محترم فضل حکیم خان یوسف زئی صاحب، اُمید ہے آپ بہ خیر و عافیت ہوں گے۔
جس وقت مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، آپ کے حلقۂ انتخاب میں تقریباً 100 گھرانوں پر مشتمل محلہ ’’حاجی بابا سیرئی‘‘ کا تاریک دور(الحمد للہ) 37ویں گھنٹے میں داخل ہوچکا ہے۔
کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
محترم! مجھے شاید ہی آپ سے کوئی بہتر جانتا ہو کہ مَیں ایک نظریاتی بندہ ہوں۔ آپ ماشاء اللہ مسلسل تین بار بھاری اکثریت سے منتخب ہوچکے ہیں، جس میں میرا یا میرے گھرانے کا کوئی ہاتھ نہیں۔ آپ چوتھی بار بھی اگر منتخب ہوں گے، تو اُس میں اگر میرے گھرانے کے کسی فرد کا ہاتھ ہوا، تو ہوا…… میرا بالکل نہیں ہوگا! یہ بات آپ جانتے ہیں، جس پر مَیں آپ کا یا اِس وقت یہ کھلا خط پڑھنے والوں کا قیمتی وقت بالکل برباد کرنا نہیں چاہوں گا۔
زیادہ گھما پھرا کر بات کرنے سے اچھا ہے کہ اپنے مقصد کی طرف آؤں۔
محترم! میرے یا دیگر دو تین گھرانوں کے علاوہ اِس محلے میں ایک بھی ایسا گھر نہیں، جس میں آپ کا یا آپ کی پارٹی کا سپورٹر نہیں۔ نوجوان تو کلی طور پر آپ کے یا آپ کی پارٹی کے سپورٹر ہیں، بلکہ حضرتِ عمران خان کے عشق میں آپ پر جان نچھاور کرنے کو تیار ہیں۔ وہ مجھے دیکھ کر اکثر ایک دوسرے کو اشاروں کنایوں سے مخاطب کرتے ہوئے بہ آوازِ بلند کہتے ہیں: ’’یہ دور خود ساختہ اُصولوں اور خالی خولی نظریات کے اَسیروں کا نہیں!‘‘ مَیں بھی سنی اَن سنی کرکے اپنی راہ ناپتا چلا جاتا ہوں۔
دیگر متعلقہ مضامین:
فضل حکیم بے قصور ہیں  
فضل حکیم پر الزامات، ذمے دار کون؟ 
سوات، الیکشن 2024 میں بڑے بڑے برج الٹ گئے
سیاست میں بچوں کو گھسیٹنا کہاں کا انصاف ہے
محترم! پچھلی بار 19 فروری (2024ء) کو آپ کے جنون کی حد تک چاہنے والوں کے اِس محلے کا ٹرانسفارمر خراب ہوا تھا۔ چلو مان لیتے ہیں کہ اُس وقت وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا نے حلف نہیں لیا تھا، مگر یہ واضح تھا کہ آپ صاحبان جھاڑو پھیر چکے ہیں اور تمام ’’بدعنوانوں‘‘، ’’چوروں‘‘ اور اس قبیل کی دیگر جتنی اصطلاحات آپ صاحبان مذکورہ سیاست دانوں کے لیے استعمال کرتے ہیں، اُن کا صفایا کرچکے ہیں۔ ٹھیک 5 روز آپ کے چاہنے والوں کا یہ محلہ (حاجی بابا سیرئی) تاریکی میں ڈوبا رہا۔ پانچویں روز ہماری شدید تنقید، سوشل میڈیا پر دہائی پے دہائی دینے اور آخر میں ایک عدد تحریر ’’واپڈا کی نجکاری وقت کی اہم ترین ضرورت‘‘ ان صفحات کی زینت بنانے کے بعد تحریکِ انصاف کے کچھ نوجوان متحرک ہوئے۔ ٹرانسفارمر کی جیسے تیسے مرمت کی گئی اور اُسے دوبارہ کھمبے پر چڑھایا گیا۔ یوں ہمارے محلے کے لونڈے ایک بار پھر ہمیں اپنی بتیسی دکھانے کی پوزیشن میں آگئے۔
محترم! اب بہ مشکل 8، 10 دن بعد ایک بار پھر پچھلے 37 گھنٹوں سے آپ کے سپورٹر وہ ’’جنونی نوجوان‘‘ بھی ہم ’’خود ساختہ اُصولوں کے مارے‘‘ اور ’’خالی خولی نظریات کے اَسیروں‘‘ کی طرح تاریکی میں ٹامک ٹوئیاں مار رہے ہیں اور ہم پچھلے 37 گھنٹوں سے 32 نہ سہی مگر سامنے والے 10، 15 دِکھانے اور اُن کا پارا چڑھانے کی پوزیشن میں آگئے ہیں۔
محترم! میرے لیے نہ سہی، مگر مذکورہ نوجوانوں کے لیے ہی سہی، محلہ حاجی بابا سیرئی کے اس تاریک دور کا نوٹس لیجیے۔ یہ کسی دور افتادہ علاقے کا نقشا نہیں کھینچا جا رہا، بلکہ یہ آپ کے حلقۂ انتخاب ’’مینگورہ شہر‘‘ کا وسط ہے۔ اگر اَب کی بار بھی یہ محلہ پورا ہفتہ تاریکی میں ڈوبا رہے گا، تو چار و ناچار اُنگلی آپ ہی پر اُٹھے گی۔ آپ کو میرے گھرانے یا دیگر دو تین گھرانوں کو چھوڑ کر باقی 96، 97 گھرانوں نے مل کر اپنا نمایندہ منتخب کیا ہے۔ اس لیے یہ آپ کا فرض بنتا ہے کہ اُنھیں بجلی، پانی اور دیگر بنیادی حقوق دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اس ترقی یافتہ دور میں جہاں باقی ماندہ دنیا خلا تسخیر کر رہی ہے، وہاں آپ کے دولت خانے کے پڑوس میں آپ کے سپورٹر اپنے برقی قُمقُمے کے روشن ہونے کے انتظار میں ہیں۔
محترم! دعا ہے کہ میری سپورٹ کے علاوہ آپ کو چوتھی بار بھی یہ منصب نصیب ہو، مگر تیسری بار منتخب بھی آپ اس ’’تاریک محلے‘‘ کے ’’روشن دماغ‘‘ ووٹروں کے بل پر ہوئے ہیں۔ اُن ’’روشن دماغ‘‘ ووٹروں کے گھروں کے قُمقُمے روشن فرمانے اور اپنی خاطر چوتھی بار منتخب ہونے کی سبیل نکالیے۔ میری سپورٹ کے بغیر خوش رہیں!
از
خود ساختہ اُصولوں اور خالی خولی نظریات کا اَسیر امجد علی سحابؔ۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔