نہ بجلی، نہ پانی، نہ گیس، نہ آٹا اور بڑھتا جارہا ہے سناٹا۔
روحیل اکبر کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/akbar/
بس یہی پوچھنا تھا کہ اتنا کافی ہے، یا اور چاہیے ’’پرانا پاکستان‘‘؟ کیوں کہ جب ہم نے ہوش سنبھالی، تو اُس وقت پاکستان کی یہی صورتِ حال تھی۔ سرے شام ہی لالٹین، دیوے اور موم بتیوں کے انتظام کے ساتھ ساتھ لالٹین کی چمنی صاف کرنابھی ضروری ہوتا تھا۔ گذشتہ روز موم بتیاں اور لالٹین خریدنے والوں کا دکانوں پر رش دیکھا، تو ’’پرانا پاکستان‘‘ یاد آگیا۔ ابھی تو پیٹرول کی قیمتیں جب بڑھیں گی، تو سائیکلہں بھی سڑکوں پر نظر آئیں گی جو نئے پاکستان میں غائب ہوچکی تھیں۔ ان جھٹکوں اور دھچکوں سے ہمیں نجات دلانے والی حکم ران سیاسی جماعتوں کی جانب سے ملکی معیشت کو سنبھالنے کے دعوے دھوکا ثابت ہوئے۔ کیوں کہ اس وقت عوام اور معیشت دونوں بسترِ مرگ پر ہیں۔ معیشت کی تباہی میں حکم ران اشرافیہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، جس نے خوش حال ملک کا دِوالا نکال لیا۔
اب بھی حکم ران اپنی ترجیحات بدل لیں، تو پاکستان ترقی اور لوگ خوش حالی کے راستے پر چل پڑیں گے…… اور اس کے لیے ہمیں اپنی زراعت پر توجہ دینا پڑے گی۔ ہمارے دیہی علاقوں میں تقریباً 68 فی صد آبادی کا خوراک اور معاش کے لیے زراعت پر انحصار ہے۔ اس وقت ہماری زراعت کے ساتھ ساتھ معیشت بھی کم زور ہے۔ ملک کو اس صورتِ حال سے باہر نکلنے کی ضرورت ہے۔ جہاں زراعت معاشی ترقی میں سب سے زیادہ معاون ہے۔ اس لیے پاکستان کو اپنی معاشی پالیسیاں موجودہ حالات اور عالمی نظام کے مطابق بنانا ہوں گی۔
پاکستان کے پاس ڈھیرسارے وسائل اور زرخیز سرزمین ہے۔ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ بالواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے وابستہ ہے۔ زراعت ہماری معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور غذائی تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے، جو جی ڈی پی کا 22 فی صد ہے۔
اس وقت ہماری صورتِ حال یہ ہے کہ ہمارے پاس قرضے واپس کرنے کے لیے پیسے نہیں اور ان پر سود ادا کرنے کے لیے ہم اپنی اشیا گروی رکھوا رہے ہیں۔ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران میں قرضوں پر واجب الادا سود کے اخراجات2.57 ٹریلین روپے تک بڑھ گئے، جو کہ قرضوں کی ادائی کے سالانہ بجٹ کے 65 فی صد کے برابر ہے۔
وفاقی وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے کہا تھا کہ رواں مالی سال میں قرض کی ادائی کا حجم تقریباً 5 ٹریلین روپے تک بڑھ سکتا ہے، جو اس سال کے 9.6 ٹریلین روپے کے کل بجٹ کے نصف سے زائد ہوگا اور یہ گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 118 ارب روپے یا تقریباً 23 فی صد زیادہ ہے، جو وفاقی حکومت کی خالص آمدنی کے 128 فی صد کے برابر ہے۔
قارئین! اس سے پتا چلتا ہے کہ پاکستان قرضوں کے جال میں ہی پھنسا رہے گا۔ رواں مالی سال جولائی تا دسمبر کل اخراجات کا 69 فی صد صرف قرضوں پر سود کی ادائی اور دفاع کی مد میں خرچ ہوا، جس کے نتیجے میں عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے بہت کم فنڈز حکومت کے پاس بچے۔
اعدادوشمار کے مطابق قرضوں کی ادائی اور دفاع پر 3200 ارب روپے کے خطیر اخراجات کے مقابلے میں ترقیاتی کاموں پر صرف 147 ارب روپے خرچ ہوئے۔ ترقیاتی اخراجات پچھلے مالی سال کے مقابلے میں 141 ارب روپے یا 49 فی صد کم رہے۔
قارئین! ایک طرف تو ہماری معاشی صورتِ حال اتنی خراب ہوچکی ہے، تو دوسری طرف ملک میں عام انتخابات کا راستہ روکنے کی ابھی سے تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ صرف دو صوبوں میں الیکشن مسائل کا حل نہیں۔ اس سے استحکام نہیں آئے گا۔ پورے ملک میں بیک وقت انتخابات ہوں، جس کے لیے باقی صوبوں سمیت مرکز میں بھی نگران سیٹ اَپ تشکیل دیا جائے اور اس کے لیے تمام سیاسی جماعتیں مذاکرات کا آغاز کریں۔
اس وقت 22 کروڑ عوام مہنگائی، بدامنی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں۔ غربت اتنی زیادہ ہے کہ لوگوں کے پاس ایک وقت کا راشن نہیں۔ ڈالر غائب ہے اور اس کی قدر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پڑھے لکھے نوجوان مستقبل سے مایوس ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ عوام آٹے کی لائنوں میں کھڑے ہیں۔ بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتیں غریب اور سفید پوش طبقہ کی پہنچ سے مکمل دور ہوگئی ہیں۔ لوگوں کے لیے ایک وقت کی روٹی کا انتظام مشکل ہوگیا ہے۔ صحت اور تعلیم کا نظام بیٹھ گیا ہے۔ ڈھائی کروڑ بچے غربت کی وجہ سے سکولوں سے باہر ہیں۔ 80 فی صد سے زائد عوام کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں۔
قارئین! ہمیں اس حال تک پہنچانے والے ہمارے اپنے حکم ران ہیں، جنھوں نے اپنی جائیدادیں بنائیں۔ ’’آف شورکمپنیاں‘‘ بناکر بچوں کوبیرونِ ملک اور خود یہاں ایکڑوں پر محیط محلات میں رہایش پذیر ہیں…… اور عوام بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت سب نے مل کر ملک کا سیاسی، سماجی اور معاشی لحاظ سے دوالا نکال دیا ہے…… جتنا ان کے بس میں تھا، وہ انھوں نے کردیا…… اب باری عوام کی ہے کہ وہ ملک کو معاشی لحاظ سے تباہ کرنے والوں کاووٹ کی طاقت سے احتساب کریں۔ ورنہ حالات سب کے سامنے ہیں۔
پرانے پاکستان کا دروازہ بھی کھل چکا ہے…… جب کہ گذشتہ روز ہونے والا شٹ ڈاؤن گذشتہ تین ماہ کے دوران میں دوسرا ملک گیر بریک ڈاؤن تھا، جس سے پہلے سے ہی تباہ حال معیشت کو اربوں کا نقصان ہوا۔
رہی بات نگران وزیرِ اعلا پنجاب ’’محسن نقوی‘‘ کی، تو ان سے امید ہے کہ وہ عوام پر رحم فرماتے ہوئے اپنی مختصر سی کابینہ تشکیل دے کر غریب لوگوں پر اخرجات کا مزید بوجھ نہیں ڈالیں گے…… بلکہ اپنے تجربے اور قابلیت سے پنجاب میں ایک مثال قائم کرکے اپنے اداروں کی طرح پنجاب کے اداروں کو بھی مضبوط کریں گے۔
بالخصوص ڈی جی پی آر کے دھندلے آئینے کو صاف کریں گے، جو پنجاب میں ان کے کاموں کو عوام تک پہنچائے گا۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ باہر سے ڈی جی پی آر لگانے کی بجائے اسی ادارے کے سینئر افسر کو اس ادارے کا سربراہ لگا دیا جائے، جو اپنے ادارے کو بھی جانتا ہو، ادارے والوں کو بھی سمجھتا ہو اور میڈیا والوں سے بھی دوستی رکھتا ہو، تاکہ یہ ادارہ بھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہوسکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔