17 مئی بروزِ بدھ اچانک زمان پارک جانے والے راستوں کو بند کر دیا گیا۔ میڈیا ہاؤسز کو بھی ’’مخبری‘‘ کروا دی گئی کہ عمران خان کی رہایش گاہ پر چھاپا مار کارروائی کی جاسکتی ہے۔ اس بات کا بھی ’’اشارہ‘‘ دے دیا گیا کہ ممکنہ طور پر عمران خان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
صحافیوں نے زمان پارک کی جانب دوڑ لگا دی۔ چند ’’اندر کے صحافیوں‘‘ نے ’’حسبِ توقع‘‘ یہ کھلا راز اندر تک پہنچایا اور اندازوں کو سچ ثابت کرتے ہوئے عمران خان سچ مچ گھبرا گئے۔ انھوں نے حسبِ معمول ٹویٹ کر دیا کہ پولیس نے اُن کے گھر کو گھیر لیا ہے اور گرفتاری سے پہلے ممکنہ طور پر یہ اُن کا آخری بیان ہوسکتا ہے۔
عمران خان صاحب کو مزید خوف زدہ کرنے کے لیے صوبائی وزیرِ اطلاعات جناب عامر میر نے الیکٹرانک میڈیا پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے دعوا کیا کہ عمران خان کی رہایش گاہ زمان پارک میں 30 سے 40 دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں، جنھیں فوری طور پر پولیس کے حوالے نہ کیا گیا، تو آپریشن کرکے انھیں برآمد کر لیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ اداروں کے پاس ٹیکنیکل اور انٹیلی جنس معلومات موجود ہیں کہ مطلوب دہشت گرد اُدھر ہی چھپے ہوئے ہیں اور جیوفینسنگ سے اس کی تصدیق بھی ہوچکی ہے۔
عامر میر صاحب نے یہ بھی کہا کہ ہم نے پہلے پنجاب پولیس کے ہاتھ باندھ رکھے تھے، لیکن اب اُسے مکمل اختیار دے دیے ہیں کہ مزاحمت کی صورت میں جوابی کارروائی کی جائے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اُن لوگوں نے خود کو پولیس کے حوالے نہ کیا، تو فواد چوہدری کی طرح دوڑیں لگوا دیں گے۔
حسبِ توقع عمران خان کی جانب سے ردِعمل آیا۔ ٹویٹ کے بعد انھوں نے خطاب بھی کر ڈالا۔ انھوں نے کہا کہ زمان پارک میں کوئی بھی دہشت گرد موجود نہیں۔ حکومت آپریشن کرنے کا بہانہ بنا رہی ہے۔ انھوں نے پیش کش کی کہ مہذب طریقے سے سرچ وارنٹ لے کر آئیں اور ان کی رہایش گاہ کی تلاشی لے لیں۔ انھوں نے دبے لفظوں میں حالات کو درست کرنے کے لیے حکومت کو مذاکرات کی پیشکش بھی کر ڈالی۔
قارئین! آئیے اب اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ کیا حکومتِ پنجاب واقعی زمان پارک میں کوئی آپریشن کرنا چاہتی تھی یا اس کا مقصد کوئی اور تھا؟
سب سے پہلے تو یہ بات یاد رکھیں کہ 9 مئی کے واقعات کے بعد حکومت کو سیاسی طور پر بہت فوائد حاصل ہوئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے جذباتی کارکنان اور عمران خان کی نظروں میں سرخ روئی کے خواہش مند لیڈروں کی حماقت نے پی ٹی آئی کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ اُن کی لیڈرشپ اِدھر ضمانت کرواتی ہے اور اگلے لمحے یا چند گھنٹوں بعد اُدھر اُسے دوبارہ گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ عام ورکرز جنھوں نے جلاو گھیراو میں مرکزی کردار ادا کیا تھا، تاحال عمران خان کی جانب سے کسی بھی قسم کی مدد سے محروم ہیں، جس سے ورکرز میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران خان کی ٹویٹ اور خطاب کے باوجود بھی ورکرز نے زمان پارک کی جانب رُخ نہیں کیا۔ عمران خان کو ’’ریڈ لائن‘‘ قرار دینے والے منظر سے غائب ہیں۔ ’’ٹکر کے لوگ‘‘ 9 مئی کے واقعات سے اظہارِ لاتعلقی ہی نہیں کر رہے، اُن واقعات کی مذمت بھی کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے ورکرز پریشان ہیں، اُن کے ساتھ اپنی لیڈرشپ نے ہی یہ کیا سلوک کر دیا ہے…… اُن کے لیڈر دھڑا دھڑ پریس کانفرنس کرکے 9 مئی کے واقعات کو ظالمانہ قرار دے کر شدید الفاظ میں مذمت کرکے اُن واقعات کے ذمے داران کو شرپسند قرار دے رہے ہیں۔ ورکر، ٹشوپیپر کی طرح برے طریقے سے استعمال ہوئے ہیں۔ عمران خان ہر گزرتے لمحے میں تیزی سے تنہا ہوتے جا رہے ہیں۔ پورے ملک میں افواجِ پاکستان سے اظہارِ یک جہتی کے لیے ریلیاں نکل رہی ہیں اور جلسے ہو رہے ہیں۔ وہ لوگ جو عمران خان کے ہر اچھے برے فیصلے پر لبیک کہا کرتے تھے، اُن سے دوری اختیار کرتے ہوئے پی ٹی آئی کو ملک دشمن پارٹی قرار دے رہے ہیں۔
اب غور کیجیے کہ اتنا کچھ حاصل کرنے کے بعد حکومت یہ کیسے چاہے گی کہ عمران خان کا سٹیٹس تبدیل ہو جائے؟ اس وقت عمران کو ظالم اور فاشسٹ تسلیم کروانے کے بعد حکومت اُسے مظلوم بنانے کا رسک نہیں لے سکتی۔ تادمِ تحریر زمان پارک پولیس کے گھیرے میں ہے۔ 18 مئی کو دن دو بجے کی ڈیڈ لائن کو گزرے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں، مگر پولیس کی جانب سے عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ حکومتِ پنجاب، عمران خان کو گرفتار کرنے کی بجائے تنہا کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس میں سو فی صد کامیاب ہے۔ عمران نے زمان پارک کو اپنا مضبوط قلعہ بنا رکھا تھا، مگر اس قلعہ کے چار پانچ ہزار محافظ جو رضاکارانہ طور پر ہر وقت اس پر پہرہ دیتے تھے، وہ اب اپنی جانیں بچا کر گھروں کو جا چکے ہیں۔ اب عمران اُن کی ’’ریڈلائن‘‘ نہیں رہے۔ جان ہے تو جہان ہے۔ یہاں ظلِ شاہ جیسے بے گناہ مارے جاتے ہیں، تو اُن کے جنازے میں بھی کوئی لیڈر نہیں جاتا۔ حکومت نے بہت مشکل سے زمان پارک کا قلع فتح کرلیا ہے۔ اب وہ دوبارہ اس قلعے کو کبھی مضبوط نہیں ہونے دے گی۔
حکومت نہیں چاہتی کہ زمان پارک عمران خان کی رہایش گاہ کے باہر پی ٹی آئی کے ورکر دوبارہ مورچہ بند ہوجائیں۔ وہ جذباتی ورکروں کو گرفتاری کے خوف میں مسلسل مبتلا رکھے گی۔ پی ٹی آئی کے ورکر بھی اب سوچ رہے ہیں کہ جانیں دینے والے ورکر کے والدین پر کیا گزر رہی ہے؟ یہ پوچھنے کی فرصت بھی قربانی لینے والوں کو نہیں ہوتی۔ تو پھر کیوں اپنے والدین کو مستقل آنسو دیے جائیں۔
یاد رکھیے! حکومت عمران کو اب مظلوم نہیں بننے دے گی۔ نہ 9 مئی کے حاصل شدہ فوائد کو ضائع ہی کرے گی۔ ہاں، اگر واقعی زمان پارک میں دہشت گرد موجود ہیں، تو انھیں قانونی طریقے سے گرفتار کرنا حکومت کا فرض بھی ہے اور حکومتی رٹ کے لیے ضروری بھی۔ رہے نام اللہ کا……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔