سالِ رفتہ کا یہ آخری کالم ہے۔ ایک کالم میں بارہ مہینوں کا حساب کون دے سکتا ہے اور کون لے سکتا ہے؟ انسانی قوت اور وسایل اونٹ کے منھ میں زیرے کے برابر ہیں۔ یہ تو اللہ کی بے مثال قوت اور قدرت ہے، جو ازل سے ابد تک ہر جان دار کے قول و فعل کا حساب رکھتا ہے اور لیتا بھی ہے۔ کبھی سوچا گیا ہے کہ وہ کیمرے جو آسمان اور زمین پر نصب ہیں، کتنے طاقت ور ہیں؟ اور کراماً کاتبین جو ہر انسان کے کندھوں پر مامور ہیں، اپنے کام میں کتنے مشاق ہیں؟ پلک جھپکنے تک کا حساب رکھتے ہیں۔ باوجود اس کے انسان کے کرتوت…… الامان و الحفیظ!
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
آج کل پاکستانی سیاست میں ایک بار پھر ’’لیکس‘‘ کا دور دورہ ہے۔ کچھ آڈیو پیغامات جو ایک مشہور سیاست دان سے منسوب کیے جاتے ہیں، کیا وہ سننے کے قابل ہیں؟ پھر نشر کرنے کا بے شرمی والا سلسلہ، لا حول و لا قوۃ!
آڈیو میں شامل گفت گو کو (جن سے منسوب ہے، ان کی طرف سے) جھوٹ قرار دیا گیا ہے…… لیکن ایک لمحے کے لیے اگر اسے سچ بھی مانا جائے، تو کسی کی نجی اور انتہائی ذاتی قسم کی گفت گو ریکارڈ کرنا اور سوشل میڈیا پر وائرل کرنا کہاں کی دانش مندی ہے؟
یہ بھی نہیں کہ یہ پیغامات کسی خاص سیاست دان تک محدود ہیں۔ اس لیے اس کی تشہیر ہوئی۔ اسلامی، اخلاقی اور سماجی اصولوں میں کسی بھی شخص…… خواہ کوئی بھی ہو، کی ذاتی گفت گو اس کی اجازت کے بغیر ریکارڈ نہیں کی جاسکتی۔
دوسری بات یہ کہ اس معاشرے میں کتنے فی صد ایسے ہیں جو اندر سے اس قسم کے ’’شغل‘‘ کو ناپسند کرتے ہیں؟
قارئین! کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بحیثیتِ قوم ہمارا ذہنی زاویہ ہی غلط ہے۔ قومی زندگی کا ایک اور قیمتی سال بس گزر ہی گیا۔ ہمارے پلے مگر کیا پڑا؟ اس ایک سال میں ہماری معیشت، اقتصاد، صحت، تعلیم، قومی وحدت، جغرافیائی سالمیت، نظریاتی سرحدات، غربت، مہنگائی، افراتفری، بے یقینی اور سیاسی ابتری سمیت کون سا شعبہ ہے جس میں بہتری آئی ہے، ترقی ہوئی ہے، خوش حالی اور بھائی چارے کو فروغ حاصل ہوا ہے؟ ایک سال کوئی کم عرصہ نہیں ہوتا۔ افراد ہوں یا اقوام…… ہر ایک، ہر سال کوئی نہ کوئی سنگِ میل ضرور عبور کرتا ہے۔ تمام میں نہ سہی کسی ایک خاص شعبے میں تو ترقی کی جاسکتی ہے۔ اقوامِ عالم میں اپنا مقام، اپنی پہچان تو بنائی جاسکتی ہے۔
قطر نے اس سال عالمی فٹ بال ورلڈ کپ کا انعقاد کرکے جہاں ڈھیر سارے اعزازات سمیٹے، وہاں ڈھیر ساروں کو ورطۂ حیرت میں بھی ڈال دیا۔
ترکی نے بغیر پائلٹ کے جہازوں کی نمایش کردی۔
سعودیہ نے جدیدیت کی طرف کئی قدم اٹھائے۔
ایران نے بعد از خرابیِ بسیار اخلاقی پولیس (گشتِ ارشاد) کا خاتمہ کرکے اپنے عوام کا ایک مطالبہ تو مان لیا۔
بنگلہ دیش نے جمہوریت اور معیشت میں مضبوطی کا تاثر پیدا کیا۔
ہمارا پڑوسی بھارت، مستقبل کے سپر پاؤر ’’چین‘‘ کے مقابلے کے لیے پر تول رہا ہے۔
جرمنی، روس، امریکہ، فرانس اور برطانیہ کا کیا کہنا کہ ان کی نظریں اب دنیا سے زیادہ خلا کے وسایل پر مرکوز ہیں۔ ’’خلائی فوج‘‘ بنانے کا مقابلہ جاری ہے۔
سیاست کے نام پر کھلی منافقت:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30444/
اور ایک ہم ہیں کہ پورے ایک سال میں کسی بھی شعبے بارے نہیں کہا جاسکتا کہ اس میں ترقی ہوئی ہے۔ ہاں……! ایک شعبہ ضرور ہے جس کی طرف آج صرف اشارہ کرتے ہیں۔ تفصیل پہلے ہی ایک کالم میں لکھ چکا ہوں اور وہ شعبہ ہے ’’سیاسی بدتہذیبی‘‘ کا۔
یہ جو سیاسی ابتری ہے…… اور غلیظ ترین آڈیو ویڈیو کا سلسلہ چل نکلا ہے، یہ سب مذکورہ سیاسی ابتری کے ضمیمے ہیں۔ بنیاد اُکھڑ جائے، تو عمارتی ڈھانچا غیر یقینی کے گھیرے میں آجاتا ہے۔ خاکم بدہن، کہیں ہماری نظریاتی ریاستی بنیادیں تو نہیں ہل چکیں؟ سیاسی قیادت کی قلابازیں ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ ایسے میں اگر کسی کی نظریں عسکری قیادت کی جانب ہیں، تو وہ ضرور غلطی پر ہے۔ کیوں کہ اگر عسکری ادارے نے ’’غیر جانب دار‘‘ رہنے کا اعلان کیا ہے، تو یہ اس وقت بہت اہم ہے۔ کیوں کہ دہشت گردی کا جن پھر بوتل سے نکل آیا ہے۔ حالیہ دنوں میں جو واقعات ہوئے، تو ملکی صورتِ حال تقاضا کرتی ہے کہ عسکری ادارہ کا فوکس اپنے کام پر ہو۔ باقی اگر سیاست دان ایسے ہی رہے، تو نجانے اور کتنے سال ایسے گزریں گے……؟ خدا ہی بہتر جانتا ہے۔
خاں صاحب سے ایک موہوم سی اُمید:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30319/
خدارا کرے! ہمارا نیا سال گذشتہ سال سے زیادہ مثبت، قیمتی اور کارآمد ہو، آمین!
اگلی نشست نئے سال میں ہوگی۔ اس لیے جاتے جاتے سب کو ایڈوانس میں نیا سال مبارک ہو۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔