یہ سطور تحریر کرتے وقت ہمارے محلے حاجی بابا سیرئی (مینگورہ، سوات) کے ٹرانسفارمر کو خراب ہوئے ٹھیک 96 گھنٹے گزر چکے ہیں۔
بقولِ حضرتِ جونؔ ایلیا:
اب فقط عادتوں کی ورزش ہے
روح شامل نہیں شکایت میں
قارئین! پی ٹی سی ایل (PTCL) کی جب نج کاری نہیں ہوئی تھی، تب اُس کے عملے کے بڑے ناز نخرے ہوا کرتے تھے۔ ایک سادہ سا ٹیلی فون کنکشن لگوانا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ مجھے یاد ہے جب ہمارے نانا کے گھر اوّل اوّل ٹیلی فون کنکشن لگوایا جا رہا تھا، تو نارمل فیس کے علاوہ ’’چائے پانی‘‘ کے نام پر کنکشن لگوانے والے کی مٹھی الگ سے گرم کی گئی تھی۔ ’’ہائی ٹی‘‘ کا انتظام اس پر مستزاد تھا۔ تب کہیں جاکر ہمارے نانا کے گھر ٹیلی فون کی گھنٹی بجنا شروع ہوئی۔ اُس وقت فون نمبر چار اعداد پر مشہور تھا۔
کامریڈ امجد علی سحاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
پھر جیسے ہی پی ٹی سی ایل کی نج کاری ہوئی، تو اُس کے بعد صورتِ حال یک سر تبدیل ہوگئی۔ اَب ایک شکایت پر اسلام آباد میں بیٹھے عملے کو فون کڑکائیے اور پھر مینگورہ شہر میں فرائض انجام دینے والے عملے کی پھرتی ملاحظہ فرمائیں۔ نہ ’’چائے پانی‘‘ کے نام پر رشوت اور نہ ’’ہائی‘‘ یا ’’لُو ٹی‘‘ کا انتظام…… اللہ اللہ خیر سلا!
بھلے ہی کوئی مجھ سے اتفاق نہ کرے، پر مَیں یہ کہتے ہوئے حق بہ جانب ہوں کہ واپڈا کی نج کاری وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ اب بھلا اس بات کی کیا تُک بنتی ہے کہ جب بھی کسی محلے کا ٹرانسفارمر خراب ہوتا ہے، تو واپڈا کے عملے کو بلانے کے لیے اول پیسکو کے اعلا افسران کی منت کرنا پڑتی ہے۔اُس کے بعد متعلقہ عملہ مٹھی گرمانے کے علاوہ پُرتکلف ضیافت کو اپنا حق گردانتا ہے۔ علاوہ ازیں ٹرانسفارمر کی مرمت کے لیے 500 یا 1000 روپے فی خاندان الگ سے اکھٹا کرکے اس ’’کنگال محکمے‘‘ کو ادا کیے جاتے ہیں۔
برسبیلِ تذکرہ، 28 اگست 2023ء کو بلال عباسی صاحب کی ایک تحقیقی تحریر "www.wenews.pk” پر نظر نواز ہوئی تھی، جس کا عنوان تھا ’’پاکستان میں کون، کتنی بجلی مفت استعمال کر رہا ہے؟‘‘ تحریر کی ایک ایک سطرحیرت میں ڈالنے کا سامان کرتی ہے، لیکن بہ طورِ خاص اس سوال ’’واپڈا ملازمین نے سال میں کتنے ارب روپوں کی بجلی مفت استعمال کی؟‘‘ کے جواب میں دیا گیا پیراگراف رونگٹے کھڑے کرنے کے لیے کافی و شافی ہے۔ پیراگراف ملاحظہ ہو: ’’واپڈا ملازمین اور بجلی پیدا کرنے اور ترسیل کا کام کرنے والوں کو بھاری یونٹس مفت میں فراہم کیے جاتے ہیں۔ وزارت توانائی کی جانب سے سینیٹ کمیٹی میں پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق 1 لاکھ 89 ہزار واپڈا ملازمین کو 1 سال میں بجلی کے 34 کروڑ یونٹ مفت فراہم کیے گئے۔ اس طرح اُنھوں نے 8 ارب روپے کی بجلی مفت استعمال کی۔‘‘
دیگر متعلقہ مضامین: 
بجلی بِل، ڈراونا خواب 
سول بیوروکریسی فساد کی اصل جڑ  
منفی رپورٹنگ 
اس طرح مذکورہ تحریر کا ایک اور سوال ’’واپڈا افسران کو کتنے بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں؟‘‘ کے جواب میں دیا گیا پیراگراف ایک ہر لحاظ سے متوازن شخص کا ذہنی توازن بگاڑنے کے لیے کافی ہے۔ جوابی پیراگراف ملاحظہ ہو: ’’واپڈا میں کمائی کرنے والے افسران کو 16ویں اسکیل کے بعد سے ہی مفت بجلی یونٹ فراہم ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ 16ویں اسکیل والے افسر کو ماہانہ 300یونٹ، 17ویں اسکیل والے کو ماہانہ 450 یونٹ، 18ویں اسکیل والے کو 600 یونٹ، 19ویں اسکیل والے کو ماہانہ 880 یونٹ، 20ویں اسکیل والے کو 1100 یونٹ جب کہ 21ویں اور 22ویں اسکیل والے واپڈا افسر کو ماہانہ 1300 بجلی یونٹ مفت فراہم کیے جاتے ہیں۔ تمام افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد پہلے ملنے والے یونٹس مفت فراہم کیے جاتے رہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی کئی واپڈا اہل کاروں کو کہتے سنا ہے کہ افسر لوگوں کو جو یونٹ مفت ملتے ہیں، وہ اُنھیں محلے میں دیگر لوگوں کو سستے داموں بیچ کر اپنی جیب گرمانے میں بالکل عار محسوس نہیں کرتے۔
قارئین! مَیں نہیں سمجھتا کہ ہم جیسے بدقسمت لوگ دنیا میں کہیں اور ہوں گے۔ ہم میں سے کتنوں کو پتا ہے کہ بجلی، گیس اور پانی کے بِل میں اصل رقم کے علاوہ ہمیں کتنا ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے؟
ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ پٹرول اور ڈیزل کے ایک لیٹر کی اصل قیمت کیا ہے اور اس پر مختلف ٹیکس لاگو ہونے کے بعد ہمیں کتنی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے؟ ستم بالائے ستم یہ کہ سوات کو دور اُفتادہ علاقہ گردانے جانے کے بعد باقی ماندہ ملک کے مقابلے میں پہلے سے لاگو ٹیکسوں کے علاوہ ہم دو سے تین روپے فی لیٹر زیادہ رقم ادا کرنے پر مجبور ہیں۔
اس طرح ایک ننھے بچے کے دودھ اور بسکٹ سے لے کر اسّی پچاسی سالہ بابا کی ضروری ادویہ تک ہر چیز پر کتنا جنرل سیلز ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے؟ اور ہماری جیب سے مذکورہ ٹیکسوں کی مد میں ہتھیائی جانے والی رقم سے حکومتی خزانہ بھرتا ہے، جس سے اس ملک کے حکم ران سے لے کر ایک عام چپڑاسی تک سب تنخواہیں اور مراعات لیتے ہیں۔ اس کے بدلے میں مملکتِ خداداد پاکستان کے اس بوسیدہ نظام کو مجھ جیسے عام آدمی کا شکر گزار ہونا چاہیے، نہ کہ مَیں تھانے میں اپنی شکایت درج کرنے کے لیے سفارشیں ڈھونڈتا پھروں، عدالت میں انصاف کی خاطر ذلیل و خوار ہوتا پھروں۔ اس طرح نلکے میں پانی نہ آئے، تو واسا کی منت کرتا پھروں اور بجلی کے لیے واپڈا والوں کے چرن چھوتا پھروں۔
کئی بار سوشل میڈیا پر دل کا غبار نکالنے کے لیے ایک جملہ لکھا ہے، جسے یہاں رقم کرتے ہوئے کوئی عار محسوس نہیں ہورہی کہ ’’یہ نظام اپنا اخلاقی جواز کھوچکا ہے!‘‘
مجھے بتایا جائے کہ بجلی کا بِل مع تمام جائز و ناجائز ٹیکسوں کے بروقت ادا کرنے کے بعد بھی اگر مجھے 96 گھنٹے تاریکی میں گزارنا پڑے، میرے بچے پرائیویٹ ادارے میں تعلیم حاصل کرتے رہیں، ہمارا علاج عموماً پرائیویٹ ہسپتال سے ہوتا رہے، دو وقت کی روٹی کے لیے مجھے روزانہ کی بنیاد پر اپنی صلاحیتوں کا خون کرنا پڑے، امن سے رہنے کے لیے مختلف چوکوں میں مجھے احتجاج کرنا پڑے، ایسے میں اگر مَیں یہ نہ کہوں کہ ’’یہ نظام اپنا اخلاقی جواز کھوچکا ہے‘‘، تو مجھ سے بڑا منافق کوئی نہیں ہوگا۔
بقولِ شاعر:
دُنیا میں قتیل اُس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔