تحریر: شہزاد نوید

سطحِ سمندر سے ساڑھے چھے ہزار فٹ بلندی پر واقع سوات کی وادیِ کالام سے تعلق رکھنے والی 16 سالہ کائنات فضل کچھ دنوں سے شدید بخار میں مبتلا تھیں، جس کی وجہ سے اس کا رنگ پیلا پڑگیا تھا اور وہ کافی کم زور دکھائی دے رہی تھیں۔دراصل سہولیات کی عدم موجودگی کے باعث کائنات فضل کو ٹائیفائڈ بخار ہوا تھا جس کے باعث وہ گھر میں لیٹی رہیں۔
حالیہ سیلاب کی وجہ سے کالام سمیت ملاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کو شدید نقصان پہنچا ہے جس میں کائنات کا گھر بھی سیلاب سے متاثر ہوا اور وہ رشتہ داروں کے گھر میں رہایش پذیر ہیں۔ان کے علاج کے اخراجات برداشت کرنا ان کے گھر والوں کیلئے کافی مشکل ہو گیا تھا۔
کائنات فضل کے مطابق سیلاب نے ان کے گھر، سکول اور کالام میں واقع طبی مراکز کو بری طرح متاثر کیا۔ ’’مَیں چاہتی تھی کہ اچھے سے ہسپتال سے اپنا علاج کراؤں لیکن بدقسمتی سے کالام میں واقع بی ایچ او سیلاب میں بہہ گیا تھا اور مینگورہ تک جانے اور علاج کے لییکم سے کم دس ہزار روپے درکار تھے، لیکن انہیں مجبوراً بیماری کو برداشت کرنا پڑا۔
اسسٹنٹ کمشنر بحرین کے آفس سے حاصل کردہ عداد و شمار کے مطابق کالام، بحرین، مدین، مٹلتان، اشو اور گبرال میں حالیہ سیلاب سے 600 گھر مکمل طور پر تباہ ہوئے ہیں جب کہ 500 کو جزوی نقصان پہنچا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ 52 ہوٹل، 31 بی ایچ یوز، 30 رابطہ پل، 24 مقامات پر روڈ، 400 دُکانیں اور 38 بجلی کے پلوں سمیت دیگر اِملاک کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ یہاں پر کروڑوں کا نقصان ہوا ہے ۔
سوات میں حالیہ سیلاب سے 131 کلومیٹر سڑکیں تباہ ہوئیں، جس کی وجہ سے مختلف علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔ مذکورہ علاقوں میں بحرین، مانکیال، اشو، مٹلتان، مدین اور کالام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ تحصیلِ بحرین کے گاؤں اُتڑور کا بھی زمینی رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جہاں 6 ستمبر کو بروقت طبی امداد نہ ملنے کے باعث ایک حاملہ خاتون کا انتقال بھی ہوا تھا۔
اُتروڑ سے تعلق رکھنے والے سوشل ورکر طارق کمال نے بتایا کہ اُس وقت وٹس ایپ میسج اور کال کے ذریعے ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان سے حاملہ خاتون کو ہسپتال منتقل کرنے کی بار بار گزارش کی گئی تھی، لیکن کوئی نوٹس نہیں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب ڈپٹی کمشنر سوات جنید خان نے بتایا کہ پہلے مرحلے میں بحالی کے کاموں اور معاوضوں کی ادائیوں سمیت متاثرین کی بحالی میں مدد کر رہے ہیں۔ ’’سیلاب آنے کے کچھ دن بعد ہم نے پہلے مرحلے میں 9 کلومیٹر روڈ بحال کی، جب کہ اب بحرین روڈ کو بھی مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر سوات نے یہ بھی بتایا کہ ’’کالام روڈ کی بحالی پر انتظامیہ، ایف ڈبلیو او، این ایچ اے اور انجینئرنگ کور مشترکہ طور پر کام کر رہے ہیں۔ بہت جلد روڈ کو پرانی حالت میں بحال کر دیا جائے گا۔ مختلف علاقوں کا رابطہ بحال کرنے کے لیے 20 چیئر لفٹ بحرین میں لگائے گئے ہیں۔‘‘
ڈپٹی کمشنر سوات کے مطابق سیلاب کے دوران میں متاثرین کے لیے سات مقامات پر ریلیف کیمپ لگائے گئے ہیں جہاں پر متاثرین کو ہر ممکن مدد فراہم کی گئی۔
حالیہ سیلاب نے جہاں ایک طرف دیگر اِملاک کو متاثر کیا ہے، تو دوسری طرف اس نے درجنوں طبی مراکز کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
سیلاب کے بعد مختلف علاقوں میں مختلف بیماریاں عام ہوئی ہیں جس کے بعد نجی اور سرکاری اداروں نے بروقت اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ سوات کے مطابق بحرین کے مختلف علاقوں میں 21 ہزار مریضوں کا چیک اَپ کیا گیا اور تاحال یہ سلسلہ جاری ہے ۔
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جہاں مختلف نجی اور سرکاری لوگوں نے متاثرین کی مالی مدد کی، وہاں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ اُو) نے بہت سنجیدگی سے لوگوں کے اہم مسایل پر کام کیا۔
’’ڈبلیو ایچ اُو‘‘ سے حاصل کردہ عداد و شمار کے مطابق انہوں نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر (ڈی ایچ اُو) کو چار فور بائی فور گاڑیاں مہیا کی ہیں، جن میں بالائی علاقوں میں محصور لوگوں کو طبی امداد دی جا رہی ہے۔ گاڑیوں کے لیے ہر ماہ ضلعی انتظامیہ کو چار ہزار لیٹر تیل بھی مہیا کیا جاتا ہے۔
’’ڈی ایچ اُو‘‘ سلیم نے بتایا کہ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن سے ملنے والی گاڑیوں میں روزانہ کی بنیاد پر دو ہزار تک مریضوں کو طبی سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں، اس سے قبل ان بالائی علاقوں تک جانا ناممکن تھا۔
’’ڈبلیو ایچ اُو‘‘ کے مطابق گاڑیوں کے ساتھ ساتھ ٹینٹ، خوراک اور دیگر چیزیں بھی مہیا کی جا رہی ہیں جس سے بالائی علاقوں میں محصور مزید لوگوں کے لیے آسانیاں پیدا ہوں گی۔
نیشنل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق 2010ء کے سیلاب میں نقصانات کا تخمینہ 10 ارب ڈالر لگایا گیا تھا جس میں زرعی اجناس اور اگلے دو سال تک زرعی پیداوار میں کمی کو بھی اگر شامل کر دیا جائے، تو یہ نقصان 12 ارب ڈالر بن جاتا ہے۔
سیلاب متاثرین کی فوری بحالی، امدادی اشیا کی خریداری اور فراہمی اور سیلاب سے تباہ شدہ سڑکوں کی بحالی کے لیے صوبائی اور وفاقی حکومتوں کے درمیان ایک ٹاسک فورس تشکیل دینے کا متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اب دیکھنا ہے کہ سیاحتی وادی بحرین اور مالاکنڈ ڈویژن کے مختلف اضلاع کی بحالی کب تک ممکن بنائی جاتی ہے؟
لوگوں کی بحالی میں ڈبلیو ایچ اُو بھی بطورِ ایک ادارہ بھرپور کردار ادا کررہا ہے ۔ ڈبلیو ایچ اُو کی جانب سے دی جانے والی امداد کے باعث سیلاب متاثرین کو طبی سہولیات ان کی دہلیز پر مہیا ہوئی ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔