میرے دوست اور قارئین اس بات کے گواہ ہیں کہ ہم نے سابقہ حکومت خصوصاً عمران خان پر ہمیشہ تنقید کی اور اب بھی کرتے ہیں۔ ہم آج بھی عمران خان کی سیاست کے ناقد ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ خان کی سیاست بہرحال ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک تھی اور ہے…… لیکن بہت افسوس سے ہمیں یہ حقیقت ماننا ہوگی کہ موجودہ یعنی پی ڈی ایم حکومت بھی بے شک عوام کو مایوس کرتی جا رہی ہے۔ بے شک اس بات میں حقیقت ہوگی کہ عمران خان کی حکومت نے معیشت کو برباد کیا، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ کورونا جیسی مصیبت بھی عمران خان کے دور میں آئی تھی، جس نے دنیا بھر کی معیشت کو خراب کیا تھا…… لیکن بہرحال عمران خان کی حکومت نے جو کیا سو کیا، وہ اب ماضی ہے اور ماضی واپس نہیں آتا۔ پی ڈی ایم کی حکومت اور سیاست کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ عوام میں اس کا پرچار کریں، لیکن ہمارا سوال اب موجودہ حکومت سے بنتا ہے کہ جناب، آپ کا اول بیانیہ ہی معیشت کی تباہی تھی اور مہنگائی آپ کا پہلا ایشو تھا۔ آپ جلسوں، لانگ مارچوں، پریس کانفرنسوں اور ٹی وی ٹاک شو میں بہت دلیل سے یہ ثابت کرتے تھے کہ آج مہنگائی اور بے روزگاری کی اکلوتی وجہ تحریکِ انصاف کی حکومت کی نااہلی ہے۔ سو جس طرح بھی ہوا آپ نے عمران کی حکومت الٹ دی…… یا تو آپ فوراً اسمبلیاں توڑ کر انتخابات میں چلے جاتے کہ جب آپ کو معلوم تھا کہ دو صوبوں سمیت گلگت و بلتستان اور کشمیر میں حکومت عمران خان کی ہے۔ بلوچستان میں بھی عمران خان کی جماعت حکومت کی اہم اتحادی ہے، جب کہ آپ کے پاس معمولی رقبہ اسلام آباد کا اور سندھ حکومت کہ وہاں بھی بس آپ کی ایک اتحادی یعنی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے۔ کسی اور کا کوئی حصہ نہیں، تو پھر کیا ضرروری تھا کہ آپ نے اسمبلیوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
سید فیاض حسین گیلانی کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/fayaz/
تب آپ کا بیانیہ یہ تھا کہ ہم اپنی سیاست کو داو پر لگا کر معیشت کو بہتر کریں گے۔ عوام نے آپ کا یہ بیانیہ قبول کرلیا۔ پھر آپ نے آتے ہی عوام پر پٹرول بم گرا دیا اور یہ کہا کہ عمرانی حکومت کے فیصلوں کا ہرجانہ ہے، عوام نے قبول کرلیا…… مگر آج سات ماہ ہوچکے، آپ کی حکومت کو مگر حرام ہے کہ آپ نے بہت معمولی سا بھی ریلیف عام آدمی کو دیا ہو۔
سیلاب زدگان کے لیے آپ نے کچھ خاص نہیں کیا۔ بے روگاری انتہا پر جاچکی ہے…… اور مہنگائی نے عام لوگوں کی چیخیں نکال دی ہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ آج عام آدمی عمران دور کے مقابلے میں زیادہ تکلیف کا شکار ہے۔
آپ نے پہلے یہ امید دلائی کہ ہم چند ماہ میں بہتری کریں گے۔ پھر یہ کہا کہ مفتاح اسماعیل شاید وہ قابلیت نہیں رکھتے۔ سو ہم تجربہ کار اسحاق ڈار کو لائیں گے۔ ڈار صاحب کے تمام کرپشن کے کیس ایک طرف رکھ کر بہت جوش سے لایا گیا…… لیکن افسوس کہ ڈار صاحب بھی عام آدمی کے لیے کچھ نہ کرسکے۔ مَیں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، جمعیت علمائے اسلام سمیت اتحادی حکومت کے ذمے داران سے یہ التماس کرتا ہوں کہ وہ ذرا کسی شاپنگ بازار کا ایک دورہ تو کریں۔ اپنی پہچان چھپا کر اور پھر سنیں کہ عوام آپ کو کن عظیم الفاظ سے خراجِ تحسین پیش کر رہی ہے اور پھر ضمنی انتخابات کے نتایج اس کے ثبوت ہیں۔
ہم مکمل دیانت داری سے یہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان کی اپوزیشن ان کی حکومت سے بھی زیادہ خراب ہے…… اور وہ شاید یہ قابلیت ہی نہیں رکھتے کہ وہ بہتر اپوزیشن کا کردار ادا کرسکیں، لیکن اس کے باجود بھی وہ دن بدن عوام میں مضبوط سے مضبوط تر ہوتے جا رہے ہیں، تو اس کی بڑی وجہ بس یہ ہے کہ آپ کی حکومت عمران خان کی اپوزیشن سے بھی زیادہ نااہل نکلی ہے۔
سیاست کے نام پر کھلی منافقت:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30444/
آپ نے مرضی سے حکومت لی اور وزیروں مشیروں کی فوج ظفرِ موج بھرتی کرلی، لیکن نتیجہ صفر جمع صفر سے آگے کچھ نہیں۔ مہنگائی اور بے روگاری کا عذاب تو رہا ایک طرف، آپ یقین کریں کہ گورننس بارے بھی بہت سے وزن دار سوالات ہیں۔ عمومی طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ مسلم لیگ تاجر دوست حکومت ہوتی ہے اور پیپلز پارٹی کسان و مزدور دوست…… لیکن اب دونوں جماعتیں حکومت کا حصہ ہیں، بلکہ حکومت کی قیادت کر رہی ہیں۔ دونوں کے محبوب تاجر ہوں یا مزدور، رُل رہے ہیں۔ تمام تجارتی سرگرمیاں بالکل ٹھپ ہو چکی ہیں۔ خام مال کی درآمد رکنے سے بڑے بڑے صنعتی یونٹ بند ہو رہے، اور اس کا منطقی نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ تمام تجارتی اور صنعتی ادارے روزانہ کی بنیاد پر کارکنوں کی نوکری ختم کرتے جا رہے ہیں۔ بے روگاری کا سونامی بڑھتا جا رہا ہے اور اسی وجہ سے معاشرتی انارکی اور جرایم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے۔ اگر صورتِ حال یہی رہی، تو آپ یقین کریں کہ اگلے چند ماہ میں عوام پر مسلط عذاب تو یقینا ناقابلِ برداشت ہوجائے گا، لیکن آپ یعنی پی ڈی ایم کی سیاست مکمل طور پر تباہ و برباد ہو جائے گی اور پھر عمران خان کے لیے دو تہائی سیٹیں لینا بہت آسان ہو جائے گا۔ اس کے لیے وزیرِ اعظم میاں شہباز شریف اور مفاہمت کے بادشاہ آصف علی زرداری مع مولانا فضل الرحمان اور ایم کیو ایم کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔ آپ آخر کب تک سب کچھ عمران خان کے ذمے لگا کر اس سے بری الذمہ ہوسکتے ہیں۔
دوسری بات، اب عوام بھی اتنی احمق نہیں کہ ان کی تمام تر تکالیف کو آپ سابقہ حکومت سے وابستہ کر دیں اور لوگ مان بھی لیں۔ ایسا ہوتا نہیں، بلکہ اب عوام یہ سوال کرنا شروع ہوگئے ہیں کہ اب آپ کو بھی قریب سات ماہ ہوچکے۔ آپ اپنی کارکردگی بتائیں۔ آپ نے جو تھوک کے حساب سے کابینہ بھرتی کی ہوئی ہے، کیا ان کا کام اب بس دفاتر میں بیٹھ کر عیش کرنا رہ گیا ہے؟
جنابِ وزیرِ اعظم! اگر میرے یہ الفاظ آپ تک پہنچ سکیں، تو میری بات پر یقین کرلیں آپ کہ اب تک کی آپ کی حکومت اور کابینہ کی کارگردگی صفر تک ہی محدود ہے۔ نہ آپ کی حکومت نے کوئی ٹھوس پالیسی دی ہے اور نہ عوام کو وقتی ریلیف۔ آپ شروع دن سے ہی بس عمران مخالفت کی سیاست میں مشغول ہیں…… اور پھر اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اکیلا عمران خان آپ کے لیے مشکلات بنا رہا ہے، اور آپ کی حکومت کو سیاسی ہیر پھیر میں الجھا رہا ہے، تو پھر مہربانی کریں اس کی بات مان لیں اور اسمبلیاں توڑ کر عوام پر فیصلہ چھوڑ دیں۔ تاکہ عوام بہتر طور پر کسی بھی حق دار کو حکومت دے کر اس سے امیدیں باندھ لیں۔ کیوں کہ اس وقت ایک مضبوط اور مکمل عوامی مینڈٹ کے ساتھ بننے والی حکومت ہی شاید کسی تک عوام کے مسایل حل کر سکے۔
فوج کے قبضے سے ہماری زمین واگزار کرائی جائے، اہلِ توتانو بانڈئی:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30422/
سو آخر میں آپ سے پھر گزارش ہے کہ یا تو عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف دیں، عوام کی تکالیف کو کم نہیں کرسکتے، تو کم از کم اس میں اضافہ تو نہ کریں…… یا پھر دوسری صورت میں عوام کی جانب پلٹ جائیں، تو عوام کو موقع دیں کہ وہ خود فیصلہ کرلیں کہ مستقبل میں کس کو مضبوط حکومت دینی ہے؟
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔