پی ڈی ایم حکومت کی 16 ماہ کی بری کارکردگی نے عوام کو شعوری اور لاشعوری طور پر بدظن کر دیا تھا۔ اپنے دعوؤں اور وعدوں کے برعکس عوام کو مہنگائی کی چکی میں پیسنے کے بعد جب یہ لوگ عوام میں گئے، تو انھیں وہ پذیرائی نہ مل سکی جس کی انھیں اُمید تھی۔
شعور، لاشعور اور تحت الشعور انسانی دماغ کے تین افعال ہیں۔ شعور ظاہری اور لاشعور باطنی فعل ہے۔ آپ یوں سمجھ لیں کہ شعور کی مثال کمپیوٹر کے ’’سی پی یو‘‘ کی ہے، جو معلومات کو پروسیس کرتا ہے، لیکن معلومات کو سٹور نہیں کر سکتا، یعنی اس میں معلومات کا ذخیرہ وقتی طور پر ہوتا ہے۔ لاشعور معلومات کو پروسیس بھی کرتا ہے اور سٹور بھی کرتا ہے، جب کہ تحت الشعور صرف اور صرف معلومات کو سٹور کرتا ہے۔
کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
ہمارے اردگرد جو کچھ بھی ہوتا ہے، وہ ہمارے حواسِ خمسہ کے ذریعے سے ہمارے شعور میں پہنچ جاتا ہے، جو ہمارے کلچر، مذہب ایمان، تربیت اور رہن سہن کے فلٹرز سے چھن کر شعور کی سطح پر اُجاگر ہوتا ہے اور شعور اس کا کوئی مطلب اخذ کرتا ہے۔ شعور اور لاشعور کو سمجھنے کے لیے ایک مثال سے مدد لیتے ہیں۔ آپ کسی جگہ پہلی دفعہ جاتے ہیں، تو آپ کو راستہ کھلی آنکھوں اور پورے ہوش و حواس سے طے کرنا ہوتا ہے، لیکن جب آپ اُس جگہ متعدد بار جاتے ہیں، تو آپ کا شعور سارے پروسیس سے بے پروا ہو کر اسے شعور کے حوالے کرکے لاتعلق ہوجاتا ہے۔ پھر آپ کا لاشعور آپ کو بتاتا ہے کہ کہاں سے مڑنا ہے، کس جگہ روڈ خراب ہے، کہاں پر رُکاوٹیں ہیں وغیرہ۔ ہماری یادداشت شعور سے لاشعور میں محفوظ ہوجاتی ہے اور جب کافی عرصے تک استعمال نہیں ہوتی، تو بالآخر تحت الشعور میں چلی جاتی ہے۔
شعور سے کیا گیا فیصلہ ہمیشہ یا مکمل درست نہیں ہوتا۔ کیوں کہ شعور کم زور ہے، جب کہ لاشعور مضبوط ہوتا ہے۔ لاشعور کو آپ دل کی آواز بھی کَہ سکتے ہیں، یا اسے الہام سے بھی تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ کیوں کہ لاشعور کا تعلق ہماری ’’ہائر سلف‘‘ سے ہے۔ لاشعور کی طاقت کا اندازہ آپ اپنے خوابوں سے لگاسکتے ہیں۔ خواب کتنے تخلیقی ہوتے ہیں۔ آپ جاگتے میں ایسا خواب نہیں بُن سکتے۔ شاعر کو آمد ہونا لاشعوری کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آورد کے سہارے لکھی گئی شاعری وہ اَثر نہیں رکھتی جو اَثر آمد کی شاعری رکھتی ہے۔
سیاسی لیڈرز شعور اور لاشعور کے ان افعال سے بھر پور آگاہی رکھتے ہیں۔ وہ شعور کو متاثر کرنے کے لیے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں اور عوام کے مسائل کو سامنے رکھ کر نعرے تشکیل دیتے ہیں۔ اس طرح سے وہ عوام کے جذبات سے کھیل کر اپنا مطلب نکال لیتے ہیں۔ مثلاً: 1970ء میں ذوالفقار علی بھٹو نے ’’روٹی، کپڑا اور مکان‘‘ کا نعرہ دے کر عوام میں مقبولیت حاصل کرلی تھی۔ 2018 ء میں عمران خان نے 1 کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بدقسمتی سے دونوں ہی اپنے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے۔ بھٹو نے 1970ء میں جو نعرہ دیا تھا، اُس کے بل بوتے پر اُنھوں نے انتخابات جیت کر حکومت بنالی، مگر عوام سے کیا گیا وعدہ پورا نہ کر سکنے کی وجہ سے عوامی مقبولیت کھو بیٹھے۔ جس کے نتیجے میں 1976ء کے انتخابات میں اُنھیں بدترین دھاندلی کرنی پڑی، مگر یہ دھاندلی اُنھیں تختۂ دار تک لے جانے کا باعث بن گئی۔ 2018ء میں عمران خان نے 1 کروڑ نوکریاں دینے اور 50 لاکھ گھر بنا کر دینے کا دعوا کرکے مقبولیت تو حاصل کرلی، مگر عملی طور پر ناکام ثابت ہونے کے بعد عوامی مقبولیت بری طرح کھو بیٹھے۔ اُن کی خوش قسمتی رہی کہ اُن کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد کامیاب ہوگئی اور وہ مظلوم بن گئے، مگر حکومت سے ہٹنے کے بعد اُنھوں نے اپنے مقبول نعروں کو کہیں دفن کر دیا ہے۔ اب وہ عوامی مسائل کی بات ہی نہیں کرتے۔ چند دن ’’ایبسولوٹلی ناٹ‘‘ کا نعرہ دے کر توجہ حاصل کرنے کے بعد جب اُس نعرے کا پول کھلا، تو اُسے بھی ترک کر دیا۔ اب فوج کو مطعون کرنے کا سوچا گیا۔ نیوٹرل کو جانور تک کَہ کر تضحیک کی گئی، مگر اس نعرے کے غبارے سے اُس وقت ہوا نکل گئی، جب پسِ پردہ فوج سے مذاکرات کا راز آشکار ہوگیا۔ حقیقی آزادی کا کچھ عرصہ ڈول ڈالا گیا، مگر امریکہ اور فوج کی طرف دوستی کے ہاتھ بڑھا کر اس بیانیہ کو بھی خود ہی تہہ تیغ کر دیا گیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
آئین سے روگردانی کی مزید گنجایش نہیں  
مریم نواز پر وقت سے پہلے تنقید جائز نہیں  
خوش حالی سے بد حالی تک کا سفر  
کچے کے ڈاکو، سیکورٹی اداروں کی کاکردگی پر سوال  
اس لحاظ سے دیکھا جائے، تو عمران خان، ذوالفقار علی بھٹو سے زیادہ سمجھ دار ہیں۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ اپنے نعرے اور دعوے بدلتے رہتے ہیں۔ وہ عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر جذباتی نعرے اور بیانیے تشکیل دے کر لوگوں کے شعور کو متاثر کرتے ہیں۔ اور جب دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے لاشعور نے اُن کے دعوؤں کو پروسیس کرکے حقائق تک پہنچنا شروع کر دیا ہے، تو وہ نئے نعرے کے ساتھ نیا بیانیہ گھڑ کر سامنے لے آتے اور اس کا پرچار اس شد و مد سے کرتے ہیں کہ پرانا بیانیہ تحت الشعور کی گہرائیوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ اُن کے مخالفین بیانیے گھڑنے میں اُن کا عشر عشیر بھی نہیں۔
مگر ٹھہرئیے……! نعرہ اُن کے مخالفین نے بھی دیا تھا، جس پراَب ’’یو ٹرن‘‘ لے لیا گیا ہے۔ عمران خان کے خلاف تحریکِ عدمِ اعتماد لائے جانے سے قبل بلاول بھٹو زرداری نے کراچی سے اسلام آبادتک مشہورِ زمانہ مہنگائی مارچ کیا تھا، جسے پی ڈی ایم کی تمام جماعتوں کی حمایت حاصل تھی۔ تب بھی عوام کے جذبات سے خوب کھیلا گیا تھا، بلکہ اُن کے جذبات کا استحصال کیا گیا۔ کیوں کہ اقتدار میں آنے کے بعد پی ڈی ایم کی حکومت عوام کو ریلیف تو کیا دیتی، مہنگائی کو پرانی سطح پر بھی برقرار نہ رکھ سکی۔ عالمی سطح پر مہنگائی میں کمی ہونے کے باوجود پاکستان میں اس کے ثمرات عوام تک نہ پہنچ سکے۔ پی ڈی ایم والے چاہتے تھے کہ عوام اُن کی ناکامی کو تحت الشعور کی آخری گہرائی میں دفن کر دے، جب کہ عوام جب بھی بازار میں جا کر خریداری کرتے، تو چیزوں کی قیمتیں سُن کر اُن کا لاشعور پراسیسنگ کا عمل شعور کر دیتا۔ عوام کے لاشعور میں یہ بات بیٹھ گئی کہ بلاول ہوں، یا شہباز شریف…… ان کے دعوے محض سیاسی دعوے اور وعدے ہیں، جو وقت آنے پر ایفا نہیں ہوتے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گذشتہ الیکشن میں عوام نے پی ڈی ایم کی جماعتوں کو حسبِ دل خواہ کامیابی نہیں دلائی، تاہم اُن جماعتوں کواتنی کامیابی ضرور مل گئی کہ اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت بنالی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود وزیرِ اعظم جناب شہباز شریف مہنگائی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔
آئی ایم ایف کی زنجیروں میں جکڑی حکومت کو چاہیے کہ اشرافیہ کی مراعات کو فی الفور ختم کرکے تاجروں اور ریل اسٹیٹ کو حقیقی ٹیکس نیٹ میں لاکر مہنگائی سے عوام کی جان چھڑوائے۔ اس مرتبہ بھی بلاول بھٹو اور میاں نواز شریف نے عوام کو مہنگائی ختم کرنے کے دعوؤں پر اپنی انتخابی مہم چلائی تھی۔ اگر یہ دعوے پورے نہ ہوئے، تو یہ دونوں سیاسی پارٹیاں مستقبل کی ’’ق لیگ‘‘ بن سکتی ہیں۔ ان کے پاس اپنی بقا کا یہ آخری موقع ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔