ملکِ عزیز میں جان بچانے والی ادویہ کی شدید قلت پیدا ہوچکی ہے، جس کی وجہ سے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے 110 سے زائد قیمتوں میں اضافے کی سفارش کی ہے۔ حکام کا موقف ہے کہ اس وقت ملک میں ضروری ادویہ کی سخت قلت ہے اور اگر قیمتوں میں اضافہ نہ کیا گیا، تو خدشہ ہے کہ ادویہ ساز کمپنیاں یہ ادویہ بنانا اور باہر سے منگوانا بند کر دیں گی۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں لیا گیا ہے جب کہ چند دن پہلے ہی وفاقی کابینہ نے بہت سی ادویہ کی قیمتیں فکس کرنے اور 20 ضروری ادویہ کی قیمتیں 30 فی صد کم کرنے کی منظوری دی تھی۔
رفیع صحرائی کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rafi/
حقیقت یہ ہے کہ جون 2022ء سے قریباً تمام ادویہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال جولائی میں جس نئی ڈرگ پرائس پالیسی کی منظوری دی گئی تھی، اس کی وجہ سے 500 سے زائد ادویہ اور سرجیکل آلات کی قیمتوں میں دس فی صد تک اضافہ ہوا تھا۔ گذشتہ ساڑھے چار سال کے دوران میں یہ ساتواں بڑا اضافہ جب کہ رواں مالی سال میں دوسرا بڑا اضافہ ہے۔ نہ تو گذشتہ حکومت نے مریضوں کی حالتِ زار پر ترس کھانا ضروری سمجھا اور نہ موجودہ حکومت ان کو کسی قسم کا ریلیف دینے میں سنجیدہ ہی نظر آ رہی ہے۔
مہنگائی نے یہ حال کر دیا ہے کہ درمیانہ طبقہ بھی اب چیخ اٹھا ہے۔ لوگوں کو جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے دو وقت کے کھانے کی فکر کھا رہی ہے۔
سیاست دان، عوام کی فلاح کے منصوبے بنانے کی بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور رسوا کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ پنجاب اور کے پی کی اسمبلیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ الیکشن سر پر ہیں، مگر کسی سیاسی پارٹی کے پاس عوام کی فلاح کا کوئی پروگرام نہیں۔ عمران خان صاحب ایک دن پہلے اپنا ایجنڈا دے چکے ہیں کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف صاحب کو اتنی ٹینشن دیں گے کہ وہ سونے کے لیے نیند کی گولیاں کھانے پر مجبور ہوں گے جب کہ پی ڈی ایم والے عمران خان کو انتخابات میں عبرت ناک شکست کا مژدۂ جاں فزا سنا رہے ہیں۔ آصف زرداری اور بلاول بھٹو صاحب سندھ کے بلدیاتی انتخابات کا دوسرے فیز کی جیت کے نشے میں سرشار ہیں، تو جماعتِ اسلامی کراچی میں اپنی سیاسی واپسی کا جشن منا رہی ہے۔ اس حقیقت کی طرف کسی کی توجہ بھی نہیں جا رہی کہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں بہت بڑی تعداد میں ووٹر نکلا ہی نہیں۔ ایم کیو ایم والے دعوا کر رہے ہیں کہ ٹرن آؤٹ صرف 9 سے 10 فی صد رہا ہے۔ گویا 90 فیصد ووٹرز نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کر کے سسٹم پر عدمِ اعتماد کا اظہار کر دیا ہے۔ دیکھا جائے، تو یہ سیاست اور سیاست دانوں کی بہت بڑی شکست ہے کہ وہ ووٹرز کو باہر نکلنے پر قائل ہی نہ کرسکے۔
اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ووٹر تمام سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں سے مایوس ہوچکا ہے۔ سیاست دانوں کی ہوسِ اقتدار میں مبتلا ہو کر آپس کی لڑائیوں نے ملک کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر دیا ہے۔ ہر سیاست دان دوسرے کی ٹانگ کھینچنے، دھوکا دینے اور مسندِ اقتدار پر پہنچنے کے لیے جوڑ توڑ اور سازشوں میں مصروف ہے۔ ایسے میں عوام رُل گئے ہیں۔ کوئی بھی حکومت عوام کو ریلیف دینا نہیں چاہتی اور اپوزیشن اس معاملے پر پوری طرح متفق ہوتی ہے کہ ریلیف کی صورت میں حکومت کریڈٹ کیوں لے؟ حکومتی اور اپوزیشن پارٹیاں چکی کے دو پاٹ بن کر عوام کو بری طرح پیس رہی ہیں۔ 5 فی صد مراعات یافتہ ’’برہمن طبقہ‘‘ پچانوے فی صد عوام کے ساتھ ’’شودروں‘‘ والا سلوک کر رہا ہے۔
بات دور نکل گئی۔ ادویہ کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ اثر اُن مریضوں پر پڑا ہے، جو تین وقت مستقل دوا کھاتے ہیں۔ بیماری امیر یا غریب کو نہیں دیکھتی۔ دو وقت کی روٹی سے تنگ لوگ تین وقت کی دوا کے اخراجات کیسے پورے کریں گے؟ یہ سوچنے کی کسی حکومت نے ضرورت محسوس کی ہے اور نہ اس کے پاس اتنی فرصت ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ عام اور نچلے طبقے کے لوگ تین کی بجائے ایک وقت دوا کھانے لگے ہیں۔ یوں ان کا مرض کم ہونے کی بجائے بڑھتا جا رہا ہے، مگر وہ فریاد کریں، تو کس سے کریں؟
کینسر، اینستھیزیا، نفسیاتی اور دل کے امراض، اعضا کی پیوند کاری اور جان بچانے والی ادویہ کی قلت نے ان امراض میں مبتلا خواتین و حضرات کے لیے خطرناک صورتِ حال پیدا کر دی ہے۔ قیمتیں بڑھانا مسئلے کا حل نہیں، بلکہ ادویہ کی قلت پر قابو پانا مسئلے کا حل ہے۔ ان اسباب کو دور کرنے کی ضرورت ہے جن کی وجہ سے یہ مصنوعی قلت پیدا کرکے اور حکومتوں کو بلیک میل کرکے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔ مریضوں کے جذبات سے کھیلا جا رہا ہے اور انھیں فٹ بال بنا کر مافیا کے آگے پھینکا جا رہا ہے۔ قیمتوں میں اضافے سے زیادہ اہم کام جان بچانا ہے۔ اس کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔
اربابِ اختیار کو ضروری اور جان بچانے والی ادویہ کی قیمتیں بڑھا کر سارا بوجھ عوام پر ڈالنے کی بجائے ضروری طبی سامان، جراحی کے آلات اور ادویہ کی درآمد کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا چاہیے۔
مہنگی ادویہ کی درآمد کی بجائے ملکی سطح پر ان ادویہ کی تیاری کو فروغ دینا چاہیے اور مقامی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کی اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، تاکہ نہ صرف ادویہ کی قلت پر قابو پایا جاسکے، بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی بلیک میلنگ سے بھی نجات مل سکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔