٭ سوات کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 7 میں اس دفعہ عام انتخابات میں 13 امیدوار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔
اس حلقے میں اصل مقابلہ آزاد امیدوار (تحریکِ انصاف) سابق صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد علی، اے این پی کے شیر شاہ خان، پیپلز پارٹی کے مختیار رضا خان، تحریکِ انصاف پارلیمنٹرین کے حبیب علی شاہ، جے یو آئی کے شاہی نواب، ن لیگ کے تلاوت خان اور جماعت اسلامی کے ریاض احمد کے درمیان ہوگا۔
فیاض ظفر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz-zafar/
اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 171680 ہے، جن میں 93361 مرد اور 78319 خواتین ووٹر شامل ہیں۔
8 فروری کے انتخابات کی خاطر اس حلقے کے لیے 115 پولنگ سٹیشن اور 380 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔ نئی مردم شماری کے بعد یہ سوات کا نیا حلقہ ہے۔ اس حلقے پر 2018ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کے ڈاکٹر امجد علی نے 24239 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے شیر شاہ خان نے 10275 اور ن لیگ کے حبیب علی شاہ نے 9977 ووٹ حاصل کیا تھا۔ اس حلقے میں تحصیلِ بابوزئی کے کچھ علاقے اور تحصیلِ بریکوٹ کے تمام علاقے شامل ہیں۔
٭ سوات کی صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے 8 میں اس بار عام انتخابات کے لیے 16 اُمیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
اس حلقے سے تحریکِ انصاف سے تعلق رکھنے والے تین آزاد امیدوار مدِ مقابل ہیں، جن میں حمید الرحمان، سابق ایم پی اے حاجی فضل مولا اور سابق وفاقی وزیر مراد سعید کے والدسعید اللہ شامل ہیں۔ اے این پی سے افتخار احمد، ن لیگ سے حاجی جلات، پیپلز پارٹی سے اختر علی، جماعتِ اسلامی سے رحمت علی اور تحریک انصاف پارلیمنٹرین کے عبدالغفورکے درمیان مقابلہ ہوگا۔
اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 209308 ہے، جن میں 113467 مرد اور 95841 خواتین وو ٹر شامل ہیں۔
8 فروری کے انتخابات کے لیے اس حلقے میں 138 پولنگ سٹیشن اور 464 پولنگ بوتھ بنائیں جائیں گے۔
2018ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے ڈاکٹر امجد علی نے 19461 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے وقار خان نے 13681 ووٹ لیا۔ تیسرے نمبر پر جماعتِ اسلامی کے حسین احمد کانجو نے 7314 ووٹ حاصل کیا تھا۔ ان انتخابات میں ڈاکٹر امجد علی نے پی کے 7 اور 8 دونوں سے کامیابی حاصل کی تھی جنھوں نے پھر پی کے 8 سے استعفا دیا۔ پھر ضمنی انتخابات میں اے این پی کے وقار خان نے کامیابی حاصل کی۔ وقار خان کے انتقال کے بعد اس حلقے میں پھر ہونے والے ضمنی انتخابات میں تحریکِ انصاف کے فضل مولا نے کامیابی حاصل کی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
سوات، پی کے 3، 4، 5 اور 6 کا جائزہ 
سوات، قومی اسمبلی کے تینوں حلقوں کا جائزہ 
الیکشن 2024 بارے خفیہ اداروں کی رپورٹ 
انتخابات اور شک کے منڈلاتے سائے
عمران خان کے کاغذاتِ نام زدگی کیوں مسترد ہوئے تھے؟
2013ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے ڈاکٹر امجد علی نے 15086 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے وقار خان نے 9050 اور تیسرے نمبر پر مسلم لیگ کے امیر مقام نے 7932 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2008ء کے انتخابات میں اس حلقے سے اے این پی کے وقار خان نے 7174 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر جے یو آئی کے مولانا سید عرفان اللہ نے 3958 اور تیسرے نمبر پر ق لیگ کے اجمیر شاہ نے 3212 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2002ء کے انتخابات میں اس حلقے سے ایم ایم اے کے مولانا سید عرفان اللہ نے 10915 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے وقار خان نے 7359 اور تیسرے نمبر پر ق لیگ کے سید محمد علی شاہ باچا لالا نے 4523 ووٹ حاصل کیا تھا۔
اس حلقے میں تحصیلِ کبل کے بیشتر علاقے شامل ہیں۔
٭ سوات کے حلقہ پی کے 9 سوات میں 8 فروری کے انتخابات میں 18 اُمیدوار مدِ مقابل ہیں۔ سابق صوبائی وزیر محب اللہ خان تحریکِ انصاف پارلیمنٹرین، سید اکبر خان پیپلز پارٹی، سلطانِ روم آزاد (تحریکِ انصاف)، محمد حفیظ الرحمان جے یو آئی، عظمت علی خان ن لیگ، سید اظہار اللہ جماعتِ اسلامی، ممتاز علی خان اے این پی اور امجد علی خان قومی وطن پارٹی کے درمیان اصل مقابلہ ہوگا۔
اس حلقے میں کل رجسٹرڈ وو ٹوں کی تعداد 182694 ہے، جن میں 99584 مرد اور 83110 خواتین ووٹر شامل ہیں۔
8 فروری کے انتخابات کے لیے اس حلقے میں 124 پولنگ سٹیشن اور 424 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔
اس حلقے سے 2018ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کے محب اللہ خان نے 21825 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے سید اکبر خان نے 10653 اور تیسرے نمبر پر ن لیگ کے عظمت علی خان نے 7800 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2013ء کے انتخابات میں بھی تحریکِ انصاف کے محب اللہ خان نے 10995 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر ن لیگ کے حاجی جلات نے 8772 اور تیسرے نمبر پر جماعتِ اسلامی کے حسین احمد کانجو نے 5753 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2008ء کے انتخابات میں اس حلقے سے اے این پی کے شمشیر علی خان نے 4726 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پرق لیگ کے فیروز شاہ نے 3295 اورتیسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے نجیب اللہ خان نے 2807 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2002ء کے انتخابات میں ایم ایم اے کے حسین احمد کانجو 10587 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر ق لیگ کے برکت علی خان نے 4964 اور تیسرے نمبر پر اے این پی کے شمشیر علی خان نے 4183 ووٹ حاصل کیا تھا۔
اس حلقے میں تحصیلِ کبل اور تحصیلِ مٹہ کے علاقے شامل ہیں۔
٭ سوات کی صوبائی اسمبلی کے آخری اور سب سے اہم حلقہ پی کے 10 جہاں سے خیبر پختون خوا کے سابق وزیرِ اعلا محمود خان سمیت 11 امیدوار مد مقابل ہیں۔
اس حلقے سے محمود خان نے دو بارتحریکِ انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتا۔ اس بار وہ ’’تحریکِ انصاف پارلیمنٹرین‘‘ کے انتخابی نشان کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔
اس حلقے سے ن لیگ کے مقصود خان، اے این پی کے محمد ظاہر شاہ، آزاد امیدوار (تحریکِ انصاف) محمد نعیم، قومی وطن پارٹی کے جاوید اقبال، پیپلزپارٹی کے سید اکبر خان، جماعتِ اسلامی کے محمد ارشاد اور جے یو آئی کے ڈاکٹر امجد علی کے درمیان مقابلہ ہوگا۔
اس حلقے میں کل رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد 184130 ہے، جن میں مرد 99335 اور 84795 خواتین ووٹر شامل ہیں جن کے لیے 114 پولنگ سٹیشن اور 407 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔
2018ء کے انتخابات میں اس حلقے سے تحریکِ انصاف کے محمود خان نے 25697 ووٹ حاصل کرکے کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے محمد ایوب خان نے 11509 ووٹ اور جے یو آئی کے ڈاکٹر امجد علی نے 6145 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2013ء کے انتخابات میں تحریکِ انصاف کے محمود خان نے 11071 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر اے این پی کے محمد ایوب خان نے 8038 اور تیسرے نمبر پر ن لیگ کے دوست محمد خان نے 6480 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2008ء کے انتخابات میں اے این پی کے محمد ایوب خان نے 6999 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر پیپلز پارٹی کے محمد انور زمان نے 4574 اور تیسرے نمبر پر جے یو آئی کے قاری محمود نے 3341 ووٹ حاصل کیا تھا۔
2002ء کے انتخابات میں اس حلقہ سے ایم ایم اے کے قاری محمود نے 16635 ووٹ لیکر کامیابی حاصل کی تھی۔ دوسرے نمبر پر پی کیو پی کے کرنل (ر) عبدالغفار نے6299 اور تیسرے نمبر پر اے این پی کے محمد ایوب خان نے 3055 ووٹ حاصل کیا تھا۔
اس حلقے میں تمام علاقے تحصیلِ مٹہ کے شامل ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔