یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ سیاست دانوں نے ماضی کے تلخ تجربات سے سبق حاصل کیا اور نہ ہم خود راہِ راست پر آئے۔ ان کی آپس کی لڑائیوں نے ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ ان کی لڑائیاں اور جنگ اقتدار کے حصول یا بچاو کی ہے۔ ساری سیاست عہدوں کی ہے، الیکشن جیتنے کی ہے، اگر اس کے لیے معیشت تباہ ہو، تو ہوتی رہے، ریاست کو ناقابلِ تلافی نقصان ہوتا ہو، تو ہوتا رہے۔ جو غلطیاں سیاست دان ماضی میں کرتے چلے آ رہے ہیں، انھی غلطیوں کو ذاتی انا اور مفادات کے لیے بار بار دہرایا جا رہا ہے۔ آج حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ ملک ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہے۔
فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر کے لیے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/
ذاتی اقتدار کے حصول کا یہ تماشا پاکستان کے وجود میں آنے کے ساتھ شروع ہوا ہے اور مخالفین کو زیر کرنے کے لیے طرح طرح کی قانونی سازی ہوتی رہی ہے۔ ماضی میں مرحوم وزیرِ اعظم خان لیاقت علی خان نے سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے 6 جنوری 1949ء کو پارلیمنٹ سے ’’پروڈا‘‘ کا قانون پاس کرایا، جو 14 اگست 1947ء سے نافذ العمل قرار دیا گیا۔ اس قانون کے تحت عدالت صرف تحقیقات کرتی اور سزا کا حق گورنر جنرل اور صوبائی گورنر کو حاصل ہوتا۔ اس قانون کے تحت سندھ کے وزیرِ اعلا ایوب کھوڑو اور پنجاب کے وزیرِ اعلا افتخار ممدوٹ سمیت کئی سیاست دانوں کو کرپشن کے الزام پر نا اہل کیا گیا۔ ایوب کھوڑو نے جب شریف الدین پیرزادہ کے توسط سے اپنی نااہلی ختم کی، تو خود اُس نے یہ قانون استعمال کرنا شروع کیا۔
اس کالے قانون (پروڈا) کو وزیرِ اعظم محمد علی بوگرہ نے ختم کیا اور وہ گورنر جنرل غلام محمد خان کے اختیارات کو کم کرنے کے لیے قانون تیار کرچکے تھے کہ گورنر جنرل غلام محمد خان نے قانون ساز اسمبلی ہی توڑ دی۔ ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کیا، تو اقتدار کو دوام دینے کے لیے 17 اگست 1959ء کو ’’ اپیڈو‘‘ کا کالا قانون لائے۔ اس قانون کے تحت یوسف ہارون، ممتاز دولتانہ، افتخار ممدوٹ، ایوب کھوڑو، نواب مظفر علی قزلباش، مخدوم زادہ حسن محمود، عبدالحمید دستی، عبدالستار پیرزادہ، پیر الٰہی بخش اور قاضی فضل اللہ کو نا اہل کیا گیا جب کہ حسین سہروردی شہید، نواب مشتاق گورمانی اور کرنل عابد حسین اور دوسرے سیاست دانوں نے عدالت میں الزامات کا سامنا کیا۔
فیلڈ مارشل ایوب خان نے قاضی محمد عیسیٰ (جسٹس قاضی فایز عیسیٰ کے والد)، سابق وزیرِ اعظم ملک فیروز خان نون، خان عبدالقیوم خان، بیگم سلمیٰ تصدق حسین، اکبر بگٹی اور دیگر درجنوں سیاست دانوں کو نا اہل کیا۔ سارے سیاست دان یہ اعتراف کرتے ہیں کہ اس ملک کا حقیقی حکم ران ’’اسٹیبلشمنٹ‘‘ ہے۔ سارے سیاسی قایدین یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ اُنھیں مکمل اقتدار نہیں ملا اور اُن کی حکومتیں بے اختیار تھیں۔ سب یہ بھی مانتے ہیں کہ قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ پہلے آزاد تھا، نہ اب ہے۔ احتساب کے نام پر سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
ہر کوئی یہی کَہ رہا ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کبھی شفاف نہیں ہوئے اور اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر کوئی جماعت انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کرسکتی، نہ اقتدار ہی میں آ سکتی ہے۔ یہ پُتلی تماشا پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور آج بھی جاری و ساری ہے۔
قومی الیکشن 2018ء میں یہ تماشا دیکھنے کو ملا کہ عمران خان کو بعض اتحادیوں کے ذریعے اقتدار میں لایا گیا اور انھی اتحادیوں کے ہاتھوں اقتدار سے محروم کرکے پی ڈی ایم کو اقتدار دلائی گئی۔
حیرانی کی بات یہ ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف اب بھی اسٹیبلشمنٹ سے یہ توقع رکھتی ہے کہ اسے اپنے منصوبے میں پُتلی کے طور پر شامل کیا جائے۔ تحریکِ انصاف جب اقتدار میں تھی، تو سیاسی مخالفین کو دبائے رکھنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتی رہی اور اب جب کہ پی ڈی ایم اقتدار میں آچکی ہے، تو پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے تحریکِ انصاف پر زمین تنگ کردی ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں کے خلاف مقدمات پر مقدمات دایر کیے جا رہے ہیں۔ بیانات کی حد تک تو دونوں سیاسی فریق عوام اور ریاست کے غم میں سرگرداں ہیں، مگر ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے کو تیار نہیں۔ اب اُن سے یہ کون پوچھے کہ ایسے میں ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام کیسے آسکتا ہے؟
ریاستِ پاکستان کو چلانے، بگاڑنے والوں، سیاسی قایدین، عوامی نمایندگان، آئینی انتظامی سربراہوں، ایوان ہائے عدل و احتساب کے ذمے داروں، بزنس ٹائیکونز، جاگیرداروں، ملکی سرحدوں کے محافظوں، ملکی ذرایع ابلاغِ عامہ کے مالکانوں، صحافیوں، تحفظِ انسانی حقوق کے علم برداروں، دانش وروں، پیشہ وروں، فنی شعبوں کے ماہرینوں، وزیروں اور مشیروں کو شاید یہ علم تک نہیں کہ پاکستان کس لیے، کیوں اور کیسے بنا تھا…… اور یہ کیسے چل رہا ہے؟ عالمی ناخداؤں کی مزاحمت کے باوجود پاکستان دنیا کی ایٹمی طاقت کیسے بنا…… لیکن سیاست دانوں نے وہ دھما چوکڑی مچائی ہے کہ ملکی معیشت زمیں بوس ہوگئی ہے اور لگ یہی رہا ہے کہ آج نہیں تو کل (اللہ نہ کرے) اس ملک کا دِوالہ نکل رہا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔