چند دِن قبل اسرائیل نے دمشق (شام) میں ایرانی سفارت خانے کو نشانہ بناکر ایک ایرانی اعلا فوجی عہدے دار کو مار دیا۔
اسرائیل کا یہ حملہ اگرچہ تمام عالمی قوانین کی خلاف ورزی تو تھا ہی، لیکن ساتھ میں کھلے عام بدمعاشی کی بدترین مثال بھی تھا…… جس نے ایران کو ایک ایسے دوراہے پر لاکھڑا کیا کہ آگے کھائی پیچھے آگ والا منظر بن گیا۔ نتیجتاً ایران کو اپنے عوام اور دنیا کے سامنے اپنے آپ کو ثابت کرنے کے لیے جواب دینا پڑا…… مگر جواب اس لیے شان دار ثابت نہ ہوسکا کہ بہ قولِ ایران: اسرائیل پر حملے سے 72 گھنٹے قبل امریکہ اور دیگر اتحادیوں کو حملے بارے بتایا گیا تھا۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
اب یہ کوئی راز کی بات تو ہے نہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کو بچانے کے لیے کیا نہ کیا ہوگا۔ نیتجتاً ایرانی انا کی تسکین تو ہوگئی، مگر اسرائیل میں کماحقہ نقصانات نہیں ہوئے۔
اَب تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اسرائیل نے جواباً ایک ایرانی ایٹمی ری ایکٹر پر فضائی حملہ کیا ہے، جس کے جواب میں ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ہمارا جواب اب مزید سخت ہوگا۔ دیکھتے ہیں کہ اس ممکنہ جواب سے پہلے بھی امریکہ کو مطلع کیا جاتا ہے یا نہیں؟
کیوں کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کَہ چکے ہیں کہ جب ہم نے عراق میں قدوس فورس (یہ پاس دارانِ انقلاب نام کا موثر ایرانی فوج کا وہ حصہ ہے جو بیرونِ ملک آپریشن کرتا ہے) کے سربراہ جنرل سلیمانی کو مار دیا، تو ایران نے عراق میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے سے قبل ہمیں بتایا تھا۔ لہٰذا ہم نے حفاظتی تدابیر اختیار کرلی تھیں۔ یوں ایران نے میزائل برسائے، اُن کی تسلی ہوگئی، مگر کوئی امریکہ کتا تک زخمی نہ ہوا۔ یہ باتیں سب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ لہٰذا اس کو فرقہ ورایت کا رنگ دے کر جھٹلایا نہیں جاسکتا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
ایران امریکہ تعلقات، برف پگھلنے لگی 
ایران کے پاس آپشن کیا ہیں؟  
ایران بدلہ کون سی زمین استعمال کرسکتا ہے؟  
سعودی ایران تنازع، دوسرا زاویہ کیا ہے؟  
بدقسمتی سے پاکستان میں چوں کہ سعودی عرب اور ایرانی ایما پر ایک طویل عرصہ تک پراکسی وار لڑی گئی ہے، جس کی آگ گو تھم چکی ہے، مگر چنگاریاں اب بھی راکھ تلے دبی پڑی ہیں۔ لہٰذا جب ایران نے اسرائیل پر حملہ کیا، تو پاکستان میں رائے عامہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔ ایرانی فلسفے کے زیرِ اثر لوگوں نے ایران کو امتِ مسلمہ کے لیے رول ماڈل قرار دیا اور ایک مذہبی پارٹی کے دوسرے درجے کے راہنما نے تو باقی مسلمان ممالک کو بہنیں جب کہ ایران کو اُن کا اکلوتا بھائی تک کَہ ڈالا۔
ایرانی فلسفے سے متاثر اُن تمام لوگوں کے بیانیات اور جذبات سے یہ مدعا سامنے آیا کہ ایران نے اسرائیل پر حملہ غزہ اور فلسطینیوں کی حمایت میں کیا، لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسرائیل نے غزہ پر بمباری گذشتہ سال اکتوبر سے شروع کی ہوئی ہے اور وہاں کی دنیا ہی اُلٹ پلٹ کردی ہے۔ لہٰذا اگر ایران کو واقعی غزہ سے اتنی ہم دردی ہے، تو گذشتہ سال اکتوبر سے اس سال اپریل تک انتظار کیوں کیا؟
مزید یہ کہ اگر اسرائیل دمشق میں ایرانی سفارت خانے پرحملہ نہ کرتا، تو کیا پھر بھی ایران اسرائیل پر میزائل داغتا؟
ماضی کے تمام تر واقعات اور شواہد کی روشنی میں اس سوال کا جواب قطعاً نفی میں ہے۔ لہٰذا ایران کو امتِ مسلمہ کے لیے رول ماڈل قرار دینے والے اپنی رائے پر نظرِ ثانی کریں، تو بہتر ہوگا۔
دوسری طرف جو لوگ اسرائیل پر ایرانی حملے کو ڈراما قرار دیتے ہیں، اُن کے لیے بھی عرض ہے کہ سب کچھ ویسا نہیں ہوتا، جیسا آپ سوچ لیتے ہیں۔ کیوں کہ کوئی ملک کیوں کر ڈراما کرنے کے لیے ایک ایسے ملک پر حملے کا ڈراما رچائے گا، جس کے ساتھ اُس کی مبینہ واضح دشمنی ہے۔ نیز سفارتی تعلقات موجود نہیں اور ایران میں انقلاب کے بعد اسرائیل دشمنی کو گویا کہ ایک قومی نعرہ اور بیانیہ بنایا گیا ہے۔
پھر ان حالات میں جب پہلے غزہ اسرائیل جنگ کی وجہ سے پورے خطے پر بدامنی کے سائے منڈلا رہے ہیں، تو ایران نے ضرور اپنی ضد کے لیے کچھ کیا ہوگا۔
مگر دیکھنا یہ ہے کہ اب ایران اسرائیل گرما گرمی کا غزہ اور اہلِ فلسطین کو فائدہ پہنچ رہا ہے، یا مزید نقصان ہورہا ہے؟
کیوں کہ اس معاملے سے پہلے عالمی سطح پر اسرائیل پر جنگ بندی کے لیے شدید دباو بڑھ چکا تھا۔ مغربی دنیا اور امریکہ میں غزہ یکجہتی مظاہروں میں تسلسل آرہا تھا، مگر کیا اَب ایران اسرائیل جنگ کی صورت میں غزہ کو وہ عالمی توجہ حاصل رہے گی؟
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب ایرانی ردِ عمل پر منحصر ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ شاید ایران کے حالیہ اقدامات سے دانستہ یا نادانستہ طور پر اسرائیل کو زیادہ فائدہ پہنچ رہا ہے، خواہ وہ کسی بھی حوالے سے ہو۔ اب دیکھنا ہوگا کہ مزید یہ معاملہ کہاں تک پہنچتا ہے اور پھر اہلِ پاکستان اس معاملے کو کس چیز سے تعبیر کرتے ہیں؟
دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے………!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔