سابق وزیرِ اعظم محترم عمران خان نے ایک ٹیلی وِژن انٹرویو میں کہا ہے کہ ہمارے ملک کی اکثریت 28 سال یا اس سے کم عمر نوجوان آبادی پر مشتمل ہے۔ اس وجہ سے نیشنل میڈیا اور سوشل میڈیا پر کسی بھی قسم کے گند کو پھیلانے سے گریز کیا جائے۔ کیوں کہ اس سے نوجوان نسل کی سوچ اور اخلاق پر برا اثر پڑتا ہے۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر:
https://lafzuna.com/author/fayaz/
اس کے ساتھ انھوں نے کسی بھی قسم کی ذاتی کردار کُشی اور عیب گوئی کو قرآن کی روشنی میں بالکل غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب ایک لحاظ سے قرآنی حکم کے خلاف ہے۔
اب خان صاحب کے الفاظ کچھ بھی ہوں، لیکن اس کا مفہوم یہی بنتا جو اوپر بیان ہوا۔ یہ گفت گو عمران خان صاحب نے گذشتہ چند دنوں میں اُن سے وابستہ کچھ آڈیوز ٹیپ کے حوالے سے کی ہے کہ جن ٹیپس میں عمران خان ملک کی کچھ معروف خواتین سیاست دانوں سے ٹیلی فون کے ذریعے ہم کلام تھے۔ یہ فون کالیں انتہائی غیر اخلاقی اور فحش تھیں۔
ویسے تو یہ بات اصولی طور پر صحیح ہے کہ عمومی اخلاقیات کے تحت کسی بھی شخص کی ذاتی زندگی اور نجی معاملات میں مداخلت اور وہ بھی کسی حکومت یا سرکاری محکمہ کی جانب سے 100 فی صد غلط ہے۔ عمران خان کا اس کو خلافِ دین قرار دینا بالکل درست بات ہے۔ کیوں کہ عمومی اخلاق کے علاوہ بھی ہمارے دین نے اس حرکت سے منع کیا ہے کہ آپ کسی کی نجی زندگی کی ٹوہ لگاتے رہیں اور کسی بھی شخص کے ذاتی کردار میں موجود خامیوں کو جاننے کا نہ صرف تجسس پیدا کریں، بلکہ اس کو دوسرے لوگوں میں پھیلاتے پھریں۔ اسلام نے بے شک نجی زندگی کو بہت تحفظ دیا ہے اور نہ صرف کسی کی ذاتی زندگی میں جھانکنے سے منع کیا ہے بلکہ یہ بھی نصیحت کی ہے کہ اگر اتفاقاً یا غیر ارادتاً آپ کو کسی دوسرے شخص کی کسی کجی کم زوری یا گناہ سے آگاہی ہوگئی اور وہ گناہ اس شخص کی ذات تک محدود ہے، تو کوشش کریں کہ اس پر پردہ ڈالیں۔ تبھی کہا گیا کہ آپ مخلوق کے گناہوں پر پردہ ڈالیں، خدا آپ کے گناہوں پر پردہ ڈالے گا۔
بہرحال یہ تو ایک عمومی بات ہے، جس پر ہم سب لوگوں کو عمل کرنا چاہیے، لیکن جس تناظر میں عمران خان صاحب نے یہ بات کی ہے، اس کے کچھ مزید پہلو بھی ہیں۔ مثال کے طور پر یہ الزام کسی عام شہری سے وابستہ نہیں…… بلکہ اس میں اُس شخص کی ذات ملوث ہے کہ جو نہ صرف اس ملک کا وزیرِاعظم رہا ہے بلکہ آج بھی ایک مقبول ترین سیاست دان ہے…… اور ممکنہ طور پر آیندہ ایک سال کے بعد یہ دوبارہ وزیرِ اعظم بن سکتا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ جو اخلاقی معیار ایک عام شہری کے لیے ہے، کیا وہی معیار ایک اسلامی ریاست کے سربراہ کے لیے ممکن ہوسکتا ہے؟ ہمارے خیال میں اسلام بالکل اس کی اجازت نہیں دیتا…… بلکہ اسلام کیا آج مغرب کی تہذیب دیکھ لیں، جنسی معاملات میں تو مغرب نے مکمل طور پر اپنی اقدار کو تبدیل کر دیا ہے…… اور وہاں جنسی آزادی اپنی انتہا پر ہے۔ کسی باپ کو بھی اجازت نہیں کہ وہ اپنی بیٹی کو منع کرسکے…… بلکہ اکثر گھرانوں میں جوان اولاد اپنی گرل فرینڈ یا بوائے فرینڈ کو بالکل نارمل انداز میں گھر لے آتی ہے اور اس کا تعارف بھی بہت نارمل انداز سے کرواتی ہے۔ وہاں بے شمار مائیں ہیں کہ جن کو اپنے بچوں کے باپ کا بھی پتا نہیں اور ایسے ناجایز بچوں اور ان کی ماؤں کو معاشرہ تسلیم کرتا ہے، لیکن وہاں بھی اگر ان کا صدر یا وزیرِ اعظم کسی معمولی سی بھی اخلاقی کم زوری کا شکار ہو، تو وہ اس کو قطعی برداشت نہیں کرتے۔ مغرب کے کتنے ہی ملکوں میں ان کے سربراہان کو اس پاداش میں نہ صرف سرِ عام معافیاں مانگنا پڑھیں بلکہ بعض کو کرسیوں اور کچھ کو ہمیشہ کے لیے سیاست سے ہاتھ دھونا پڑا۔ سو اس حوالے سے دیکھا جائے، تو جس نے یہ آڈیو لیک کی، اس کا جرم تھا یا نہیں…… اس بات سے قطعِ نظر عمران خان کو اس پر ایک ٹھوس اور واضح موقف دینا چاہیے۔ یا تو ان کو کھلے عام اس گناہ کا اعتراف کرکے معافی مانگنی چاہیے اور یا پھر واضح تردید کرنی چاہیے۔ تردید کی صورت میں ان آڈیوز کا فرازنک کروانے کا مطالبہ کرنا چاہیے…… لیکن اب تک کی پیش رفت کے نتیجے میں یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کہ یہ آڈیو نہ صرف صحیح ہیں، بلکہ باعثِ شرم بھی ہیں۔
ایک 70 سالہ شخص، جو ملک کا سابقہ وزیرِ اعظم ہے…… ایک بہت بڑی سیاسی جماعت کا سربراہ ہے…… ملک کا مقبول عوامی لیڈر ہے…… وہ اس مکروہ حرکت میں ملوث ہے……! بالکل ایک ٹین ایجر لڑکے کی طرح۔ سو محض یہ کَہ کر کہ ہمارے دین نے ان معاملات میں پردہ پوشی کا حکم دیا ہے، اس وجہ سے عوام اور ادارے خاموشی اختیار کریں…… یہ تو ممکن نہیں۔
اب اس کا ایک اور پہلو بھی ہے…… اور وہ یہ کہ خان صاحب نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ مذہب کو بطورِ سیاسی ہتھیار بہت بے رحمی سے استعمال کیا ہے۔اتنا کہ شاید اب تک کسی مذہبی اور دینی جماعت نے بھی نہیں کیا۔ ریاستِ مدینہ کا بار بار ذکر، سیرتِ رسولؐ کا بیان اور اہلِ بیت و اصحابِ رسول کا کردار، خلفائے راشدین کا طرزِ حکومت…… اب ان مقدس ہستیوں کا پرچار کرنے والا شخص جب اس اڈھیر عمر میں اس طرح کا رویہ اختیار کرے، تو اس سے اس کی واضح منافقت ظاہر ہوتی ہے…… اور اب خان صاحب خود فیصلہ کرلیں کہ منافق بارے اسلام کے احکامات کیا ہیں؟
اس کے علاوہ ایک اور بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر بالفرض یہ بات تسلیم کر بھی لی جائے کہ خان صاحب بشری کم زوری کا شکار ہوسکتے ہیں، لیکن اپنی نیت میں بہت سچے ہیں…… تو پھر یہ سوال اٹھتا ہے کہ خان صاحب خود اس پر عمل کیوں نہیں کرتے؟ یعنی اسلام کے پردہ ڈالنے کے حکم کی خلاف ورزی خود کس حیثیت میں فرماتے ہیں؟ وہ خود ایک سانس میں تین مرتبہ اپنے سیاسی مخالفین کو گالیاں دیتے ہیں، دنیا جہاں کے الزامات لگاتے ہیں۔ چور، ڈاکو، سمگلر، بے شرم، بے غیرت اور مجرم کے الفاظ ان کا تکیہ کلام بن چکے ہیں۔ عمومی طور پر سیاست دان چند غیر اخلاقی الفاظ جلسۂ عام اور خاص کر انتخابی جلسوں میں ادا کر دیتے ہیں…… لیکن پاکستان کے عوام بلکہ دنیا نے دیکھا کہ خان صاحب وزیرِاعظم بننے کے بعد بھی تواتر سے مخالفین کی کردار کشی کرنے کے ماہر رہے ہیں۔ جلسۂ عام تو دور، خان صاحب اسمبلی فلور ہو یابیرونِ ملک پاکستانیوں، طلبہ، فن کاروں حتی کہ علمائے دین کی کانفرنسوں میں بھی جب خطاب کرتے تھے، تو’’چورڈاکو‘‘ کا منترہ پڑھتے رہتے تھے۔ مخالفین کا نام بگاڑنا تو عام سی بات…… ان کو مذاق بنانا اپنا حق سمجھتے رہے، بلکہ اب تک خان صاحب کا رویہ وہی ہے۔
بلاول کا جنس کی بنیاد پر مذاق عمران خان نے اُڑایا۔ مریم کا ’’نانی‘‘ جیسے مقدس رشتے کے حوالے سے تمسخر عمران نے اُڑایا۔ مولانا فضل الرحمان کو’’ڈیزل‘‘، اسفند یار ولی کو ’’ایزی لوڈ‘‘، آصف ذرداری کو ’’قاتل‘‘، پرویز الٰہی کو ’’ڈاکو‘‘، حمزہ شریف کو ’’ککڑی‘‘ اور شریف برادران کے لیے خدا معاف کرے آپ نے ’’بے غیرت‘‘، ’’بے شرم‘‘، ’’بدکردار‘‘ اور ’’غدار‘‘ تک کے الفاظ استعمال کیے، تو ذرا علما، خاص کر مولانا طارق جمیل سے اس بارے معلومات لے لیں کہ اسلام کا اس بارے کیا حکم ہے؟
خاں صاحب! آپ دوسروں پر کھل کر جھوٹے سچے الزامات لگائیں، ان کی کردار کُشی کریں، مگر آپ کے لیے یہ مسئلہ نہیں…… لیکن جب آپ کی غیر اخلاقی آڈیو ویڈیو لیک ہوں، تو آپ مذہب کا کارڈ بلکہ بقولِ قاسم سوری ’’اسلامی ٹچ‘‘ دیں۔
نہیں سر……! ایسا ممکن نہیں۔ آپ کے سیاسی مخالفین تو رہے ایک طرف، آپ تو اداروں کے سربران کی ہتک کرنا اپنا بنیادی حق سمجھتے ہیں۔ آپ نے کچھ صحافیوں اور میڈیا مالکان کو صحافتی طوایف کہا۔ آپ نے عدلیہ کے معزز ججوں تک کو دھمکیاں دیں۔ آپ نے فوج کے سربراہ کو میر جعفر و میر صادق کہا۔ آپ نے الیکشن کمیشن کے سربراہ کو کسی کا پالتو کہا، آپ نے نیب کے سربراہ کو ذاتی ملازم کہا۔ تو یہ بتائیں کہ آپ کی یہ دشنام طرازی کس دینی اقدار یا اخلاقی رویے کی عکاسی کرتی ہے؟
خاں صاحب! ہم بہت دکھ اور تکلیف سے یہ لکھنے پر مجبور ہیں کہ آپ اپنی سیاسی کامیابی کے لیے دین جیسے مقدس ترین نظریہ کو بھی بطورِ ہتھیار استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے۔
بہرحال ہم آخر میں اپنی عدلیہ سے یہ اپیل ضرور کرتے ہیں کہ وہ اس طرح کی بے حیا اور اخلاق باختہ آڈیو اور ویڈیو بارے لازمی ’’سیو موٹو‘‘ لیں۔ یہ آڈیو ویڈیو کسی عام آدمی سے وابستہ نہیں، بلکہ اس کا مرکزی کردار ایک نہایت ہی اہم ترین شخص ہے کہ جو براہِ راست ملک کے بنیادی مفادات اور پالیسیوں سے وابستہ ہے۔ سو اس پر ’’سیو موٹو‘‘‘ لے کر ان تمام آڈیو لیکس کا فرانزک کروایا جائے۔ اگر یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان میں سچائی ہے، تو جناب عمران خان پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلا کر ان کو عبرت کی مثال بنا دیا جائے…… اور اگر ثابت ہوتا ہے کہ یہ سب ’’ڈیپ فیک‘‘ کی کارستانی ہے، تو پھر بنانے والوں اور سوشل میڈیا پر لیک کرنے والوں کو فوراً گرفتار کرکے عوام کے سامنے لایا جائے۔ کیوں کہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر تو اس پر پردہ پڑا رہتا، تو خیر تھی…… لیکن اب چوں کہ بات کھل کر آگئی ہے، تو اب اس پر تحقیق لازم ہوگئی ہے۔
اب اگر اس موضوع کو چھوڑ دیا گیا، تو ہم نہ صرف بحیثیتِ قوم خدا کی عدالت میں مجرم ہوں گے، بلکہ اس کے اثرات ہماری سیاست پر بھی بہت منفی ہوں گے اور ہماری نوجوان نسل پر بھی یہ بہت غلط اثر ڈال سکتی ہے۔ ہمارے نوجوانوں کے اخلاقی رویوں پر یہ عمل شدید کاری ضرب کا باعث ہوسکتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ بے شک اس بات کا بھی فیصلہ کیا جائے کہ کیا اس طرح کی کسی بھی نجی شخصیت کی ٹیپنگ کیا ایک قانونی عمل ہے؟
کیا ہماری مجموعی اخلاقی اقدار اور مذہبی احکام کی روشنی میں یہ عمل جایز ہے؟
اس قبیح عمل (کسی کی کال ٹیپ کرنا) پر بھی ایک جامع اور تفصیلی حکم جاری کیا جائے، تاکہ مستقبل میں ہمیشہ کے لیے کم از کم یہ مکروہ حرکت تو نہ ہو۔
رہے نام اللہ کا!
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔