پاکستان میں سیاسی پارٹیاں جمہوریت کا رونا ہر وقت روتی پائی جاتی ہیں۔ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘، ’’خلائی مخلوق پر ووٹ کی چوری کا الزام‘‘ و و علیٰ ہذا القیاس، مگر ہمارے ہاں کسی بھی سیاسی پارٹی میں جمہوریت ہے، نہ ووٹ کو عزت ہی دی جاتی ہے۔ خلائی مخلوق سے تو دوستیاں بڑھانے کو باعثِ فخر سمجھا جاتا ہے۔ کوئی سیاسی پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانا چاہتا ہے، جو کہ ووٹ کو عزت نہ دینے اور جمہوریت کے منھ پر کالک ملنے کے مترادف ہے۔
فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/
پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو خاندان کے بعد زرداری خاندان منتقل ہوچکی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) میاں محمد نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف اور حمزہ شریف کی قیادت کے گرد گھومتی ہے۔
جمعیت علمائے اسلام مولانا مفتی محمود کے بعد اُن کے فرزندِ ارجمند مولانا فضل الرحمان اور رشتہ داروں کے قبضے میں ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی پر خان عبدالغفار خان کے بعد ولی خان کی اولاد کی اجارہ داری ہے۔
ایم کیو ایم کی سیاست بھی رابطہ کمیٹی کے گرد گھومتی ہے جب کہ دیگر پارٹیوں کا بھی کم و بیش یہی حال ہے۔ ماسوائے جماعتِ اسلامی کے جو وقت پر انٹرا پارٹی الیکشن کراتی ہے۔
گذشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کو انتخابی نشان ’’بلا‘‘ (بیٹ) دینے کے کیس پر فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کی انٹرا پارٹی الیکشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تحریکِ انصاف کو حکم دیا کہ تحریکِ انصاف کو اسی صورت میں انتخابات میں انتخابی نشان ’’بلا‘‘ الاٹ کیا جائے گا، جب پاکستان تحریکِ انصاف 20 دنوں میں انٹرا پارٹی الیکشن کرانے کی رپورٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرائے گی۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ فیصلہ کسی بھی لحاظ سے قانون کے مطابق نہیں لگتا، بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کا مقصد تحریکِ انصاف اور چیئرمین تحریکِ انصاف کو قانونی پیچیدگیوں میں اُلجھا کر آنے والے قومی الیکشن سے باہر رکھنا ہے۔ قانونی تقاضا تو یہی ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریکِ انصاف کو جو نوٹس جاری کیا ہے، اِسی طرح کا نوٹس دوسری سیاسی پارٹیوں کو بھی اِشو کرے، لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے صرف پاکستان تحریکِ انصاف کو یہ نوٹس جاری کیا ہے۔
دیگر متعلقہ مضامین:
عمران خان مذاکرات کے دروازے کھولیں 
عمران خان کی گرفتاری اور عوامی ردِ عمل  
عمران خان کا المیہ
الیکشن رولز کے کلاز 7 کے مطابق ہر سیاسی پارٹی کو ثبوت دینا ہوتا ہے کہ اُس نے جو انٹرا پارٹی الیکشن کروایا ہے، اُس میں باقاعدہ لوگ کھڑے ہوئے اور ووٹنگ کروائی ہے، لیکن پاکستان کی بڑی پارٹیوں میں ریگولر الیکشن نہیں ہوتا، جس کا الیکشن کمیشن آف پاکستان کو علم بھی ہے، مگر پھر بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کسی بھی سیاسی پارٹی سے یہ نہیں کہا کہ آپ کے انٹرا پارٹی الیکشن درست نہیں تھے، انھیں دوبارہ کرایا جائے۔
انٹرا پارٹی الیکشن رولز میں ایک رول یہ بھی ہے کہ انٹرا پارٹی الیکشن مکمل ہونے کے بعد پارٹی سربراہ، مرکزی صدر، چیئرمین یا مرکزی امیر کے دستخط کے ساتھ ایک سرٹیفکیٹ الیکشن کمیشن آف پاکستان میں جمع کرایا جاتا ہے، جس میں تحریر ہوتا ہے کہ الیکشن شفاف تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ذمے داری ہے کہ وہ پارٹیوں پر نظر رکھے کہ کون سی پارٹی وقت پر انٹرا پارٹی الیکشن کراتی ہے اور کون سی پارٹی نہیں کراتی…… لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے سوائے تحریکِ انصاف کے آج تک کسی بھی پارٹی سے نہیں پوچھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس سے پہلے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت سے تین سال قید اور نااہلی کی سزا دلوائی، جب کہ میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری، مریم اور دیگر سیاسی رہنماؤں کے توشہ خانہ کیس پر آج تک سماعت نہ ہوسکی۔ توشہ خانہ کی سزا معطل ہونے پر عمران خان کو سائفر کیس میں پابندِ سلاسل کیا گیا، جب کہ القادر ٹرسٹ اور 190 ملین پاؤنڈ کیس میں جیل میں عمران خان کی گرفتاری ڈال دی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک اور کیس ’’الیکشن کمیشن اور الیکشن کمشنر آف پاکستان کی تضحیک‘‘ کے سلسلے میں عمران خان پر فردِ جرم عائد کرنے کے لیے اُنھیں طلب کیا ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پاکستان تحریکِ انصاف کو فارن فنڈنگ کیس میں مجرم قرار دیا ہے، جب کہ تحریکِ لبیک کی فارن فنڈنگ پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں۔ عمران خان کی نااہلی کے لیے ’’خلائی مخلوق‘‘ نے ایک غیر معروف شخصیت کے توسط سے عدت کے دوران میں بشریٰ بی بی سے نکاح کرنے کے خلاف کیس درج کرایا تھا۔ معلوم نہیں درخواست گزار نے کون سی تکنیکی بنیادوں پر اپنی درخواست واپس لے لی؟ عدالت سے بشریٰ بی بی سے عدت کے دوران میں نکاح کیس کے اخراج پر بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور مانیکا نے 24 گھنٹوں کے اندر عمران خان کے خلاف عدت پورا ہونے سے پہلے بشریٰ بی بی کے ساتھ نکاح کرانے کے خلاف درخواست دائر کی۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عدالت نے اُسی روز اُن کی درخواست قابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے سماعت کے لیے مقرر کردی اور خاور مانیکا کا بیان بھی ریکارڈ کرایا۔ حیران کر دینے والی بات یہ بھی ہے کہ عمران سے نکاح کے بعد بھی خاور مانیکا نے اپنے ایک انٹرویو میں بشریٰ بی بی کو دنیا کی نیک ترین اور پاک باز بیوی قرار دیا تھا اور طلاق کے واقعے کو گھریلو مسئلہ بتایا تھا، لیکن بعد میں دوسرے انٹرویو میں بشریٰ بی بی اور عمران خان پر دنیا جہاں کے الزمات لگانے کے بعد عدالت پہنچ گئے۔
مذکورہ بالا مقدمات اور سزاؤں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتدر حلقے عمران خان کی نااہلی کے درپے ہیں اور اُنھیں نااہل قرار دینے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، جو پاکستانی سیاست کے لیے نیک شگون نہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔