سعودی عرب میں چھے ماہ روزگار کی مشکلات کے بعد تقریباً دو ماہ ہوچکے ہیں کہ روزگار مل گیا ہے۔ روزگار کی وجہ سے بہت کم وقت ملتا ہے ملکی حالات سے آگاہی کا۔
حسن چٹان کی دیگر تحاریر کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/hasan-chatan/
جمعرات کو سوشل میڈیا پر محترم فضل حکیم خان یوسف زئی کی پریس کانفرنس دیکھی۔باقی باتیں تو سیاسی تھیں، مگر ان پر جو الزام لگ رہا ہے کہ ان کے اثاثوں میں اربوں روپے کا اضافہ ہوا ہے، وہ اس الزام کی تردید کر رہے تھے اور الزام لگانے والے کو ’’منافقین‘‘ کی صف میں کھڑا کر رہے تھے اور ساتھ بیٹھے ہوئے صحافی حضرات کو کَہ رہے تھے کہ مناقین کا ساتھ نہ دیں اور نرم الفاظ میں ’’دھمکی‘‘ بھی دی۔
مذکورہ ویڈیو دیکھنے کے بعد مجھے بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور تہیہ کرلیا کہ اگر ان پر جھوٹا الزام لگ رہا ہے، تو مَیں ان کا دفاع کروں گا۔ خیر، آج کوئی ایک مہینے بعد جمعہ کے روز چھٹی نصیب ہوئی۔ صبح صبح الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کھول کر باآسانی تمام تفصیلات تک رسائی حاصل کی۔ اب مَیں تو اتنا قابل بندہ ہوں نہیں، کیوں کہ حساب ہزاروں اور لاکھوں کا نہیں بلکہ کروڑوں اور اربوں کا تھا…… سو مجبوراً کچھ تعلیم یافتہ اور قابل لوگوں سے رابطہ کرنا پڑا۔ وہ تو بھلا ہو فزکس کے ایک پروفیسر صاحب کا کہ اربوں کا حساب کرنے میں انھوں نے میری مدد کی۔
اب مَیں فضل حکیم صاحب کی جانب سے جمع کردہ اثاثوں کی تفصیل بیان کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
جناب فضل حکیم خان یوسف زئی نے اپنے اثاثہ جات کی جو تفصیل میڈیا کے سامنے دکھائی ہے، اگر ہم اسے درست بھی تسلیم کرلیں، تو بھی اس میں بہت تضاد موجود ہے۔ جیسے انھوں نے 2013ء میں جو گوشوارے جمع کرائے ہیں، ان کے مطابق 24 عدد پلاٹ، 2 عدد کمرشل بلڈنگ، 1 عددپلازہ، 1 عدد مکان اور حجرہ جس کی کُل مالیت 45 کروڑ ظاہر کی ہے۔ اس طرح خوراک محل، آفرین چپلی کباب، بیورج فوڈ فیکٹری کی کُل مالیت 1 کروڑ ملا کرکُل اثاثہ جات 46 کروڑ ظاہر کیے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پرموجود ڈیٹا کے مطابق جناب فضل حکیم خان یوسف زئی کی 2018ء کے اثاثہ جات کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:
٭ 24 عدد پلاٹ، 2 عدد کمرشل بلڈنگ 4550000000 یعنی 4 ارب 55 کروڑ۔
٭ رہایشی مکان مع حجرہ 4 کروڑ۔
٭ مشروبات کارخانہ اور تین عدد ریسٹورنٹ ایک کروڑ 8 0لاکھ روپے۔
٭ ٹویوٹا ریوو گاڑی (رجسٹرڈ) 55 لاکھ روپے۔
٭ لینڈ کروزر (غیر رجسٹرڈ) 15 لاکھ روپے۔
٭ 800 گرام زیورات 40 لاکھ روپے۔
٭ نقد 3 کروڑ 50 لاکھ روپے۔
اس کے علاوہ حبیب بنک میں 147548 روپے، ایم سی بی بینک میں 251120 روپے اور بینک آف خیبر میں 315375 روپے ظاہر کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فرنیچر کی قیمت 800000 الگ ظاہر کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن کو جمع کیے گئے ریکارڈ کے مطابق ان سب اثاثہ جات کی کُل مالیت 4 ارب 65 کروڑ 68 لاکھ 41 ہزار 9 سو 83 پاکستانی روپے بنتی ہے…… جب کہ الیکشن کمیشن کو انگریزی میں جمع شدہ بیانِ حلفی کے مطابق جناب فضل حکیم خان یوسف زئی نے سال 2016ء میں 52 کروڑ 81 لاکھ روپے ظاہر کیے، جب کہ سال 2017ء میں 53 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار 9 سو 83 پاکستانی روپے ظاہر کیے ہیں۔
بیانِ حلفی کے مطابق جناب فضل حکیم خان یوسف زئی کا 2016ء اور 2017ء کے دوران میں اثاثہ جات میں 22 لاکھ سے زیادہ پاکستانی روپے کا اضافہ ہواہے…… جب کہ الیکشن کمیشن کو جمع شدہ ’’فارم ب‘‘ کے ریکارڈ کے مطابق ان کے اثاثہ جات کی کُل مالیت 4 ارب 65 کروڑ 68 لاکھ 41 ہزار 9 سو 83 پاکستانی روپے بنتی ہے ۔
اب اگر ہم مان لیں کہ بیانِ حلفی میں درج معلومات درست ہیں، جو جناب فضل حکیم خان یوسف زئی نے اپنی پریس کانفرنس میں قوم کے سامنے رکھیں…… اور ان کے مکانات وغیرہ کی درج شدہ قیمت 4 ارب 55 کروڑ نہیں، بلکہ 45 کروڑ 50 لاکھ ہے، تو تب بھی سال 2017ء میں جمع شدہ ریکارڈ کی کُل مالیت 56 کروڑ 18 لاکھ 41 ہزار 9 سو 83 پاکستانی روپے بنتی ہے…… اور انھوں نے بیانِ حلفی میں 53 کروڑ 3 لاکھ 41 ہزار نو سو 83 پاکستانی روپے ظاہر کیے ہیں۔
اب اگر اب اگر فارم ب میں چار ارب پچپن کروڑ میں غلطی سے ایک صفر زیادہ لگ گیا ہے، تو پھر بھی تفصیلات میں واضح غلطیاں موجود ہیں۔مَیں حساب کتاب میں اتنا قابل نہیں ہوں، مگر بیانِ حلفی کے 52 کروڑ روپے اور فارم ب میں ’’صفر‘‘ کی غلطی کے بعد بھی کُل درج شدہ رقم میں 3 کروڑ روپے سے زیادہ کا فرق موجود ہے۔

مَیں جناب فضل حکیم خان یوسف زئی سے اپیل کرتا ہوں کہ اپنی غلطی کو دوسروں کی مناقت پر محمول کرنا درست نہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر موجود تفصیلات کی وجہ سے آپ پر الزامات لگ رہے ہیں۔ براہِ کرم الیکشن کمیشن سے رابطہ فرمائیں، تو بہتر ہوگا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔