کچھ سال پہلے امید کا دیا جلایا گیا۔ اندازہ یہ لگایا گیا کہ ہجوم بکھرا ہوا ہے اور اس کو ایک قوم بنانا اب لازمی بن چکا ہے۔ امید کے دیے کو جلا کر یہ فرض کرلیا گیا کہ جو مخالف سمت میں آئے گا، وہ دشمن ہوگا اور اس دشمن کو زیر کرنے کے لیے ہر حربہ استعمال ہوگا۔ ہر وہ شخص غلط ہوگا جو اختلاف رکھے گا اور جو خاموش نہیں ہوگا، اس کو غدارِ وطن کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔
شبیر بونیری کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/shabeer-buneri/
نئی منزلوں کی جانب سفر شروع ہوا، تو تالیاں زور سے بجائی جانے لگیں۔ بکھرے لوگ ہر روز نیا جشن منانے لگے۔ ان کو لگا کہ یہی انقلاب کا آغاز ہے اور ان تمام لوگوں کو زیر کیا جانے لگا جنھوں نے تھوڑا سا بھی اختلاف رکھا۔ غداروں کی تعداد بڑھنے لگی اور وطن سے محبت کرنے والوں کا سفر آگے بڑھنے لگا۔
ریت کے کم زور ٹیلوں پر ایک مضبوط عمارت کی تعمیر تاریخ میں ہمیشہ ایک ناقابلِ تلافی غلطی ثابت ہوئی ہے، مگر دلیل کے ساتھ دشمنی رکھنے والے یا تو پاگل ہوتے ہیں اور یا ہٹ دھرم۔ تاریخ میں کوتاہیاں یاد رکھی جاتی ہیں اور یہ کوتاہی بھی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی کہ اس سفر میں ہر قدم کا آغاز ’’ایاک نعبد و ایاک نستعین‘‘ سے کیا گیا، مگر اس ہٹ دھرمی اور پاگل پن کی انتہا دیکھیے کہ جس ریاست کو انسانی تاریخ میں قیامت تک عزت کی نگاہ سے دیکھا جائے گا، اسی ریاست کی ارادتاً توہین کی گئی۔
جو قومیں جسمانی تھکاوٹ اور محنت کے بغیر کسی بڑی کامیابی کی امید لگائے بیٹھ جاتی ہیں، ان کا شیوہ ہجوم کے پیچھے لگ کر تالیاں بجانا ہی ہوتا ہے۔ آپ نے بار بار سنا ہوگا کہ عمران خان ایک ہیرو ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان ہے، مگر ہمارے ملک میں سیاست کا کھیل اتنا ظالم ہے کہ تاریخ کے کوڑے دان میں بھی کسی کو جگہ نہیں دیتا ۔
ہمارے خان صاحب نے کرپشن کے خلاف اپنی سیاسی تحریک کا آغاز کیا، تو سب نے داد دی اور جس ٹی شرٹ پر چیتے کی تصویر ہمیشہ لوگوں نے دیکھی، اسی چیتے کو یاد کرکے امید لگائے لاکھوں کروڑوں لوگ سوچتے رہے کہ کرپشن بھی ختم ہوگی اور غربت بھی…… لیکن انقلابیوں کے ساتھ ساتھ مخالفین نے بھی دیکھا کہ جب سفر کا اختتام ہوا، تو خود میرِکارواں پر بے شمار الزامات لگے۔ کرپشن ختم نہیں ہوئی بلکہ اور بھی بڑھ گئی۔
ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی مثالیں دینے والا جب خود اقتدار میں آگیا، تو وزیروں اور مشیروں کی ایک پوری فوج بنادی۔ مالی کرپشن اتنی خطرناک نہیں ہوتی، جتنی خطرناک اخلاقی کرپشن ہوتی ہے۔ عدمِ برداشت کا ایک ایسا کلچر سامنے آچکا ہے، جس کو ختم کرنے کے لیے نہ جانے اور کتنے کٹھن مراحل سے گزرنا ہوگا ؟
دوسرا نعرہ انقلابیوں کا یہ تھا کہ نواز اور زرداری نے ہمیشہ مہنگائی مسلط کی ہے، ہم آئیں گے، تو مہنگائی کا خاتمہ کریں گے۔ جو ہم سفر تھے، انھوں نے یہ نہیں پوچھا کہ اس منطق پر آپ کی تحقیق کیا ہے اور پھر اس تحقیق کو عمل میں لانے کے لیے تکنیک کیا ہے، بس تالیاں بجاتے رہے اور ساتھ ساتھ گنگناتے رہے۔
مہنگائی آئی اور شدت اتنی زیادہ تھی کہ عام آدمی رُل گیا۔ ’’کووڈ کرائسز‘‘ نے جب پوری دنیا کو اپنی تحویل میں لیا، تو ہم جیسے ناقص العقل یہ سوچتے رہے کہ آسان ہے اور حل یہ پیش کیا کہ اگر مرکزی اور صوبائی وزرا کے پروٹوکول اور اضافی خرچے ختم کیے جائیں، تو آسانیاں پیدا ہوسکتی ہیں…… لیکن نئی منزلوں کے مسافروں نے ہم کو اور ہم جیسوں کو مسلسل گالیاں دیں ۔
مرکزی کابینہ کا حجم اتنا تھا جتنا نواز اور زرداری کا تھا۔ پروٹوکول وہی تھا جو ماضی میں نواز اور زرداری کا تھا۔ یہ صاف نظر آرہا تھا کہ فرق کہیں پر بھی نہیں، مگر پھر بھی نئی منزلوں کے متلاشی سوال پوچھنے کی بجائے صرف تالیوں پر اکتفا کرتے رہے ۔
مَیں نے جب بھی کسی سینئر انقلابی سے یہ سوال پوچھا کہ بھائی جان فرق کہاں ہے؟ تو جواب ملتا کہ ’’یہ یاد رکھو، نواز شریف اور زرداری چور ہیں۔‘‘
پچھلے دنوں ایک انقلابی سے سوال پوچھا کہ مہنگائی اس دور میں بھی تھی اور آج بھی ہے، تو فرق کہاں ہے؟ اس کا جواب تھا کہ ’’یاد رکھو، پی ڈی ایم میں موجود جماعتوں نے ملک کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے۔‘‘
مَیں سنجیدگی سے اس بات پر غور کررہا ہوں کہ آج سے کچھ سال پہلے اور آج کے پاکستان میں فرق کیا ہے؟ کیا صرف تالیاں بجانے سے قومیں بدل سکتی ہیں؟
سوچ رہا ہوں کہ اس سفر کا آغاز کیوں بغیر ہوم ورک کے کیا گیا؟ روز بس یہی پوچھتا ہوں کہ جس احتساب کا نعرہ لگا کر اس سفر کا آغاز ہوا تھا، کیا تین سال اور آٹھ ماہ میں مخالف کو چھوڑیں…… پارٹی کے اندر کسی کا احتساب ہوا……؟
اگر نہیں، تو مَیں کیسے مان جاؤں کہ اگلی بار آکر یہ ملک کو سدھار کی طرف لے جانے میں کامیاب ہوگا ؟
اس بکھرے ہجوم کا ہم سب حصہ ہیں…… اور تحقیق کی بجائے ہم سب بس تالیاں ہی بجاتے ہیں۔ اس لیے زیادہ سوچ کر ذہن پر بوجھ مت ڈالیے، بلکہ تالیاں بجائیے۔
’’تالیاں……!‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔