سیاسی منظر نامے پر سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوع پی ٹی آئی کی جانب سے منعقدہ انٹرا پارٹی کا انعقاد ہے۔ یاد رہے ان انتخابات کی بدولت بیرسٹر گوہر علی خان بلامقابلہ پارٹی چیئرمین منتخب ہوچکے ہیں۔
ایڈوکیٹ محمد ریاض کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/adv/
جہاں ایک طرف پی ٹی آئی کے حامی گوہر خان کی بلامقابلہ جیت کو موروثی سیاست کے خلاف سیاسی جہاد قرار دے رہے ہیں، وہاں پاکستان تحریکِ انصاف کی مخالف سیاسی جماعتوں اور اس کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کے بانی رکن اور اپنی ہی پارٹی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کرنے والے اکبر ایس بابر کی جانب سے انٹراپارٹی انتخابات کے دوران میں اپنائے گئے طریقہ کار پر کُھل کر تنقید کی جارہی ہے۔ اکبر ایس بابر نے تو ان انتخابات کو الیکشن کمیشن میں چیلنج کرنے کا اعلان بھی کردیا ہے۔ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی الیکشن پر تنقید کی وجوہات پرکھنے سے پہلے دیکھتے ہیں کہ سیاسی جماعتوں کے لیے انٹرا پارٹی انتخابات کروانا کیوں ضروری ہے؟
جمہوریت سے مراد ایک ایسا نظامِ حکومت ہے جس میں براہِ راست یا آزادانہ طور پر منتخب کردہ افرادکے ذریعے اقتدار عوام کو دیا جاتا ہے، اور حکومتی فیصلے باہم مشورے کے تحت کیے جاتے ہیں۔ پاکستان کے جمہوری نظامِ سیاست کو ریگولیٹ کرنے کے لیے آئینی اور خود مختار ادارہ الیکشن کمیشن کی صورت میں موجود ہے۔ جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 213 تا 221 اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے تحت افعال سرانجام دیتا ہے۔ الیکشن ایکٹ، 2017ء کے سیکشن 208 کے مطابق: وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر سیاسی جماعت کے عہدے دار، جہاں بھی قابلِ اطلاق ہوں، سیاسی جماعت کے آئین کے مطابق وقتاً فوقتاً منتخب کیے جائیں گے۔ بشرط یہ کہ ایک مدت، جو پانچ سال سے زیادہ نہ ہو، اس کے بعد انتخابات کروانا لازم ہوں گے۔ سیاسی جماعت کے رکن کو، سیاسی جماعت کے آئین کی دفعات کے تابع، کسی بھی سیاسی جماعت کے عہدے کے لیے الیکشن لڑنے کا مساوی موقع فراہم کیا جائے گا۔ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر سیاسی جماعت کے تمام اراکین متعلقہ سطح پر پارٹی جنرل کونسل کے انتخاب کے لیے الیکٹورل کالج تشکیل دیں گے۔ سیاسی جماعت اپنے مرکزی عہدے داروں اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان کی تازہ ترین فہرست، جس میں ان عہدے داروں کے نام بھی درج ہوں، اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گی اور فہرست اور اس کے بعد اس میں کسی قسم کی تبدیلی الیکشن کمیشن کو بھیجے گی۔
اسی طرح الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 209 کے مطابق: ایک سیاسی جماعت، انٹرا پارٹی انتخابات کی تکمیل کے سات دنوں کے اندر، پارٹی سربراہ کے ذریعے اختیار کردہ ایک عہدے دار کا دستخط شدہ سرٹیفکیٹ کمیشن کو جمع کرائے گی کہ انتخابات سیاسی جماعت کے آئین کے تحت ہوئے ہیں۔ اور یہ ایکٹ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر جہاں بھی قابلِ اطلاق ہو، عہدے داروں کے انتخاب کے لیے ذیلی دفعہ (1) کے تحت سرٹیفکیٹ میں درج ذیلِ معلومات ہوں گی:
٭ پچھلے انٹرا پارٹی انتخابات کی تاریخ۔
٭ وفاقی، صوبائی اور مقامی سطحوں پر منتخب عہدے داروں کے نام، عہدہ اور پتے جہاں بھی قابلِ اطلاق ہوں۔
٭ انتخابی نتائج۔
٭ اور الیکشن کے نتائج کا اعلان کرنے والی سیاسی پارٹی کے نوٹیفیکیشن کی کاپی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
سیاست دانوں کو بدنام کرنا مسئلے کا حل نہیں 
بلاول بھٹو زرداری کا المیہ 
نوجوان کیوں ووٹ نہیں ڈالتے؟
ڈراما نیا مگر سکرپٹ پرانا ہے 

انتخابی اصلاحات وقت کا تقاضا 
الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 209 کی ذیلی دفعہ3 کے تحت الیکشن کمیشن، سیاسی جماعت کی جانب سے وصول شدہ سرٹیفکیٹ کی وصولی کے سات دن کے اندر، سرٹیفکیٹ کو اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔
اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انٹرا پارٹی انتخابات کروانا کیوں ضروری ہیں اور انتخابات نہ کروانے کی صورت میں اک سیاسی جماعت کو کن نتائج کا سامنا کرنا پر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب الیکشن ایکٹ 2017ء کے سیکشن 215 ہی میں مذکور ہے۔ سیکشن 215 کے مطابق: سیاسی جماعتوں کو انتخابی نشان حاصل کرنے کے لیے درجِ ذیل معلومات/ دستاویزات کوالیکشن کمیشن کے پاس جمع کروانا لازم ہے:
٭ سب سے پہلے سیاسی جماعت کو بطورِ جماعت الیکشن کمیشن میں اندراج کا سرٹیفیکٹ اور گوشوارے۔
٭ انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفکیٹ۔
٭ پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلی، بلدیاتی اداروں کے لیے امیدواروں کا انتخاب کا ثبوت۔
٭ سیاسی جماعت کو ملنے والے فنڈز کے ذرائع بارے مصدقہ معلومات کا مہیا کرنا۔
یہ ایسے قانونی تقاضے ہیں جن کو پورا کرنا سیاسی جماعتوں کے لیے لازم ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان کی سیاسی جماعتوں کے غیر جمہوری رویوں کی جانب۔ پاکستان کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اقدار کوٹ کوٹ کر بھری دکھائی دے رہی ہیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں اپنی توپوں کا رُخ پی ٹی آئی انٹرا الیکشن کی جانب مبذول رکھتے ہوئے گولہ باری کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔ پی ٹی آئی انٹرا الیکشن میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں یا نہیں……؟ یہ پرکھنا الیکشن کمیشن کی صواب دید پر ہے۔ لیکن کیاتنقید کرنے والی جماعتوں کے انٹرا پارٹی الیکشن عین قانونی تقاضوں کے مطابق ہوتے ہیں؟ کیا پارٹی کے عام رکن کو پارٹی کے اعلا ترین عہدوں پر انتخابات لڑنے کے مساوی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں؟ کیا کسی جونیئر حتی کہ کسی سینئر ترین ممبر کو بھی پارٹی صدارت کے لیے کاغذاتِ نام زدگی جمع کرنے کی جرات ہوتی ہے یا اجازت دی جاتی ہے؟ عمومی طور پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں ماسوائے جماعت اسلامی کے انٹرا پارٹی انتخابات برائے نام منعقد کروائے جاتے ہیں اور موجودہ لیڈرشپ ہی بلامقابلہ اعلا ترین عہدوں پر کامیاب قرار پاتی ہیں۔ چاہے مسلم لیگ ن ہو، پی ٹی آئی ہو یا پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام ہو یا اے این پی وغیرہ…… ان تمام جماعتوں کی موجودہ لیڈرشپ عرصۂ دراز سے اعلا ترین پارٹی عہدوں کے ساتھ ساتھ حکومتی عہدوں پر براجمان دکھائی دیتی ہے۔ اس وقت جمہوری نظامِ حکومت یورپ، امریکہ و دیگر ترقی یافتہ ممالک میں پوری آب وتاب سے چمک دمک رہا ہے، جہاں پر اک عام پارٹی رکن بھی پارٹی کے اعلا ترین عہدے کے علاوہ حکومت کا سربراہ بھی بن سکتا ہے۔مغرب سے حاصل کردہ جمہوری نظام کے گُن گانے والی ہماری سیاسی جماعتیں کاش اسی جمہوری نظام کی صحیح روح پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں، تو ریاستِ پاکستان میں پائی جانے والی عوامی محرومیاں یقینی طور پر ختم ہوسکیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔