پاکستان میں 2014ء سے سیاستی عدمِ استحکام کا سلسلہ جاری ہے۔ تحریکِ انصاف اور طاہر القادری کا مشترکہ دھرنا ملکی سیاسی عدمِ استحکام کا سبب بنا، تو کبھی پانامہ لیکس کی وجہ سے پاکستان میں ایک عرصے تک ہنگامے جاری رہے۔ پانامہ لیکس کے ہنگاموں میں سابق وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو وزارتِ عظمیٰ سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس طرح تحریکِ انصاف نے الیکشن میں دھاندلی کے نام پر ملک کو سیاسی عدمِ استحکام کی طرف دھکیلا۔ قومی الیکشن 2018ء کے انتخابات کے بعد جب تحریکِ انصاف اقتدار میں آئی، تو جس طرح تحریکِ انصاف نے اپنے پیش رو حکومتوں کو سکون کا سانس لینے نہیں دیا، بالکل اسی طرح اپوزیشن نے تحریکِ انصاف کو اقتدار میں آتے ہی سکون کا سانس لینے نہیں دیا۔ حزبِ اختلاف کی تمام سیاسی پارٹیاں الیکشن میں دھاندلی کا شور مچاتی رہیں، جب کہ پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) ملک بھر میں تحریکِ انصاف حکومت کے خلاف احتجاجی جلسے جلوسوں میں لگی رہیں، تاوقت یہ کہ تحریکِ انصاف اور چیئرمین تحریکِ انصاف عمران خان کو اقتدار سے محروم کر دیا گیا۔
اب تحریکِ انصاف نے پی ڈی ایم حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے۔ عمران نے الزام لگایا ہے کہ بیرونی سازش اور طاقت کے بل بوتے پر پی ڈی ایم نے انھیں اقتدار سے ہٹایا۔ اب تحریکِ انصاف نے موجودہ حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ تحریکِ انصاف والے احتجاجی مظاہروں میں الزام لگائے جا رہے ہیں کہ اُن کی حکومت امریکی سازش اور سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کے ایما پر ختم کی گئی۔ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں اور چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ ملک میں سیاسی اور معاشی استحکام اُس وقت تک نہیں آسکتا، جب تک نئے انتخابات نہ کرائے جائیں…… اور تحریکِ انصاف ہر مظاہرے میں حکومت سے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی نظر آرہی ہے۔
دوسری طرف حکومت کا کہنا ہے کہ انتخابات مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔ وقت سے پہلے انتخابات کرانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تحریکِ انصاف اور چیئرمین عمران خان موجودہ حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ حکومت نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا ہے اور عوام ایک وقت کی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، جب کہ حکومتِ وقت معیشت کی خرابی عمران خان کی نا اہلی سے تعبیر کرتی ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ایک طرف پاکستان میں معاشی بحران ہے، تو دوسری طرف سیاس عدمِ استحکام بھی اپنی انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ اس پر طرّہ یہ کہ امن و امان کی صورتِ حال روز بہ روز خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حکومت کے پاس قرضوں کی اقساط کی ادائی اور ایل سیز کھلنے کے لیے ڈالرز نہیں۔ لگ رہا ہے کہ ملک ڈیفالٹ کرنے کے قریب ہے۔ ڈالرز نہ ہونے کی وجہ سے برآمدات اور درآمدات کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا ہے اور معاشی حالات یہاں تک خراب ہوچکے ہیں کہ وزیرِ خزانہ نے ملک کے دفاع کے لیے ضروری آلات کی درآمد پر بغیر اجازت کے پابندی لگا دی ہے۔ جب سے تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اپنے حقیقی آزادی مارچ کے اختتام پر راولپنڈی میں صوبۂ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا ہے، تو اُسی دن سے ملک میں ایک اور ہنگام کھڑا ہوگیا ہے۔ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت اور قایدین کا کہنا تھا کہ اگر عمران خان نئے الیکشن چاہتے ہیں، تو وہ جلدی سے اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ ہم نئے الیکشن کرانے کی ضمانت دیتے ہیں۔ تحریکِ انصاف کے رہنماؤں، ممبرانِ اسمبلی اور قانونی ماہرین سے مشورے کے بعد اپنے خطاب میں عمران خان نے 23 دسمبر کو خیبر پختونخوا اور پنجاب اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔
اسمبلیوں کے تحلیل کرنے کے اعلان کے ساتھ پی ڈی ایم کی اتحادی حکومت نے اسمبلیوں کو تحلیل ہونے سے بچانے کے لیے ہر جایز و ناجایز حربہ استعمال کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ حکومت نے گورنر کے ذریعے وزیرِ پنجاب سے اعتماد کا ووٹ لینے، تحریکِ عدمِ اعتماد لانے یا صوبے میں گورنر راج نفاذ کرنے کا شوشا چھوڑ دیا۔ تحریکِ انصاف اور اتحادی مسلم لیگ قاف نے بھی حکومتی حربوں کو ناکام بنانے کے لیے کمر کس لی۔ 19 دسمبر کو گورنر پنجاب نے وزیرِ اعلا کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جس پر دونوں جانب سے کافی لے دی ہوئی۔ پنجاب حکومت اور تحریکِ انصاف نے گورنر کے اس قدم کو آئین اور قانون کے خلاف قرار دیا جب کہ وفاقی حکومت اور پی ڈی ایم کے رہنما اسے آئین اور قانون کے مطابق قرار دے رہے ہیں۔ جب سپیکر نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب نہ کرنے پر اور وزیرِ اعلا نے اعتماد کا ووٹ نہ لینے پر گورنر نے وزیرِ اعلا پنجاب پرویز الٰہی کو ڈی نوٹیفائی کر دیا، جس پر وزیرِ اعلا نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا، تو سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے وزیرِ اعلا پنجاب کو بحال کرتے ہوئے انھیں 11 دسمبر تک اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جب کہ وفاقی حکومت، عدالتی فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے جا رہی ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لاہور ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ آئینی اور قانونی ہے یا کہ سیاسی…… اس کا فیصلہ تو آنے والے وقت ہی کرے گا، مگر افسوس سے لکھنا پڑتا ہے کہ حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے ساتھ ملکی سالمیت کی کوئی فکر ہے اور نہ عوام کی دو وقت کی روٹی کی۔ اگر فکر ہے، تو ایک کرسی کی جس کے خاطر دونوں سب کچھ داو پر لگانے کو تیار ہیں۔
خیبر پختونخوا کے علاقہ سوات، بنوں، وزیرستان اور دیگر علاقوں میں دہشت گرد پھر سے منظم ہو رہے ہیں۔ ملک کے دیگر بندوبستی علاقوں اور اسلام آباد میں خود کُش حملے ہورہے ہیں۔ اگر سیاسی قایدین نے ہوش کے ناخن نہ لیے، تو ناقابلِ تلافی نقصان کا اندیشہ ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔