امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ روس ’’سیارہ شکن‘‘ ہتھیار بنا رہا ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو پھر روس اس قابل ہوجائے گا کہ فضا میں موجود مختلف ممالک کے مصنوعی سیاروں کو نشانہ بناسکے۔
روسی کوششوں بارے امریکی تشویش سے ثابت ہورہا ہے کہ دنیا کے بڑے ممالک بہ شمول روس اَب فضائی بالا دستی قائم رکھنے کی خاطر فضائی جنگ کے لیے تیاری کررہا ہے۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
قارئین! آپ کو تو معلوم ہوگا کہ مستقبل میں خلائی بالا دستی کی جنگ سب سے اہم جنگ ہوگی۔ فی الحال خلائی بالا دستی کی یہ دوڑ امریکہ، روس اور چین کے مابین جاری ہے۔ جب کہ بھارت سمیت کئی اور یورپی ممالک بھی یہ بالا دستی حاصل کرنے کے لیے پیہم مصروفِ عمل ہیں۔
روسی سیارہ شکن ہتھیاروں بارے امریکی تشویش کے علاوہ دوسری خبر یہ ہے کہ چین نے چاند پر خلائی مرکز قائم کرنے کے لیے چاند ہی کے مٹی سے اینٹ بنانے کے تجربات شروع کردیے ہیں۔
چین آج کل ناممکنات کو ممکن بنانے میں مگن ہے اور مستقبل میں اکلوتی عالمی طاقت بننے کا خواب دیکھ رہا ہے۔
چین کے مختلف سیارے پہلے ہی سے فضا میں مصروفِ عمل ہیں۔ ایسے میں اَب چاند پر مرکز بنانے کے اعلان سے واضح ہورہا ہے کہ چین نے بھی مستقبل کی پیش بندی کرکے خلا میں چین کے مقام کو بلند رکھنے کے لیے کام شروع کردیا ہے۔
تیسری اہم خبر یہ ہے کہ بھارت کی ایک نجی کمپنی "ٹاٹا” کی آمدن پاکستان کے کل قومی بجٹ سے زیادہ ہوگئی ہے۔
بہ ظاہر یہ کوئی اَن ہونی خبر نہیں، لیکن درحقیقت یہ بہت بڑی خبر ہے۔ اس تناظر میں جب پاکستان اور بھارت کے مابین کشمیر کے علاوہ کارگل، پانی اور سرکریک جیسے مناقشے چل رہے ہوں۔
یہ ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ موجودہ دور میں جنگوں کے لیے بنیادی ضرورت ’’معیشت‘‘ ہے۔ معیشت درست ہو، تو آپ مخالف کو زِچ کرنے کے لیے جدید ترین ہتھیار بھی خرید سکتے ہیں، اور جنگ کی تباہ کاریوں سے اپنے لوگوں کو بچا سکتے ہیں۔ اگر معیشت دیوالیہ ہو، تو ممکن ہے کہ جنگ میں آپ کے لوگ کم مریں اور بھوک، افلاس اور بیماریوں سے زیادہ مرجائیں۔ اس لیے بھارت کی اگر ایک نجی ادارے کا بجٹ ایک ایٹمی ملک کے کل قومی بجٹ سے زیادہ ہوجائے، تو یہ کان کھڑے ہونے والی خبر ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
سی پیک کے پاکستانی معیشت پر اثرات  
جب امریکہ پاکستان کو سلام کرتا تھا 
پاک امریکہ تعلقات اور "یو ٹرنز”  
افسوس مگر یہ ہے کہ جس ملک میں ہم جی رہے ہیں یا ’’جینے پر مجبور‘‘ ہیں، وہاں اس حوالے سے کوئی تشویش نہیں۔ حالاں کہ روس، چین، امریکہ اور بھارت اِن چار ممالک کے اقدامات خاص کر حربی اور دفاعی اقدامات کا پاکستان پر اثر پڑتا ہے…… مگر ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔
قارئین! مہذب دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی، آپ اس تحریر کے آغاز میں ذکر شدہ تین خبروں سے اندازہ لگا سکتے ہیں، جب کہ ہم ابھی تک اِن باتوں میں مصروف ہیں کہ ’’دھاندلی‘‘ ہوئی کہ نہیں! اور کہاں ہوئی، کنتی ہوئی، کس نے کی یا کرائی، کیوں کی یا کرائی، اور اگر دھاندلی ہی کا نام ’’چناو‘‘ ہے، تو پھر ووٹ دینے کا کیا مطلب؟
سیاست دانوں کا کام ہوتا ہے امورِ سلطنت چلانا، لیکن مذکورہ کام کا بیڑا دیگر مقتدر حلقوں نے اُٹھا لیا ہے۔
مجھے نہیں معلوم کہ معاشی طور پر انتہائی کم زور پاکستان کو چین کوئی اہمیت دے گا، یا بھارت مجبور ہوجائے گا کہ کم زور ملک کے دباو پر کشمیر سمیت دیگر مسائل کے حل کے لیے سنجیدہ ہوجائے؟
اگر ملک کم زور ہو، تو امریکی رویہ سامراج والا ہی رہنا ہے۔
اب یہاں المیہ یہ ہے کہ جن کا کام سیاست نہیں، اُنھوں نے باقی سب کام چھوڑ کے سیاست کو درست کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ نتیجتاً جو جگ ہنسائی ہورہی ہے، وہ بلا وجہ ہرگز نہیں۔
سیاست دانوں کو بھی اَب ’’سیاسی بالغ‘‘ ہونا چاہیے۔ ہر وقت ذاتی مفادات کے لیے قومی اور ریاستی مفادات کو پاؤں تلے روندنے سے معاملات مزید الجھیں گے۔ لہٰذا فوری طور پر نئی حکومتوں کی تشکیل ہو، تاکہ ریاستی اور سیاسی دانش یک سو ہوکر ملک و قوم کی بہتری کے لیے فیصلے کرسکے۔
وگرنہ وقت گزر جائے گا۔ امریکہ، چین، روس، بھارت اور دیگر سنجیدہ ممالک خلائی بالا دستی کی کوششوں میں لگے رہیں گے اور ہم دھاندلی دھاندلی کھیلتے ہوئے زمین کا یہ چھوٹا سا ٹکڑا بھی کھودیں گے۔
بقولِ صاحب شاہ صابرؔ
مونگ تر اُوسہ لا دَ زمکی لائق نہ یو
دَ دُنیا قامونہ ستوری د اسمان دی
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔