وطن عزیز اسلامی جمہوریہ پاکستان اس لحاظ سے پوری دنیا میں انفرادیت رکھتا ہے کہ یہاں لمحوں میں متنازعہ معاملات کو ٹھنڈا کر دیا جاتا ہے اور لمحوں میں ہی غیر ضروری بحث کو قومی سطح کا موضوع بنا دیا جاتا ہے۔ مملکت خدادا میں حکومتیں، عہدے، وزارتیں، اس بنیاد پہ نہیں ملتیں کہ پاکستان کی بہتری اس میں ہے بلکہ یہاں معیار شخصیات ہیں جو بعض اوقات آپ کو پاکستان سے بھی اوپر محسوس ہوتی ہیں (یہ محسوس اس لیے ہوتی ہیں کہ ان شخصیات پہ کسی بھی طرح سے کڑے وقت کو پاکستان ٹوٹنے سے خدانخواستہ تشبیہ دی جانے لگتی ہے، حالاں کہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہے)۔ بے شک شخصیات کی انفرادی سوچ ہوتی ہے جو کسی بھی ملک کو دنیا میں ممتاز مقام دے سکتی ہے جیسے مہاتیر محمد ایک ترقی پذیر ملک کو ترقی یافتہ ممالک کے ساتھ لاکھڑا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ جیسے احمدی نژاد جیسا راہنما ایک مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود ایران جیسے ملک کا نہ صرف سربراہ بن گیا بلکہ اُس نے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں بھی ڈالیں، اور قائد اعظمؒ کی مثال تو سب مثالوں میں اولین ہے کہ جنہوں نے دنیا کا نقشہ ہی تبدیل کر دیا۔
جن ممالک نے ترقی کے مدارج تیزی سے طے کیے، کوئی شک نہیں کہ وہاں اقتدار نہ صرف کانٹوں کی سیج ہے بلکہ اُن ممالک میں جمہوریت، ادارے اور ریاست کے تمام ستون اس قدر مضبوط ہیں کہ شخصیات کے آنے جانے سے نظام پہ فرق نہیں پڑتا۔ اس کی سب سے واضح مثال جاپان کی ہے کہ جہاں آئے دن وزیر اعظم کی تبدیلی کے باجود پوری دنیا میں ’’میڈ اِن جاپان‘‘ معیار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اور اس ملک کی ترقی پہ بھی حرف نہیں آ رہا۔
مگر پاکستان میں گنگا اُلٹی بہتی ہے۔ یہاں جمہوری اداروں سے زیادہ شخصیات کو اس قدر ’’مہان‘‘ بنا دیا جاتا ہے کہ پورے کا پورا نظام کسی مخصوص شخصیت یا خاندان سے وابستہ کرلیا جاتا ہے اور کسی بھی شخصیت یا خاندان کے خلاف بات کو نظام کے خلاف بات تصور کرلیا جاتا ہے۔ جن شخصیات کو واقعی نظام سے تشبیہ دی جانی چاہیے تھی، وہ ہم نے نہیں کیا جیسے قائد اعظم ؒجنہوں نے اپنی بیماری تک اس ملک کی خاطر چھپائے رکھی۔ لیاقت علی خان جن کے کپڑے تک وقت شہادت بوسیدہ تھے، مگر اُن شخصیات کو ہم نے نظام کا متبادل بنا دیا ہے جن کا اپنا کردار مثالی نہ تھا نہ آگے ہونے کی امید ہے۔

جن شخصیات کو واقعی نظام سے تشبیہ دی جانی چاہیے تھی، وہ ہم نے نہیں کیا جیسے قائد اعظم ؒجنہوں نے اپنی بیماری تک اس ملک کی خاطر چھپائے رکھی۔ (فوٹو بشکریہ: ایکسپریس ٹریبون)

99ء میں سیاسی حکومت کی بساط لپٹ جانا یقینا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، مگر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ تاثر تقویت پاتا گیا کہ سیاسی حکومت کی بساط لپٹنے میں بھی بہت حد تک ہاتھ سیاسی راہنماؤں کا اپنا ہی تھا۔ آج تک جتنی دفعہ بھی سیاسی حکومتوں کا تختہ اُلٹا گیا، اُس سے سیاسی راہنماؤں نے سبق حاصل کرنے کی بجائے اس کو آئندہ سیاست کا موضوع بنالیا۔ آج بھی حالات اُسی ڈگر پہ چل رہے ہیں۔ محترم نواز شریف صاحب کی نااہلی کے بعد ایک نادر موقع تھا کہ نواز شریف خود کو تاریخ میں جمہوریت کی سربلندی کے ایک کردار کے طور پر امر کر لیتے، مگر انہوں نے اپنی نااہلی کو ذاتی انا کا مسئلہ ایسے بنایا جیسے اگر وہ پاکستان کے وزیر اعظم نہ رہیں، تو خدانخواستہ پاکستان کے وجود کو کوئی خطرہ درپیش ہوسکتا ہے۔ جی ٹی روڈ کے سفر کے دوران میں اُن کا رویہ، بولنے کا انداز اور لب و لہجہ ایسا تھا کہ جیسے وہ پاکستان کے لیے ناگزیر ہیں۔ اس بحث سے بالاتر کہ عدالت عظمیٰ کا فیصلہ درست تھا یا غلط، ضرورت اس امر کی تھی کہ نواز شریف اس بحرانی کیفیت میں ایک ایسا کردار بن کر اُبھرتے جو جمہوریت کی سر بلندی کو اپنی ذات سے اہم سمجھتے، مگر فیصلے کے بعد کی محاذ آرائی سے سیاستدانوں کے ذاتی مفادات کھل کے سامنے آ رہے ہیں۔ جمہوریت کو خطرہ عدالتی فیصلے سے تھا نہ کسی اور قوت سے بلکہ جمہوریت کو حقیقی خطرات تو سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویوں سے ہیں۔ جس طرح آئینی ترامیم اور عدالتی پیشیوں کو متنازعہ بنایا گیا ہے حقیقت میں اس طرزِ عمل کو جمہوریت سے خطرات در پیش ہیں۔ عدالتوں کو سیاسی اجتماعات کا مرکز بنا لینا نہ جانے جمہوریت کا کون سا رُخ ہے؟ جمہوریت تو قائم و دائم ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ایک اور سیاسی راہنما وزیر اعظم بن چکا ہے، تو جمہوریت کو اس سیاسی تبدیلی سے کیا خطرہ ہے؟ جمہوریت کو حقیقی خطرہ تو یہ ہے کہ شخصیات پرستی کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ ایک راہنما پاکستان میں نہ ہوتے ہوئے بھی حلقے کا ایک بھی دورہ، ایک بھی جلسہ کیے بنا انتخاب جیت جاتا ہے۔



جاپان میں آئے روز وزیر اعظم کی تبدیلی کے باجود پوری دنیا میں ’’میڈ اِن جاپان‘‘ معیار کی ضمانت سمجھا جاتا ہے اور اس ملک کی ترقی پہ بھی حرف نہیں آ رہا۔

جمہوریت کو خطرہ تو اس بات سے ہے کہ سیاسی لوگ خود کو کسی بھی قسم کی جواب دہی سے مستثنا سمجھنے لگے ہیں۔ اُن کے نزدیک مملکت پہ اُن کا حق ایسے ہی ہے جیسے کوئی وراثتی جائیداد۔ عدالتی پیشیوں، ان ہاؤس تبدیلی اور سیاسی نظام کے تسلسل سے تو جمہوریت کو ہرگز خطرہ نہیں ہوسکتا۔ جب شخصیات خود کو نظام سے بالاتر سمجھنا شروع کر دیں، حقیقتاًاُس وقت ہی جمہوریت کو خطرہ در پیش ہوتا ہے۔

جمہوریت کو آج نہ عدالتی فیصلوں سے خطرہ ہے نہ کسی مخفی قوت سے بلکہ جمہوریت کے لیے خطرہ صرف سیاسی راہنما خود ہیں۔ (فوٹو بشکریہ نیشن ڈاٹ کام)

جس انداز سے غیر موزوں لوگوں کو وزارتوں کی بندر بانٹ میں شامل کیا گیا اُس سے جمہوریت کو خطرہ اس لیے ہے کہ یہ عمل پاکستان کی عالمی سطح پہ جگ ہنسائی کا سبب ہو رہا ہے، جس کی تازہ مثال وزیر خارجہ کے حالیہ متنازعہ بیانات ہیں۔
کیا جمہوریت کو خطرات محترم شاہد خاقان عباسی کے وزیر اعظم بن جانے سے لاحق ہو گئے ہیں؟ کیا جمہوریت کو خطرات اِن ہاؤس تبدیلی سے در پیش ہیں؟ کیا مدت پوری کرتی اسمبلی سے جمہوری نظام کو خطرات کا سامنا ہے؟ اگر نہیں، تو پھر یقینا جمہوریت کو خطرات سیاسی پارٹیوں میں مخصوص خاندانوں کی اجارہ داری سے لاحق ہیں کہ ایک شخصیت کے منظر سے ہٹنے کو ملک کی تباہی گردانا جا رہا ہے۔ مطلق العنانیت اس سے پہلے بھی سیاسی راہنماؤں کی سوچ میں رہی ہے، مگر آج وہ تاریخ کا حصہ ہیں اور پاکستان آج بھی قائم و دائم ہے۔ جمہوریت کو آج نہ عدالتی فیصلوں سے خطرہ ہے نہ کسی مخفی قوت سے بلکہ جمہوریت کے لیے خطرہ صرف سیاسی راہنما خود ہیں۔

………………..

لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔




تبصرہ کیجئے