فرزندِ راولپنڈی شیخ رشید احمد ایک مرتبہ پھر گرفتار ہوگئے ہیں۔ اس سے پہلے اُنھیں خفیہ طور پر گرفتار کرکے چِلّہ کشی پر روانہ کر دیا گیا تھا۔ چِلّہ ہمیشہ کسی نہ کسی غرض یا مقصد کے لیے کاٹا جاتا ہے۔ کسی کا مقصد محبوب کو قدموں میں لانا ہوتا ہے، تو کوئی حالات بہتر بنانے کے لیے چلہ کشی کرتا ہے۔ اکثر لوگ اپنی عاقبت سنوارنے اور دین سیکھنے کے لیے تبلیغی جماعت کے ساتھ چلہ لگاتے ہیں۔ کچھ لوگ جادو سیکھنے کے لے چلہ کھنچتے ہیں، تو بعض لوگ کسی جن، ہم زاد یا مؤکل کو قابو کرنے کے لے چلہ کشی کرتے ہیں۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
شیخ رشید کا چلہ اِس لحاظ سے منفرد تھا کہ اُنھیں مؤکلوں نے قابو کر کے نہ صرف چلہ کشی پر مجبور کر دیا تھا، بلکہ اس چلے کے صلے میں مؤکل اور عامل ایک دوسرے کے عہد و پیماں سے آزاد ہوگئے تھے۔ البتہ عامل پر یہ پابندی ضرور عاید کر دی گی تھی کہ وہ اپنے سابق مؤکلین کے خلاف حرفِ طعن زبان پر نہیں لائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ چلے سے آزادی کے بعد شیخ رشید بہ دستور اُنھی کی وفا کا دم بھرتے رہے ہیں۔
گزشتہ چند سالوں سے شیخ رشید یہ بات تسلسل سے کہتے آ رہے تھے کہ وہ اپنی سیاست کی آخری اننگز کھیل رہے ہیں، مگر اس کا کیا کیا جائے کہ
چھٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی
شیخ رشید جیسا "Seasoned” سیاست دان سیاسی میدان سے باہر رہ ہی نہیں سکتا۔ اپنی گرفتاری کا اُنھیں شاید پہلے ہی سے پتا چل گیا تھا۔ گرفتاری سے ایک دن پہلے اُنھوں نے اپنے پیغام میں ووٹروں سے کہا تھا کہ وہ جیل میں بیٹھ کر یہ الیکشن لڑیں گے۔ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا، اُنھیں گرفتار کر لیا گیا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
اہلِ بحرین (سوات) ووٹ دیتے وقت یہ یاد رکھیں
جنرل ضیا کے پاکستانی سیاست پر اثرات 
سیاسی سہ روزوں اور چلہ کشی کا دور  
الیکشن ٹریننگ میں کروڑوں کا گھپلا  
الیکشن ایکٹ کے تابع انتخابی نشان کا حصول کیسے کیا جاتا ہے؟ 
الیکشن لڑنا آج کل لاکھوں کا نہیں، بلکہ کروڑوں کا کھیل بن چکا ہے۔ شیخ رشید بہت سیانے بھی ہیں اور اُوپر سے روایتی شیخ بھی۔ سیاست میں اُنھوں نے بہت کچھ بنایا ہے، خرچ کبھی نہیں کیا۔ وہ چلے سے واپسی کے بعد عمران خان کو مسلسل یقین دلاتے رہے کہ بہتی ندی میں ڈبکی لگانے کے باوجود وہ خشک کپڑوں کے ساتھ ندی سے باہر نکلے ہیں، مگر عمران خان نے اُن کی بات پر یقین نہیں کیا۔ اُنھوں نے تو ڈاکٹر شہباز گِل المعروف جٹاں دے منڈے کی چلہ کشی کے بعد اُسے اپنے آپ سے دور کر دیا تھا، جو خان کا چیف آف سٹاف رہ چکا تھا۔ شیخ صاحب تو پھر بھی اُن کے صرف سیاسی حلیف تھے۔ عمران خان نے شیخ رشید اور اُن کے بھتیجے شیخ راشد کے خلاف اپنے اُمیدوار میدان میں لاکر شیخ رشید کی تمام اُمیدوں اور کوششوں پر پانی پھیر دیا۔ شیخ صاحب نے جواب میں وہی کچھ کیا جس کی اُن سے توقع کی جا سکتی تھی۔ لال حویلی پی ٹی آئی کے پرچم اور عمران خان کی تصویر سے محروم ہوگئی۔ شیخ صاحب نے عمران خان سے شکوہ کیا کہ چلے کے دوران میں اُنھوں نے عمران خان کے خلاف کوئی مخبری نہیں کی۔ اُنھوں نے یہ بھی کہا کہ دوسروں کی طرح پریس کانفرنس کی اور نہ خان پر الزامات ہی لگائے۔ شیخ رشید نے خان کی جانب سے ناقدری کا شکوہ بھی کیا۔ اس کے ساتھ ہی شیخ صاحب کو اپنی اور شیخ راشد کی شکست بھی دیوار پر لکھی ہوئی نظر آنے لگی۔ اُنھیں پی ٹی آئی کی ٹکٹ ملنے کی صورت میں پبلسٹی، ووٹ، سپورٹ اور فنڈز کی صورت میں جو مدد ملنے والی تھی، اُس سے محروم ہوگئے، تو وہ سمجھ گئے کہ اب الیکشن پر اخراجات کرنا گھاٹے کا سودا ہے۔ ایسی صورت میں اُنھیں جیل ہی وارا کھاتی تھی۔ اُنھیں یہ سہولت دے دی گئی ہے۔ یاد رکھیے گا! اس کیس سے وہ سرخ رُو ہوجائیں گے۔
شیخ رشید گذشتہ کچھ عرصے سے ایک بات تسلسل کے ساتھ دُہراتے چلے آ رہے ہیں اور وہ بات ہے خود کو اصلی اور نسلی قرار دینا۔ اس انترے کے ساتھ استھائی کے بول دُہرانا وہ کبھی نہیں بھولتے کہ مَیں 17 دفعہ وزیر رہ چکا ہوں۔ اُنھوں نے 2017ء میں سپریم کورٹ میں اپنے بیان میں 7 مرتبہ وزیر رہنے کا دعوا کیا تھا، جس پر چوہدری نثار نے کہا تھا کہ موصوف دو مرتبہ نواز شریف اور ایک مرتبہ پرویز مشرف کی کابینہ میں وزیر رہے ہیں…… یعنی وہ صرف تین بار وزیر رہے ہیں۔ اس کے بعد شیخ صاحب ایک بار عمران خان کی کابینہ میں وزیر رہے۔ اگرچہ اس دوران میں ایک مرتبہ اُن کی وزارت تبدیل کی گئی مگر "Tenure” ایک ہی تھا۔ بہت حساب لگانے کے بعد بھی ہمیں 17 مرتبہ وزارت کی سمجھ نہیں آسکی کہ جب سے وہ پارلیمانی سیاست میں آئے ہیں، تب سے اب تک 10 حکومتیں بنی ہیں جن میں سے نصف میں وہ اپوزیشن میں تھے یا پارلیمنٹ سے باہر تھے۔ تاہم اگر اُن کا 17 مرتبہ وزارت کا دعوا مان بھی لیا جائے، تو پھر اصلی اور نسلی والے دعوے پر شک ہونے لگتا ہے۔ کیوں کہ اصلی اور نسلی کی تو پہچان ہی وفاداری ہے۔ وہ جان دے کر بھی وفا نبھاتا ہے۔ ہمارے ہاں 17 مرتبہ کسی پارٹی کی حکومت کب آئی ہے؟ 17 مرتبہ وزارت کے دعوے کا مطلب تو یہی ہے کہ وہ بہت سی پارٹیوں میں شامل رہے اور اُن پارٹیوں کی حکومت میں وزرات کے قلم دان سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ اگر ایسا ہوا ہے، تو پھر اُن کے اصلی اور نسلی ہونے کے دعوے کو رد کرتے ہوے ہمیں کہنا پڑے گا کہ وہ اصلی اور نسلی ہونے کا دعوا تو کرتے ہیں، مگر عملی طور پر وہ ’’فصلی‘‘ بھی ثابت ہوئے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔