پشتو کی ایک مشہور کہاوت ہے: ’’چی رشتیا رازی رازی، دروغو بہ کلی وران کڑی وی۔‘‘ یعنی جب تک سچ کا پتا چلے گا، جھوٹ تباہی مچا چکا ہوگا۔
ایسی ہی ایک خبر سوشل میڈیائی پلیٹ فارمز ’’فیس بُک‘‘ اور ’’ٹوئٹر‘‘ وغیرہ پر پھیلی، بلکہ ٹوئٹر پر تو ٹاپ ٹرینڈ بن گئی، جس نے بیشتر افراد کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ خبر کا لبِ لباب یہ تھا کہ ’’یہ سکواش کا وہ کھلاڑی ہے جس کا ایک آٹو گراف لینے کے لیے حسینائیں لائنیں لگا کے کھڑی رہتی تھیں۔ آج ایک عجیب دماغی مرض کا شکار ہوکر مسجد کے ایک کونے میں بیٹھا اپنی صحت یابی کی دعائیں مانگ رہا ہے۔‘‘
کامریڈ امجد علی سحابؔ کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/sahaab/
روزنامہ آج کے اندرونی کلر صفحات ’’کھیلوں کی دنیا‘‘ کی ایک خبر کے مطابق جان شیر خان بالکل فٹ ہیں۔ خبر کے مطابق جان شیر خان کے بہنوئی نے خبر کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق عالمی چمپئن کسی ایسی خاص بیماری یا پریشانی میں مبتلا نہیں۔ بس ان کے گھٹنوں میں تکلیف ہے۔ ذہنی صحت کے حوالے سے انھیں کوئی شکایت نہیں۔
واضح رہے کہ جان شیر خان سکواش کے کھیل کے 8 مرتبہ عالمی چمپئن اور 6 مرتبہ ’’برٹش اوپن سکواش چمپئن شپ‘‘ جیت کر تاریخ رقم کرچکے ہیں۔
ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جس میں جو شخص جتنا بڑا جھوٹا ہے، اتنا نمایاں ہے۔ اپنے فیس بُک صفحوں کی Likes اور ٹویٹر وغیرہ پر Followers بڑھانے کے لیے جھوٹی خبریں پھیلانا معمول بن چکا ہے۔
طُرفہ تماشا یہ ہے کہ اکثر سنجیدہ شخصیات اپنی وال پر مذکورہ جھوٹ پر مبنی خبریں دے کر اپنے ساتھ دیگر سنجیدہ شخصیات کو بھی پریشانی میں مبتلا کردیتی ہیں۔
وہ کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ
دوپہر تک بک گیا بازار کا ہر ایک جھوٹ
اور مَیں اک سچ کو لے کر شام تک بیٹھا رہا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔