ایک عرصے سے صرف خبرنامہ سنتا چلا آ رہا تھا، اب وہ بھی شاذ و نادر سنتا ہوں۔ ٹاک شوز کب کا چھوڑ چکا ہوں۔ اخبارات سے مگر جان نہیں چھوٹتی اور سوشل میڈیا گویا کہ عادت بن چکا ہے۔ اب اخبارات میں بھی خبروں پر سرسری نظر ہی ڈالتا ہوں۔ البتہ اداریہ اور کالم بغور پڑھتا ہوں۔
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
سوشل میڈیا پر بھی سنجیدہ ملکی و غیر ملکی مستند خبروں سے باخبر رہنے کی کوشش کرتا ہوں۔ چاہے وہ خبرنامہ کی شکل میں ہوں، اداریہ، کالم یا پھر سوشل میڈیا پر کچھ مواد ہو۔ بس ایک ہیجانی کیفیت سی ہے۔ اور کیا واقعی ایسا ہی ہے یا صرف مجھے ایسا لگتا ہے؟
مَیں نے اپنے کسی کالم میں ذکر کیا تھا کہ مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ہر چوک اور چوراہے پر بھکاری دستِ سوال دراز کر رہے ہیں۔ ہمارے چھوٹے سے گاؤں میں ایک چھوٹا سا بازار ہے، وہاں بھی زندگی میں پہلی بار ایک بچے کو بھیک مانگتے دیکھا۔ اب جب یہ سب اپنی گناہ گار آنکھوں سے دیکھتا ہوں، تو ٹی وی، اخبار اور سوشل میڈیائی صحافیوں کی اکثریت بے گناہ نظر آتی ہے۔ کیوں کہ حالات جب ایسے ہوں، تو کون سیاہ بخت ہوگا جو لکھے گا کہ دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں، یا وہ کون شیر دِل ہوگا جو ٹی وی پر آکر کہے گا کہ ملک پُرامن، ریاست مضبوط اور عوام خوش حال ہیں۔
حکومتی ترجمانوں کی بات الگ ہے۔ وہ کوے کو سفید اور شیر کو بکری بھی ثابت کرسکتے ہیں۔ زمینی حقایق اور عوامی حالات مگر کچھ اور ہیں۔ اب ایک نیا سال شروع ہوچکا ہے۔ ملکی معاشی، سیاسی، داخلی، خارجی اور سلامتی کے معاملات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ یوں کہا جاسکتا ہے کہ نئے سال میں ہم نہیں بدلے، فقط تاریخ بدلی ہے اور وجہ یہی ہے کہ ہم تاریخ پڑھتے ہیں، نہ تاریخ سے سیکھتے ہی ہیں۔ جنھوں نے تاریخ سے سیکھا، انھوں نے منزل نہ سہی نشانِ منزل ضرور پایا۔
کچھ عرصہ قبل سوات میں پھر ایک ’’ڈراما‘‘ شروع ہونے والا تھا۔ چوں کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن کے لوگ پہلے اس ڈرامے کو بھگت چکے ہیں، اس لیے تاریخ کا سبق لوگوں کو یاد تھا اور تاریخ سے سیکھا بھی کہ
تقدیر کے قاضی کا یہ فتوا ہے ازل سے
ہے جرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات
پھر ملاکنڈ ڈویژن کے لوگوں نے جرمِ ضعیفی سے انکار کرکے ’’قومی احتجاج‘‘ کیا۔ نتیجتاً ’’کھیلنے والوں‘‘ نے کھیل کے لیے میدان ہی تبدیل کردیا۔ اب اشارے ایسے مل رہے ہیں کہ جنوبی اضلاع میں میدان سجایا جا رہا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جنھوں نے تاریخ سے سیکھا ہے، بہت کچھ پایا ہے۔ اکثریت مگر نوشتۂ دیوار پڑھنے سے قاصر رہتی ہے۔
پھر تاریخ خود کو دہراتی بھی ہے اور غفلت میں مبتلا لوگ، چاہے وہ کوئی بھی ہوں، تاریخ بن جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ تاریخ میں صرف فاتحین کا ذکر یاد رہتا ہے۔ اب بحیثیتِ مجموعی، قومی سطح پر اگر سوچا جائے، تو ہمارا کون سا عمل فاتحین والا ہے؟ جن ہمہ جہت مسایل میں قوم گِھر چکی ہے، اسی تناظر میں تاریخ کا ہمارے ساتھ کوئی خصوصی برتاو ہوگا……؟ مسایل ہر جگہ ہوتے ہیں۔ مال دار اور غریب تمام ملک میں ہوتے ہیں، بس نوعیت اور مقدار میں فرق ہوتا ہے۔ مگر تہذیب یافتہ ممالک میں قیادت موجود ہوتی ہے۔ حکم ران، طاقت ور مگر عوام کو جواب دہ ہوتے ہیں۔ اس لیے عوام کو لگتا ہے کہ قیادت مخلص ہے، تو مسایل حل ہوں گے یا بڑھیں گے نہیں۔
ہمارے ہاں مگر یہ معلوم نہیں ہوتا کہ حقیقی حکم ران کون ہے اور طاقت کی چھڑی کس کے پاس ہے؟ اس کشمکش میں ملک و قوم کا ستیا ناس ہوگیا۔ تجربہ کاروں کے نام پر بارہ پارٹیوں کا اکٹھ بنایا گیا۔ ڈالر کیا ’’سستا‘‘ ہونا تھا، الٹا آٹا، تیل، چائے کی پتی اور خوردنی تیل عوامی قوت خرید سے باہر ہوگیا۔ مہنگائی کیا کم تھی کہ دہشت گردی کے سائے روز بروز گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ ’’آڈیو، ویڈیو لیکس‘‘ سے مزے لے رہے ہیں۔
دل میرا بھی کرتا ہے کہ اس سردی میں ہیٹر ہو، کتابوں کا ڈھیر میسر ہو، اچھے دوست ہوں اور سردی زیادہ ہو اور حلوے کے ساتھ کڑک چائے ہو۔ پھر کوئی ٹینشن نہیں، ہر سو امن اور خوش حالی ہوگی۔ الحمد اللہ ذاتی طور پر یہ سب انعاماتِ خداوندی دست یاب بھی ہیں، مگر ڈرتا ہوں اُس وقت سے جب روزِ قیامت پوچھا جائے گا کہ تم کو لکھنے کی قوت عطا کی گئی تھی تو کیا سچ لکھا تھا، قوم کو سچ سے آگاہ کیا تھا؟
قارئین! اسی ڈر کے مارے آپ کو سچ بتانے کی کوشش رہا ہوں، زمینی حقایق سامنے رکھ رہا ہوں۔ کچھ کرسکتے ہیں، تو کرلیں۔ کچھ نیکی یا اچھائی…… کہ وقت بھی تیزی سے گزر رہا ہے۔ دیکھ لیں ایک سال اور گزر گیا۔ اب ہم نئے سال میں ہیں، چلیے اس بات پر تو تھوڑا سا مسکرالیں!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔