہے۔ یہ اُس شکار کے لیے آخری موقع ہوتا ہے کہ اب بھی وقت ہے پوسٹ ڈیلیٹ کروانے کے لیے رابطہ کر لیا جائے، تو کچھ عزت بچ سکتی ہے…… ورنہ کل کے اخبارات میں خبر لگ جائے گی۔ اگر جعلی صحافی کا مطالبہ پورا ہو جائے، تو پوسٹ ڈیلیٹ کر کے بتایا جاتا ہے کہ دبنگ صحافی کو غلط فہمی ہوئی تھی۔ ساتھ ہی معتوب شخص کو شرافت اور پاکیزگی کا سرٹیفکیٹ بھی عطا کر دیا جاتا ہے۔
جعلی صحافت ایک ناسور کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ کسی قسم کی روک ٹوک اور قدغن نہ ہونے کی وجہ سے ویب چینلوں کی بھرمار ہوگئی ہے اور آن لائن اخبارات کھمبیوں کی طرح اُگ آئے ہیں۔ ایک ہی اخبار 20، 25 مختلف ناموں سے فروخت کیا جا رہا ہے۔ طریقہ بہت سادہ ہے۔ مختلف اخبارات اور چینلوں سے خبریں اکٹھی کر کے اپنے کمپیوٹر پر چار یا چھے صفحات بنا لیے جاتے ہیں۔ کسی اخبار کا پورا ادارتی صفحہ چوری کر کے اخبار میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ لیجیے! اخبار تیار ہوگیا۔ اب یہ خود ساختہ اخبار اپنے گاہکوں کو پیشانی تبدیل کر کے پی ڈی ایف فائل میں شیئر کر دیا جاتا ہے۔ گاہک کون ہوتے ہیں؟ خیر سے وہ بھی اَن پڑھ سے لے کر پرائمری پاس لوگ ہوتے ہیں، جنھیں خبر بنانا تو دور کی بات ہے، پڑھنا تک نہیں آتا۔ وہ فخریہ چیف ایڈیٹر، چیف ایگزیکٹو، ایڈیٹر وغیرہ کے عہدے اپنے نام کے ساتھ لکھواتے ہیں۔ اس امرت دھارا اخبار میں ایک یا آدھا صفحہ اُن چیف ایڈیٹر صاحب کی خبروں پر مشتمل ہوتا ہے جو اس کے دبنگ اور ببر شیر نمایندے بھیجتے ہیں۔ یہ خبریں بلیک میلنگ یا تعریفی مواد پر مشتمل ہوتی ہیں، جن کی کٹنگز متعلقہ نمایندوں کو بھیج دی جاتی ہے، جسے وہ اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
جعلی پریس رپورٹرز کے خلاف پنجاب پولیس کا آپریشن کا فیصلہ ایک جرات مندانہ کام ہے…… لیکن صرف پریس رپورٹرز پر کریک ڈاؤن کرنے سے کام نہیں چلے گا۔ ڈمی اخبارات بنانے اور بنوانے والوں کے خلاف بھی کارروائی کی ضرورت ہے۔ جعلی ویب نیوز چینل بنانے والوں پر بھی ہاتھ ڈالنا چاہیے۔
اور ہاں……! سب سے ضروری بات یہ ہے کہ صحافیوں کے لیے تعلیم کا معیار مقرر کرنا بھی ضروری ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ صحافت کا شوق رکھنے والوں کا امتحان لے کر حکومت اُنھیں لائسنس جاری کرے۔ تاکہ اس مقدس پیشے میں گھسنے والی کالی بھیڑوں کا قلع قمع کیا جاسکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔