بعض اوقات لمحے گزرتے ہی نہیں، مگر سال 2022ء کیسے پر لگا کر اُڑ گیا، خبر ہی نہ ہوئی۔ ہماری زندگی کے ایک قیمتی سال کے 12 ماہ، 51 ہفتے، 365 دن، 8760 گھنٹے خاموشی سے گزر گئے۔ وقت کو قید نہیں کیا جاسکتا، اچھا ہو یا برا…… آخر گزر ہی جاتا ہے۔
رانا اعجاز حسین چوہان کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/rana/
سال 2022 ء میں بھی اہلِ پاکستان کے لیے پریشانیوں اور آزمایشوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہا۔ سیلاب کی صورت قدرتی و زمینی آفات، دہشت گردی، بد امنی، لاقانونیت، کرپشن، حد درجہ مہنگائی، بے روزگاری اور بحران چاہے وہ بجلی کا ہو یا گیس کا…… ہمیں ان کا سامنا رہا۔
پاکستان کے لیے ہمیشہ کی طرح یہ سال بھی بہتری کا نہیں رہا۔ ہر شعبہ تنزلی کا شکار رہا۔ خواہ ملک کی معیشت ہو، سیاست ہو، جمہوریت یا صحت اور تعلیم کہیں کوئی قابل ذکر بہتری نہیں آئی۔ ڈھلتے سورج کی سرخی کوئی پیغام امید نہ دے سکی، اور اب جب کہ قدم سال 2023ء کی دہلیز پار کررہے ہیں۔ دل یہ چاہتا ہے کہ مایوسیوں کو دفن کر دیا جائے۔ خدا کرے کہ نیا سال میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کی زندگیوں میں روشنیاں بکھیر دے۔ اس پاک دھرتی پہ امن و محبت کا سورج یوں اپنی شعاعیں پھیلائے کہ ہر گھر روشن اور ہر دل آباد ہو جائے۔ خدا کرے کہ یہ نیا سال ہمیں راس آجائے۔ ہم نے جیون کی بوند بوند سے خوشیاں کشید کرکے جینا ہے۔ کیوں کہ زندگی تو ایک ہی بار ملتی ہے، پھر اس کا کوئی ایک پل، ایک لمحہ بھی بے جہت اور بے کار کیوں ہو۔ فضول بکھیڑو، لایعنی جھمیلوں، بے مطلب باتوں، بے تکی الجھنوں، بے وجہ رنجشوں یا بے سبب اداسیوں میں گھر کر اِسے بے توقیر و بے حرمت کیوں کیا جائے؟ یہ سو فی صد ہماری اکلوتی زندگی ہے، تو پھر کوئی لمحہ بے زار، شکوہ کناں، بے فیض، بے بھروسا، بے اعتباری کی نذر کیوں ہو! بلاشبہ خوشی کا تعلق محسوس کرنے سے ہے۔ بعض اوقات صبح صبح نرم نرم ہوا کا ایک جھونکا، طلوع ہوتے سورج کی پہلی پہلی کرنیں، درختوں پر چہچہاتی چڑیوں کی اٹھکیلیاں، اللہ تعالا کی حمد و ثنا بیان کرتے چرند پرند، اذان دیتے مرغے، سڑک سے گزرتی گاڑی میں بجتے کسی صوفی کلام کے بول، کسی پرانے زمانے کے گانے کی دھن، اسکول کے لیے منھ بسورتے تیار ہونے والے معصوم بچے کا کوئی بے ساختہ جملہ، ایک دم پرفیکٹ بن جانے والی چائے یا کافی کا پہلا گھونٹ، اخبار میں اچانک نظر سے گزرنے والی کوئی اچھی خبر، مارننگ شو میں اپنی پسندیدہ میزبان کی میزبانی میں پسندیدہ شخصیت کی ایک جھلک، یادوں کے دریچوں سے یک دم لپکنے والی کوئی میٹھی یاد، کسی ادیب کا کوئی جملہ، اقتباس، دل نشین قول یا پسندیدہ شاعر کا شعر بھی دن بھر کی خوشی و شادمانی، سیرابی و شادابی کا سبب بن جاتا ہے۔ بات تو صرف محسوس کرنے کی ہے۔
یوں تو زندگی برف کی مانند پگھل رہی ہے اور دریاؤں کی طرح تیزی سے گزر کر موت کے سمندر میں گر رہی ہے اور ساحل کی ریت کی طرح مٹھی سے پھسل رہی ہے۔ اس سال میں ہم نے اپنے بہت سے پیاروں کو کھودیا اور دنیا دارِ فانی میں ہمیں بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔ درحقیقت زندگی میں میسر یہ منٹ ، یہ گھنٹے، یہ سال مہلت کے ہیں کہ ہم حاصل وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے قیمتی بناتے ہیں یا محض غفلت و بے پروائی میں گنوا دیتے ہیں۔ وقت کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالا نے قرآن مجید کی بہت سی آیات میں اس کی قسمیں کھائی ہیں۔ سورۃ العصر کی آیت نمبر2 میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’قسم ہے زمانے کی، انسان بڑے خسارے میں ہے۔‘‘
دوسری جگہ سورۃ الضحیٰ کی آیت نمبر3 میں ہے:’’ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی جب کہ وہ قرار پکڑے۔‘‘
اسی طرح سورۃ الفجر میں ارشادِ باری تعالا ہے کہ ’’ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔‘‘
بحیثیتِ مسلمان ہمیں حاصل وقت کو اپنی اصلاح کرنے اور دوسروں کی اصلاح کاذریعہ بننے اور نیکیاں کمانے میں صرف کرنا چاہیے۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیاوی زندگی، آخرت کی کھیتی کے مانند ہے۔ ہم آج جو بوئیں گے، آخرت میں وہی کاٹیں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں حاصل اس وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے خیر اور بھلائی کے بیج بونے میں صرف کریں گے، تو کل روزِ قیامت ہمیں فلاح اور بھلائی کا ثمر ملے گا…… جب کہ اس کے برعکس اگر زندگی میں وقت کی قدر نہ کی جائے، اور اسے غفلت، سستی اور کاہلی میں گزارتے ہوئے برائی اور شر، فتنہ اور فساد کی نذر کر دیا جائے، تو ہمارے لیے دونوں جہانوں میں خسارہ ہے۔
آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بے شمار کارآمد چیزیں دی ہیں، وہیں وقت کے ضیاع کے بھی ایسے نوع بہ نوع آلات فراہم کیے ہیں کہ امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ان کے غلط استعمال میں اپنا قیمتی وقت اس طرح ضایع کر رہا ہے جس طرح تیز دھوپ میں برف کی ڈھلی پگھل کر ضایع ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا صحیح استعمال کیا جائے، اور ہر لمحہ سے بھر پور استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ وقت کا زیادہ ترحصہ عبادات و ذکرِ الٰہی میں مشغول رہ کر گزارا جائے، فارغ اوقات کو چغلی، کینہ وبغض جیسی خرافات کی بجائے مثبت سوچ، تلاوتِ قرآنِ کریم، تسبیحات، ذکر و اذکار، درود شریف، استغفار اور اچھی کتب کے مطالعہ میں صرف کیا جائے، تاکہ نفس کی اصلاح ہو اور دونوں جہانوں کی خوشیاں، کامیابی اور خیر و برکت حاصل ہوسکے ۔
نیا عیسوی سال 2023 ء مبارک ہو!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔