پچھلے دنوں پاکستان کی سیاست میں اور خاص کر ایک ’’غیر سنجیدہ جذباتی حلقے‘‘ میں ایک تلاطم برپا ہوگیا۔ ویسے تو 8 فروری کے انتخابات کے فوراً بعد حسبِ معمول دھاندلی کی پکار ہر طرف سنائی دینے لگی…… اور پاکستان کی تاریخ کے شاید یہ متنازع ترین انتخابات ہوئے۔ ہر کوئی معترض ہے۔ مثلاً: تحریک انصاف جو سب سے زیادہ سیٹیں لے گئی، اس کا بیانیہ ہے کہ پنجاب اور کراچی میں اس سے بہت ساری سیٹیں چھینی گئی ہیں۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
دوسرے نمبر آنے والی جماعت مسلم لیگ کو شمالی پنجاب اور ہزارہ ڈویژن سے اپنا مینڈٹ چوری ہوتا نظر آیا۔ تیسرے نمبر کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا یہ خیال ہے کہ جنوبی پنجاب اور خیبر پختون خوا کے پشتون بلٹ سے اُن کو ہروایا گیا ہے۔ اس طرح مولانا فضل الرحمان اپنا رونا رہے ہیں۔’’جی ڈی اے‘‘ اپنی دہائی دے رہی ہے، بلکہ پیر پگاڑا صاحب تو کہتے ہیں کہ اُن کو جو دو نشستیں ملی ہیں، وہ بھی اُن سے واپس لے لی جائیں۔ بلوچ قوم پرست بھی شاکی و رنجیدہ ہیں۔ جماعتِ اسلامی احتجاجی ہے۔ تحریکِ لبیک مظلوم بن کر دہائی دے رہی ہے کہ وہ تو دینِ محمدؐ کو تخت پر لے آتے، لیکن دھاندلی سے اُن کو روک دیا گیا یعنی ہر طرف اعتراض اور احتجاج ہے۔
اسی گہما گہمی اور سیاسی گرمی میں مختلف میڈیا ہاؤسز سمیت راولپنڈی اور اسلام آباد کے پریس کلبوں کو یہ خبر ملی کہ پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں راولپنڈی کے کمشنر صاحب ایک پریس کانفرنس کر رہے ہیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق ایک بزنس ٹائیکون دوبئی سے بڑے بڑے چینلوں کو کوریج کے لیے جانے کی سفارش کرتارہا۔ تب تک صحافی برادری سمیت اکثرلوگوں کا یہ خیال تھا کہ پنڈی کی انتظامیہ پی ایس ایل کے حوالے سے بات کرے گی…… مگر جب پریس کانفرنس شروع ہوئی، تو اچانک راولپنڈی کے کمشنر نے بات انتخابات کے نتائج پر کرنا شروع کر دی کہ کس طرح راولپنڈی میں نتائج کو ن لیگ کے حق میں بدلا گیا، جس پرشاید کرکٹ والے حضرات اُٹھ کرچلے گئے۔
اس پریس کانفرنس میں لیاقت چٹھہ نے یہ کہا کہ اُنھوں نے دھاندلی کروائی اور کچھ لوگوں کی جیت کو ہار میں تبدیل کیا۔ اس وجہ سے اُن پر بہت زیادہ اخلاقی و ذہنی دباو تھا۔ حتی کہ اُنھوں نے فجر کی نماز کے بعد خودکُشی کرنے تک سوچا…… لیکن پھراُن کے ضمیر نے کہا کہ وہ حرام موت نہ مریں، بلکہ عوام کو حقائق بتائیں۔ یہ بات چٹھہ صاحب سوٹ بوٹ پہن کر بہت ’’ہشاش بشاش‘‘ حالت میں کر رہے تھے۔
ویسے اس پریس کانفرنس میں چٹھہ صاحب کی باڈی لینگویج اور انداز واضح کر رہے تھے کہ صاحب غلط بیانی کر رہے ہیں…… لیکن پھر بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ بے شک لیاقت چٹھہ کے الزامات کی غیر جانب دارانہ انکوائری کروائی جائے اور اگر الیکشن میں کچھ غلط ہوا، تو اس پر انصاف کیا جائے…… لیکن جو بات سابق کمشنر نے تواتر کے ساتھ کی کہ اُن کا ’’ضمیر جاگ گیا ہے!‘‘ اس بات پر ہمیں شک ہے۔ کیوں کہ جہاں تک میں چٹھہ صاحب کو جانتا ہوں، اُن میں ضمیر نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں۔
لیاقت چٹھہ صاحب شہرت کے بھوکے اور ہر لحاظ سے احکامِ بالا واسطے چاپلوس ہیں، جب کہ عوام کے لیے وہ ظالم، نا اہل اور بے حس ترین افسر رہے۔ اس کا بطورِ سوشل ورکر مجھے ذاتی تجربہ ہے۔
دیگر متعقلہ مضامین:
مریم نواز کا نیا روپ  
کیا عمران خان دوسرے بھٹو بننے جا رہے ہیں؟  
واہ کیا بیانیہ ہے؟ 
کانٹوں بھرا تاج 
مونگ تر اُوسہ لا د زمکی لائق نہ یو  
میرا لیاقت چٹھہ سے پہلا واسطہ تب پڑا، جب ہم نے مقامی لوگوں کے لیے عذاب بنی ’’لوسر کچرا کنڈی‘‘ بارے تحفظات سے آگاہ کرنے کے لیے لیاقت چٹھہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات سے پہلے مجھے اتفاقاً کسی اخبار میں ایک مضمون پڑھنے کو ملا تھا کہ جس کے مطابق لیاقت چٹھہ صاحب ایک انتہائی قابل اور عوام دوست افسر بتائے گئے تھے۔ اُن کے کچھ واقعات بھی لکھے ہوئے تھے کہ جب وہ اوکاڑہ میں متعین تھے۔ یہ بات میرے لیے بہت خوش گوار تھی۔ پھر جب ہم ملاقات کے لیے گئے، تو کمشنر آفس کا ماحول بہت کھلا اور عوام دوست ملا۔ سیکورٹی کا وہ مسئلہ نہیں کہ جو پہلے ہوا کرتا تھا کہ ایک ایک شخص سے تحقیق ہو اور پھر کمشنر صاحب نے ہمیں بہت جلد وقت عنایت کیا اور اس ملاقات میں اُنھوں نے خود کو عوام کا سچا ہم درد ظاہر کیا اور ہم سے یہ وعدہ کیا کہ وہ ہمارے ساتھ ہیں۔ یہ ملاقات انتہائی خوش گوار تھی۔ ہمیں کامیابی کو نوید اور ’’لوسر کچرا کنڈی‘‘ کے خاتمے کی امید دلائی گئی، مگرہماری یہ خوشی بہت جلد دور ہوگئی اور تب معلوم ہوا کہ لیاقت چٹھہ صاحب کس قدر دروغ گو، کذاب، بناوٹی اور روایتی سرکاری افسر ہیں۔ اُن کا مقصد محض اوپر ’’سب اچھا‘‘ کی رپورٹ دینا ہے اور نیچے عوام کو چکما دینا۔ اُسی وقت مجھے راولپنڈی پریس کلب سے وابستہ ایک دوست نے بتایا کہ جن سرکاری آفیسرز پر اخبارات میں مضمون لکھے جاتے ہیں، وہ افسر سب سے زیادہ بے کار، نااہل اور کرپٹ ہوتے ہیں۔ میرے صحافی دوست نے اس کی وضاحت یہ کی کہ ایسے مضامین اور کالم لکھوائے جاتے ہیں، تاکہ نیک نامی کی آڑ میں مفادات کا کھیل کھیلا جائے۔
اَب میں یہ کیسے مان لوں کہ اُس شخص کا ضمیر زندہ ہوگیا کہ جو اپنے ہی دفتر کے عدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنے شہر میں موجود ایک بڑی اکثریت کو بیماریوں کے حوالے کر رہا ہے؟
کیا آپ یقین کریں گے کہ اس شخص نے اپنے ہی دفتر میں لگی کمشنر کی عدالت کے فیصلے کی مکمل خلاف ورزی کی۔
کیا آپ یقین کریں گے کہ جب اس کو بتایا گیا کہ اس کے نیچے ڈپٹی کمشنر کے آفس میں بیٹھ کر ایک سرکاری افسر نے علاقے کے عوام کو تحریری یقین دہانی کروائی کہ بہت جلد ہم یہاں سے شفٹنگ کریں گے، تو اس قابل و باضمیر افسر نے کہا کہ وہ کوئی ویسے ہی بندہ ہوگا۔ یعنی اندازہ کریں کہ کوئی ویسے ہی بندہ ڈپٹی کمشنر کے آفس میں بیٹھ کر ڈپٹی کمشنر کی ہدایت پر علاقے کے عوام کو کچھ تحریری دے رہا ہے، لیکن لیاقت چٹھہ صاحب کَہ رہے ہیں کہ وہ ویسے ہی کوئی افسر ہوگا۔
یہ تھی اس شخص کی کل قابلیت اور صلاحیت۔
اس طرح ایک اور واقعہ ہوا کہ ہمارے علاقے میں ایک جگہ قریب 78 کنال لبِ سڑک قبرستان کے لیے مختص تھی کہ اس پر قبضہ گروپ نے قبضے کی کوشش کی، کہ جس کو اہلِ علاقہ نے وزیرِ اعلا شکایت سیل کی مدد سے واگزار کروایا، لیکن قبضہ مافیا ظاہر ہے کہاں خاموش رہنے والا تھا! سو اُنھوں نے ایک طرف تو واگزار کروانے والے معززین پر مقدمے بازی شروع کر دی اور دوسری طرف نئے نئے حربوں کے ساتھ قبرستان کی جگہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ جب اس صورتِ حال میں اہلِ علاقہ نے سوشل میڈیا پر شور مچایا، تو باقاعدہ کمشنر راولپنڈی کی طرف سے ایک کال موصول ہوئی۔ کالر کا یہ کہنا تھا کہ وہ کمشنر آفس میں ’’کونٹیرکٹر‘‘ ہے۔ آپ لوگ تمام کاغذات کمشنر صاحب کے آفس دیں، تاکہ اس قبرستان کی زمین کو ہمیشہ کے لیے علاحدہ کر دیا جائے۔
وہ تمام کاغذات کمشنر صاحب کے ہاتھ میں دیے گئے، لیکن اس پر ایک انچ پیش رفت نہ ہوئی۔ البتہ یہ گمان ضرور ہوا کہ صاحب چیک کرنا چاہتے تھے کہ زمین واقعی قبرستان کے نام ہے یا کئی کوئی چانس بن سکتا ہے؟
بہر حال نیتوں کا حال تو اﷲہی بہتر جانتا ہے۔ اس پر ہم زیادہ تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھتے، لیکن بہ ظاہر لیاقت چٹھہ کا کردار یہ تھا کہ تاثر عوام کا ہم درد اور نیک افسر ہے، لیکن کام اور حرکات بالکل عوام دشمن، بالکل روایتی بیورو کریٹس والی۔
مَیں اکثر یہ بات کہتا ہوں کہ ہماری سول بیورو کریسی ابنِ زیاد ہے کہ جس کا مقصد اوپر بیٹھے یزید کو مطمئن و خوش کرنا ہے۔ ان کو اس بات سے غرض نہیں ہوتی کہ یزید کو خوش کرنے کے لیے اُن کی تلوار عبدﷲ بن زبیر کی گردن پر چل رہی ہے یا حسین کے جسم پر!
لیاقت چٹھہ صاحب بھی کچھ ایسے ہی لگے۔ آج مجھے وہ ضعیف شخص بہت یاد آرہا ہے جو کمشنر آفس میں اپنی ایک زمین ہونے کا دعوا کر رہا تھا۔ کاغذات کا پلندا لے کر لیکن چٹھہ صاحب نے بہت حقارت سے اُس کا دعوا مسترد کیا تھا۔ ظاہر ہے مجھے حقیقت کا تو معلوم نہیں، لیکن مَیں جب باہر نکلا، تو مَیں نے دیکھا کہ وہ شخص لیاقت چٹھہ کی شان میں ایسے عظیم کلمات ادا کر رہا تھا کہ جن کو سننے کی ہم جیسے لوگوں میں تاب نہ تھی۔
المختصر، مَیں اپنے تجربے کی روشنی میں یہ کَہ سکتا ہوں کہ لیاقت چٹھہ ایک انتہائی ظالم، بے حس سرکاری افسر تھا اور خاص کر ’’لوسر کچرا کنڈی‘‘ پر کوئی انکوائری کمیشن بنایا جائے، تاکہ اس میں بہت سے اور بھی چہرے واضح ہوں۔ لیکن ہمارے ملک اور قوم کا المیہ یہی ہے کہ ہم ہر شخص، ہر واقعہ اور ہر قانون کو ایک مخصوص نظریاتی و سیاسی تعصب سے دیکھتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی کوئی ایسی بات جو ہماری پسندیدہ سیاسی شخصیت یا جماعت کے حق میں ہو، تو پھر ہم اس شخص یا واقعہ کو میریٹ پر لیتے ہی نہیں، بلکہ ڈھول بجانا شروع کر دیتے ہیں۔ بہ ہرحال اب بہ ظاہر تو یہ نظر آتا ہے کہ لیاقت چٹھہ کا عذاب عوام سے ختم ہوگیا۔ سو جہاں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ الیکشن کے نتائج کے حوالے سے لیاقت چٹھہ کے الزامات کی تحقیق کریں وہاں کچھ عوامی مطالبات اور بھی ہیں:
٭ اس بات کی تحقیق کی جائے کہ جب راولپنڈی کا کمشنر کچھ عرصہ قبل یہ فیصلہ دے چکا کہ لوسر کچرا کنڈی کی موجودہ سائٹ غیر موزوں ہے، تو پھر اس شخص نے اسی جگہ پر مزید بارہ سو کنال کا سیکشن فور کے تحت آرڈر جاری کیوں کیا؟
٭ یہ شخص راولپنڈی کا کمشنر تھا، تو سی ڈی اے کے مفادات کا تحفظ کیوں کرتا رہا۔
٭ سب سے اہم بات جب روات میں پہلے سے ایک سبزی اور فروٹ منڈی ہے، تو پھر اُس نے وہی قریب میں ایک اور فروٹ منڈی کیوں بنوائی…… جب کہ یہ منڈی متنازع زمین پر ہے اور جن لوگوں کا اس زمین پر قبضہ ہے، اُن کے لیاقت چٹھہ سے کس نوعیت کے تعلقات ہیں۔
٭ چک بیلی روڈ پر وزیرِاعلا شکایت سیل کی جانب سے واگزار کی گئی زمین پر جو قبضہ گروپ قابض تھا، اُس کے خلاف اُس نے کوئی کارروائی کیوں نہ کی؟
یہ دو تین باتیں جو مَیں نے لکھی ہیں، ان کا براہِ راست تعلق ہمارے علاقے سے ہے۔ وگرنہ اس شخص کی داستان شاید کافی بڑی بھی ہے اور ؟ یہ فیصلہ حکومت نے کرنا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔