حکمِ الٰہی کی تکمیل کرتے ہوئے روزے کی محنت و مشقت اُٹھانے والے ایسے خوش نصیب ہیں کہ جنھیں اللہ تعالا اپنی رضا و مغفرت اور گناہوں کی بخشش کے اعزاز سے نوازتے ہیں…… اور ان کے اعزاز میں ہونے والی تقریبات کا اہتمام و انتظام فرش پر ہی نہیں عرش پر بھی کیا جاتا ہے۔ جنت کو اُن کے اعزاز میں سجایا، سنوارا جاتا ہے اور فرشتوں میں اُن کا تذکرہ ہوتا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اِس ماہِ مبارک کی برکتوں اور رحمتوں کو سمیٹا، گناہوں کو بخشوایا، قیام اللیل کیا، دن کو روزے رکھے، سب سے قطع تعلق ہوکر اللہ تعالا سے تعلق کو مضبوط کیا، صبر و ایثار کو اپنایا، مساجد کو آباد کیا، قرآنِ مجید کوسنا اور سنایا، اپنی جبینوں کو اللہ ربّ العزت کے حضور جھکایا، اپنی زندگیاں، شب و روز، معاملات، معمولات، کاروبار، گھر بار کو اسلام کے مطابق ڈھالنے کا عہد کیا۔ جھلسا دینے والی گرمی اور بے تاب و بے قرار کر دینے والی بھوک اور پیاس کو برداشت کیا اور اللہ تعالا کی رضا کے لیے رمضان المبارک کے مہینے میں محنت ومشقت کی۔
رانا اعجاز حسین چوہان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rana/
عید الفطر درحقیقت عباداتِ رمضان کا انعام ہے۔ اس دن اللہ تعالا اپنے بندوں کی مغفرت فرماتے اور ان کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے راویت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب عید الفطر کا دن ہوتا ہے، تو اللہ تعالا اپنے بندوں پر ملائکہ کے سامنے فخر کرتے ہیں اور انھیں مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ اے میرے فرشتو! اس اجیر (مزدور) کی جزا کیا ہے، جس نے اپنے ذمے کا کام پورا کر دیا؟ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار اس کی جزا یہ ہے کہ اس کی مزدوری اسے پوری پوری دے دی جائے۔ اللہ تعالا جواب دیتے ہیں کہ اے میرے ملائکہ! میرے ان بندوں نے اپنا وہ فرض پورا کر دیا جو مَیں نے ان پر عائد کیا تھا۔ پھر اب یہ گھروں سے (عیدکی نماز ادا کرنے اور) مجھ سے گڑ گڑا کر مانگنے کے لیے نکلے ہیں۔ قسم ہے میری عزت اور میرے جلال کی، میرے کرم اور میری بلند شان کی اور میرے بلند مقام کی، مَیں اُن کی دعائیں ضرور قبول کروں گا۔ پھر اللہ تعالا اپنے بندوں کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: جاؤ! میں نے تمھیں معاف کر دیا اور تمھاری برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دیا۔‘‘
عید الفطر، امتِ مسلمہ کے اُن مسلمانوں کے لیے خوشیوں کی نوید ہے۔ ہمیں احتیاط کا دامن تھامتے ہوئے اس دن کو اپنے گناہوں سے مغفرت کا دن بناناچاہیے۔ اور عید سعید کی خوشیوں کے لمحات میں ایسے ہر کام سے بچنا چاہیے جو شعائرِ اسلام کے منافی ہو۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: ’’عید اُن کی نہیں جنھوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو زیب تن کیا…… بلکہ حقیقتاً عید تو ان کی ہے جو خدا کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں جنھوں نے بہت سی خوش بوؤں کا استعمال کیا، عید تو اُن کی ہے جنھوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے۔‘‘
پورے ماہِ رمضان قید رہنے کے بعد اس دن شیطان جو ہمارا ازلی دشمن ہے، آزاد ہوجاتا ہے، ہمیں احتیاط سے کام لینا چاہیے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم اس دشمن کے بہکاوے میں آکر ماہِ رمضان میں سمیٹی نیکیوں کو ضائع کردیں…… اور عذابِ الٰہی کے مرتکب ٹھہریں۔ لہٰذا عید کے دنوں میں غیر شرعی، غیر اسلامی کاموں سے، بری مجلسوں میں جانے، ناچنے گانے اور بے ہودہ پروگراموں میں شرکت سے اجتناب کرنا چاہیے۔ عید کی خوشیوں میں ان افراد کو ضرور شامل کرنا چاہیے جو محروم ہیں۔
عید کے موقع پر ہمیں خوشیاں منانے یا خوشیاں پانے سے زیادہ خوشیاں بانٹنے والا بننا چاہیے۔ اپنی خوشیوں میں غربا و مساکین اور محتاجوں کو بھی شامل کرنا چاہیے۔ کیوں کہ یہ خوشیاں ہیں، تو زندگی کی راہوں میں تازگی اور مسرتوں کے چراغ ہیں۔ اگر ان کی روشنی دوسروں کی راہوں میں بکھیر دی جائے، تو ان میں کمی نہیں ہوگی۔ عید کا دن جہاں پیار، محبت اور خوشیاں بانٹنے کا دن ہے…… وہاں نفرتوں، ملامتوں اور ناراضیوں کے مٹانے کا بھی دن ہے۔
عید پر نفرتوں کو بھول کر ، رنجشوں کو ترک کرکے عزیز رشتہ داروں کو گلے سے لگانا چاہیے، نہ معلوم اگلی عید کے موقع پرہمیں ان کی یا انھیں ہماری رفاقت نصیب ہو یانہ ہو۔
عید کے موقع پر بزرگوں اور والدین کو خصوصی وقت دینا چاہیے۔ کیوں کہ زندگی کے انتہائی تیز رفتار شب و روز میں اکثر بزرگوں کو ہم خرید کر ہر چیز دے دیتے ہیں اور اشیائے صرف کا انبار بھی لگا دیتے ہیں، مگر ایک چیز جس کی شدید کمی ہے، وہ وقت ہے۔ جو ہم اپنے والدین اور بزرگوں کو نہیں دے پاتے۔ عید کے موقع پر حقیقی خوشی ایک دوسرے سے ملنے اور مل بیٹھنے سے حاصل ہوتی ہے، لیکن ہم نے باقاعدہ ملنے کی بجائے موبائل کے ذریعے پیغامات کو کافی سمجھ لیا ہے۔ ہمیں نہ صرف اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا چاہیے بلکہ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے عید کے پُرمسرت لمحات محروم طبقات کے سنگ گزارنا چاہیے۔ ہسپتالوں میں داخل مریضوں، چائلڈ ہوم اور یتیم خانوں میں پرورش پانے والے بچوں، اولڈ ہاؤس میں زندگی کے دن پورے کرنے والے بزرگوں، نابینا و معذور افراد کے اداروں اور جیلوں میں پابندِ سلاسل قیدیوں کے ساتھ عید مناکر عید کی مسرتوں کو دوبالا کیا جاسکتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔