سرِ دست مَیں اپنے کالم کی ہیڈنگ کی ’’راجا حامد مت بنو!‘‘ کی وضاحت کروں۔ آئیں، ہم آپ کو راجا حامد کیانی سے متعارف کروائیں۔
راجا حامد کا تعلق راولپنڈی کے ایک گاؤں سے ہے۔ میرا سکول کے دور کا ساتھی ہے۔انتہائی غریب و پس ماندہ طبقے سے تعلق رکھتا ہے، اور مذکورہ گاؤں بلکہ پوری یونین کونسل میں جو چند ایک ووٹر پیپلز پارٹی کے رِہ گئے ہیں، اُن میں سرِ فہرست ہے۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
حامد راجا گاؤں میں ایک چھوٹی سی دکان (جس کو ’’ہٹی‘‘ کہتے ہیں) چلاتا ہے۔ اس کے اِرد گرد اِس کے رشتہ دار وغیرہ تقریباً سبھی تحریکِ انصاف کے ہیں اور کچھ ن لیگ کے…… لیکن اس کے باجود اُس نے پیپلز پارٹی کا پرچم دکان پر لگایا ہوا ہے اور ہر آنے جانے والے سے بحث کرتا ہے کہ ووٹ تیر کو دیا جائے۔ جب اُس کو یہ سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ یہ سیاسی تبلیغ اُس کے کاروبار کے لیے مناسب نہیں، تو وہ بہت امید اور جذبے سے کہتا ہے کہ ’’اللہ مالک ہے!‘‘
لیکن اُس کی آخری خواہش ہے کہ وہ مرنے سے قبل بھٹو کے نواسے اور بی بی کے بیٹے کو وزیرِ اعظم کی کرسی پر دیکھ لے۔
اسی طرح کے کئی راجا حامد مختلف جماعتوں میں ہیں اور وہ کسی بھی صورت اپنی پسندیدہ جماعت اور لیڈر کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اُن کو معلوم ہے کہ اُن کی زندگی میں تبدیلی نہیں آئے گی۔
مَیں چوں کہ ایک ’’دوست‘‘ نامی سماجی تنظیم سے وابستہ ہوں اور اس سلسلے میں عوام سے سماجی کاموں کے حوالے سے رابطہ رہتا ہے۔ ہمارا علاقہ کہ جو راجا پرویز اشرف، جاوید اخلاص، سرور خان، چوہدری نثار، قمر اسلام، صداقت عباسی، شاہد خاقان عباسی، مہرین انور، راجہ چوہدری ظہیر وغیرہ جیسے ہیوی ویٹ سیاست دانوں کاعلاقہ ہے اور قومی اسمبلی کے تین حلقوں کا سنگم ہے۔ یہاں نا اہل انتظامیہ نے کچرا کنڈی بنائی ہوئی ہے اور بیماریاں مفت میں لاکھوں عوام میں تقسیم کر رہی ہے ۔ ہماری تنظیم اس کے خلاف جد و جہد کر رہی ہے۔ سو ہم اسی سلسلے میں عوامی آگاہی و جان کاری کے لیے عوام سے ملتے ہیں اور راجہ حامد صاحب سے ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔
مجھے حیرت ہوئی راجہ حامد کی معصومیت پر جب اُنھوں نے کہا کہ اُس پر وہ مکمل ہمارا ہم خیال ہے، لیکن اگر پی پی آپ سے تعاون نہیں کرتی، تو پھر وہ ووٹ نہیں ڈالے گا، لیکن اس کو پی پی کے خلاف ووٹ ڈالنے پر مجبور نہ کیا جائے۔ شرم کریں، ہماری سیاسی جماعتیں اور راہنما جو راجا حامد جیسے لوگوں کی پروا تک نہیں کرتے۔
یہ بات محض راجا حامد تک محدود نہیں، بلکہ ایک دوست نے مجھے میسج کیا کہ اگر کوئی ہماری سڑکیں سونے کی بھی بنوا دے، تو ووٹ تب بھی تحریکِ لبیک کو دوں گا۔
ایک اور ساتھی فیس بک پر لکھ رہے ہیں کہ دوست تنظیم کی یہ مہم قائدِ محترم میاں محمد نواز شریف کے خلاف سازش ہے۔
ایک حضرت ایک چائے خانہ پر فرماتے پائے گئے کہ کچرا کنڈی کے حوالے سے ہم ہر قربانی کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کو الیکشن سے لنک مت کیا جائے۔ ووٹ تو ہم نے ہر صورت عمران خان کو دینا ہے۔ گو کہ بحیثیتِ مجموعی اس طبق کی تعداد اب کم ہے اور اِن شاء ﷲ دن بہ دن کم ہوتی جائے گی، لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ہمارے لوگوں میں اس طرح کی حماقت و جذباتیت پیدا کیوں ہوتی ہے؟ عمومی طور پر یہ رویہ اُن لوگوں میں ہوتا ہے کہ جن کی اپنی جماعتوں میں کوئی عزت ہی نہیں ہوتی، جن کو قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی کے ارکان وقت آنے پر پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں…… لیکن یہ معصوم روحیں پھر بھی اپنی جذباتیت سے ایسی حماقت کرتی جاتی ہیں کہ جو بہ ذاتِ خود اُن کے لیے تباہی ہی لاتی ہے۔ اس مسئلے پر بھی ہماری سول سوسائٹی کو کام کرنا چاہیے، وگرنہ عمومی طور پر دنیا کے تقریباً ہر جمہوری ملک میں عوام کا یہ اجتماعی مزاج ہوتا ہے کہ اگر ان سے ووٹ لے کر کوئی ممبر یا جماعت کام نہیں کرتی، تو وہ دوبارہ بہت شدت اور سنجیدگی سے اس ممبر یا جماعت کی مخالفت کرتی ہے…… لیکن ہمارے ملک میں ایک باشعور سیاسی سوچ کی شدید کمی ہے۔ ہم میں ہر طرف راجا حامد پائے جاتے ہیں۔ اس مسئلے پر جو مَیں نے ذاتی تحقیق اور سروے کیا، تو اس کی درجِ ذیل بنیادی وجوہات سامنے آئیں:
٭ جمہوریت کا تسلسل نہ ہونا:۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ جہاں جمہوریت کو مسلسل مشق نہیں کیا جاتا، وہاں پر توقعات سے زیادہ جذباتیت پروان چڑھتی ہے اور عمومی طور پر ایک نا پختہ اور کسی حد تک کم تعلیم یافتہ دماغ یہ سمجھتا ہے کہ اگر ملکی معاملات میں کوئی بنیادی تبدیلی نہ آئی، تو اس کی وجہ ہماری محبوب سیاسی جماعت یا لیڈر شپ کی نا اہلی و سستی نہیں، بلکہ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ ان کی جماعت یا قیادت کو مکمل موقع ہی نہیں ملا۔ پھر اس بات کو ہماری سیاسی قیادت مکمل شدت سے پروپیگنڈا بھی کرتی ہیں کہ جی ہمیں موقع مکمل ملتا، تو ہم ملک کو امریکہ سے بہتر کرچکے ہوتے۔ اس پہلو پر سنجیدہ غور کیا جائے اور ہر وزیرِاعظم کو اس کا وقت مکمل کرنے دینا چاہیے۔ لوگوں کی سوچ کتنی ہی غلط کیوں نہ ہو، لیکن یہ حقیقت تو تاریخی طور پر ثابت شدہ ہے کہ خان لیاقت علی خان سے لے کر شہباز شریف تک کسی بھی وزیرِ اعظم نے اپنی آئینی مدت مکمل نہیں کی۔ سو آیندہ طاقت ور حلقوں کو اس پر سنجیدہ اپروچ کے ساتھ سوچنا ہوگا۔
دیگر متعلقہ مضامین:
پارٹی کارکن سیاست کا ایندھن  
سیاست میں بچوں کو گھسیٹنا کہاں کا انصاف ہے! 
غیر منطقی طور پر سیاست زدہ معاشرہ  
سیاست دانوں کو بدنام کرنا مسئلے کا حل نہیں 
سیاست میں مذہبی ٹچ  
٭ معاشی و تعلیمی کمی:۔ یہ بات آگاہ انسانی تاریخ میں ثابت شدہ ہے کہ معاشی محرومی و تعلیم کی کمی انسان کے اندر جذباتیت کو پروان چڑھاتی ہے اور ہمیشہ سے جو شخص معاشی طور پر خوش حال اور تعلیم یافتہ ہوگا، اُس میں جذباتیت اول تو بہت کم ہوتی ہے اور اگر تھوڑی بہت ہو بھی، تو تب بھی اس پر دانش کا تسلط زیادہ ہوتا ہے۔ آپ تقریباً تمام دنیا کا سروے کرلیں نتیجہ یہی نظر آئے گا کہ ہمیشہ سے مذہب، سیاست، معاشرت پر دنگا فساد برپا کرنے والے آپ کو اپنے پس منظر میں جاہل و پس ماندہ ہی ملیں گے۔ اس طرح کسی ایک سیاسی جماعت سے رومانس سیاسی طور پر بھی جہالت اور پس ماندگی کی کھوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس کے لیے بے شک لوگوں کی معیشت کو بہتر اور تعلیمی معیار پر توجہ مطلوب ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں قوم کی سیاسی تربیت کی بھی بہت ضرورت ہے، کہ لوگ ہر جماعت اور لیڈر کا خود محاسبہ کریں اور ووٹ کاسٹ کرتے وقت سب سے پہلے وہ اپنے امیدوار کا کردار اور قابلیت چیک کریں۔ اگر یہ رویہ ایک عام پاکستانی میں پیدا ہو جائے اور سیاسی جماعتوں کی قیادت کو یہ پیغام جائے کہ اَب امیدوار کا کردار اول ترجیح ہوگا، تو ہماری سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ٹکٹ ایشو کرتے وقت ایک سو ایک مرتبہ سوچیں گی کہ کہیں ان کا دیا گیا امیدوار بدکردار اور بدمعاش تو نہیں۔ اس سے آپ کی سیاست کی پچاس فی صد سے زیادہ تطہیر تو خود بہ خود ہوجائے گی۔ پھر جب لوگ جماعتوں کے بس تحریری خوش نما منشور کہ جس پر کبھی 25 فی صد تک بھی عمل نہ ہوا، کے بجائے اُن کی عملی کارگردگی کو جانچ کر حقِ رائے دہی کا حق استعمال کریں گے، تو پھر ہماری سیاست نہ صرف بہت حد تک صاف اور عوام دوست ہو جائے گی، بلکہ ہماری حکومت اور انتظامیہ کی کارگردگی بھی بہت بہتر ہوگی۔ عوام کا معیارِ زندگی بہتر ہوگا اور ریاست مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے گی۔ ہم عوام سے بھی یہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ سیاست میں جذباتیت سے جان چھڑا لیں، اور مہذب اور تعلیم یافتہ معاشروں کی طرح ووٹ کا حق خالصتاً میرٹ اور عوامی مفاد میں کریں۔ نہ کہ سیاسی جماعتوں یا سیاسی شخصیات سے لیلیٰ مجنوں والا عشق بلکہ یہاں لیلیٰ مجنوں والا بھی نہیں، کیوں کہ وہ دوطرفہ عشق تھا، لیکن ہمارے لوگ یک طرفہ مجنوں بنے ہوئے ہیں اور جس لیلیٰ کے عشق میں غرق ہوکر اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل اور اپنے ملک کی سالمیت تک داو پر لگا دیتے ہیں۔ وہ لیلیٰ ایلکشن ڈے کے بعد قریب پونے پانچ سال تک اپنے ان یک طرفہ اور مفت کے مجنوؤں کو گھاس بھی نہیں ڈالتی، بلکہ بہتوں کو تو پہچانتی تک نہیں۔ یوں اس نادان رویہ کی وجہ سے یہ سرکل بے شک مفاد پرست سیاست دانوں کی عیاشی اور عام عوام کی مشکلات میں اضافہ کے ساتھ چلتا رہتا ہے۔ مَیں چوں کہ بحیثیت سیاست و معاشرت کے طالب علم کے یہ حقیقت جانتا ہوں اور مَیں ہی کیا بلکہ بہت سارے سول سوسائٹی کے باشعور لوگ مجھ سے بھی زیادہ بہتر جانتے ہیں کہ ان حالات کو ہمارے سیاست دان شعوری طور پر قائم رکھنا چاہتے ہیں، تاکہ وہ عوام کی اس جذباتیت اور حماقت سے کھل کر فائدہ اُٹھا سکیں۔ اب چوں کہ انتخابات کا دور دورہ ہے اور آیندہ پانچ سال واسطے ملک کی تقدیر کہ جو ممکنہ طور پر جتنا انسان کے ہاتھ ہوسکتی ہے، کا فیصلہ ہونا ہے۔
سو سول سوسائٹی کے باشعور پاکستانی سمجھیں، ذاتی میل ملاقات میں بھی اور سوشل میڈیا کے ذریعے بھی عوامی شعور اُجاگر کرنے میں کردار ادا کریں۔ یہ لوگ اپنے سے وابستہ معصوم لوگوں کی ذہنی تربیت کریں کہ بھئی، یہ سیاست کوئی عاشق معشوق کا کھیل نہیں، بلکہ ملک اور آپ کے اپنے مفادات کے لیے نہایت ہی اہم عنصر ہے۔ اس وجہ سے اپنے حالات و مسائل کی روشنی میں فیصلہ کریں۔ خاص حالات نہ ہوں، تو عمومی طور پر سب سے پہلے متعلقہ امیدوار خواہ وہ کسی بھی سیاسی مذہبی لسانی یا خاندانی دھڑے سے ہو، اس کا ذاتی کردار اور اس کے حلقۂ احباب کا رویہ دیکھیں۔ پھر وہ جس سیاسی جماعت کی طرف سے امیدوار بنا ہے، اُس جماعت کی کارگردگی کو جانچنے کی کوشش کریں۔ اس کے بعد بے شک خاندانی و لسانی تعلقات کو ترجیح دیں…… لیکن اگر آپ کا امیدوار ہی ذاتی کردار میں بدکار، کرپٹ، اقربا پروی کی شہرت رکھتا ہے، تو اس کو ایک منٹ میں مسترد کر دیں۔ خواہ وہ آپ کی پسندیدہ جماعت سے ہے، یا آپ کا کوئی قریب کا عزیز۔ تبھی آپ فیصلہ بہتر اور میریٹ پر کرسکیں گے۔ وگرنہ معاشرے میں راجہ حامد جیسے معصوم کردار اسی طرح مفادات کا چارا بنتے رہیں گے اور پاکستان پس ماندہ سے پس ماندہ تر رہے گا۔
المختصر، ہماری عوام سے اپیل ہے کہ وہ دانش کے ساتھ فیصلہ کریں اور راجہ حامد نہ بنیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔