سوات، محکمۂ فارسٹ میں اہل کاروں کی بھرتی میں بڑے پیمانے پر بے قاعدگی کا انکشاف، 300 اہل کاروں کی بھرتی میں 181 سے زاید اہل کار صرف اَپر سوات ڈویژن کی بھرتی کیے گئے ہیں۔ لوئر سوات ڈویژن کے 64 جب کہ کالام ڈویژن کے صرف 28 اہل کار بھرتی کیے گئے ہیں۔ اہم دستاویزات سامنے آگئیں، جن میں میرٹ کو نظر انداز کیا گیا ہے۔
محکمۂ فارسٹ سوات کی دستاویزات کے مطابق سوات ضلع بھر میں محکمۂ فارسٹ میں تین سو اہل کاروں کو بھرتی کیا گیا ہے جس کے لیے سوات کو تین ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ بھرتیوں میں 181 سے زاید اہل کار اَپر سوات، 64 لوئر سوات اور کالام کے صرف 28 اہل کاروں کو بھرتی کیا گیا ہے۔
مذکورہ اہل کاروں کی بھرتی میں وزیرِ اعلا محمود خان کے علاقے اَپر سوات کو خصوصی طور پر نوازا گیا ہے۔ تمام بھرتیاں ڈسٹرکٹ فارسٹ آفیسر سوات شاہ حسین کے دستخط سے جاری ہوئے ہیں۔
باوثوق ذرائع کے مطابق بھرتیوں میں بے روزگاری کے رجسٹریشن کرنے والے ادارے کو بھی نظر انداز کیا گیا ہے۔ بعض اُمیدواروں کے ساتھ بے روزگاری کا سرٹیفکیٹ ہونے کے باوجود بھرتی میں شامل نہیں کیا گیا۔ کچھ اُمیدواروں نے عدالت میں کیس بھی دایر کیے ہیں۔
ڈی ایف اُو سوات شاہ حسین بھی بیک وقت دو اہم عہدوں پر براجمان ہیں۔ محکمۂ فارسٹ کی شاہ حسین پر مہربانیاں بھی ملاحظہ ہوں۔ بیک وقت ڈی ایف او سوات کے ساتھ ساتھ فارسٹ پیٹرول سکواڈ کا ایڈیشنل چارج بھی ان کے ساتھ موجود ہے۔ پیٹرول سکواڈ کے اختیارات ضلع سوات، بونیر، ملاکنڈ اور شانگلہ تک ہیں۔ ڈی ایف اُو سوات نے میڈیا کے نمایندوں سے گفت گو کرتے ہوئے کہا ہے کہ تین ڈویژن سے بھرتیوں کے لیے محکمے نے نام مانگے تھے، جس کی بنیاد پر بھرتیاں کی گئی ہیں۔ ’’جب مَیں نے چارج سنبھالا، تو بھرتیوں کے لیے تمام کاغذی کارروائی مکمل کی گئی تھی۔ مَیں نے صرف دستخط کیے ہیں۔‘‘
سول سوسائٹی نے میرٹ کے خلاف بھرتیوں پر اعلا سطح کی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔