پاکستانی سیاست، نظامت اور نظامِ انصاف سب کچھ اُس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں ستم ظریفی بھی شرمندہ ہوکر منھ پھیر لیتی ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ یہ ملک جمہوریت، انصاف، ترقی اور خوش حالی کے لیے بنا ہی نہیں تھا، بلکہ بائی ڈیفالٹ بطورِ ایک گریژن ریاست وجود میں لائی گئی جس میں ہر عوامی اور جمہوری آواز ’’غداری‘‘ اور ’’ملک دشمنی‘‘ کے زمرہ میں حساب کی جانے لگی۔ اگر ایسا نہیں، تو ایک منتخب ممبر پارلیمنٹ علی وزیر کو دو سالوں سے مختلف حیلوں بہانوں سے جیل میں نہ رکھا جاتا۔
طالع مند خان کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/taliman/
ویسے 75 سالوں سے ہم یہ سنتے چلے آ رہے ہیں کہ پاکستان نازک موڑ سے گز رہا ہے…… لیکن اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ہمارے غیر منتخب پالیسی سازوں اور ملک چلانے والوں نے یہ بات سچ کردکھائی ہے…… اور آج واقعی پاکستان کو ایک بہت نازک اور خطرناک موڑ پر لا کرکھڑا کر دیا گیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ اپنی پرانی روش پر تلے ہوئے ہیں کہ ’’ہم نہیں، تو کچھ بھی نہیں۔‘‘
علی وزیر کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے اِس ملک کے جابر اور غیر جمہوری طاقت ور طبقے کو للکارا ہے، جس کی پالیسیوں اور کرتوتوں کی وجہ سے ڈیورنڈ لائن کی اُس طرف پختونوں کی سرزمین پچھلے چالیس برسوں سے نہ بجھنے والی آگ کی لپیٹ میں ہے، جو اب اس خطے کے باسیوں کی عزت، جان و مال کو بھسم کرنے جا رہی ہے۔ اَب اُس آگ کے سیاسی اور معاشی اثرات پورے ملک میں پھیلتے دکھائی دے رہے ہیں۔
خیر، ان سے کیا گلہ! ایسا تو وہ پچھلے سات دہائیوں سے کرتے چلے آرہے ہیں، لیکن نام نہاد جمہوری قوتوں، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور خاص کر پالیمنٹ سے تو گلہ بنتا ہے۔
بچے بچے کو پتا ہے کہ علی وزیر نے کوئی جرم نہیں کیا، بلکہ وہی کیا جو اپنی مٹی کے سپوت اور عوامی نمایندے کا فرض ہوتا ہے۔ گذشتہ دو سالوں سے علی وزیر کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک پر سیاسی جماعتوں اور پارلیمنٹ کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔ کیا عوامی و آئینی بالادستی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے کے لیے کسی خاص جماعت کے ساتھ وابستگی ضروری ہے؟ ورنہ پھر خوا وہ جتنے بھی حق پر ہوں، ان سے اس نام نہاد جمہوری جماعتوں کا لینا دینا نہیں بنتا…… یا پھر یوں سمجھ لینا چاہیے کہ ان جماعتوں کا سیاسی تعلق صرف اقتدار کے کھیل تک محدود ہے…… اور اس کی خاطر حق بات کہی جاسکتی ہے اور نہ اس کے کہنے والوں کے ساتھ کھڑے ہونے کی سکت کسی میں ہے۔ اس قسم کے موقف رکھنے والے افراد کو اپنے اقتدار کے امکان کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
علی وزیر کے معاملے میں پی پی پی کا کردار گھناونا لگ رہا ہے۔ بظاہر جمہوری اور عوامی اور غیر جمہوری قوتوں کے خلاف مزاحمتی سیاست کا لبادہ اُوڑھا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ اقتدار میں آنے اور رہنے کے لیے اس جماعت نے سب سے زیادہ سودے بازیاں اور اپنے نام نہاد سیاسی اصول اور موقف سے انحراف کیا ہے، اور اب بھی کرتی ہے۔ صرف پچھلے دو برسوں میں ایک طرف پی ڈی ایم کی پیٹھ میں چھری گھونپ دی، تو دوسری طرف اسٹیبلیشمنٹ کی خوش نودی کے لیے علی وزیر کو ہاتھ پیر سے باندھ کر ان کے سامنے پھینک دیا، لیکن جعلی پولیس مقابلوں 444 بے گناہ انسانوں کے قاتل راؤ انوار ہر قسم تحفظ کے ساتھ سندھ کے عدالتوں نے ضمانت بھی دی اور آج کسی کو ان سیکڑوں بے گناہ انسانوں کا خون یاد تک نہیں۔
ریکوڈک، پاکستان کے روشن مستقبل کا ضامن:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30431/
بھئی! ظلم کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ ظلم جب حد سے بڑھ جاتا ہے، تو کفر سے بدتر ہوجاتا ہے اور اس لیے مٹ بھی جاتا ہے۔ اس طرح کی بے انصافیوں، آئین اور قانون کے ساتھ مسلسل کھلواڑ نے ملک کو اس نہج پر لاکر کھڑا کیا ہے۔
ایک طرف پیپلز پارٹی کا یہ کردار ہے لیکن دوسری طرف این ڈی ایم بننے تک پی ٹی ایم کے جلسوں میں فرحت اللہ بابر پیپلز پارٹی کی نمایندگی کرتا تھا۔ یاد رہے کہ علی وزیر نے پی ٹی ایم کو توڑ کر نئی سیاسی پارٹی کا حصہ بننے سے انکار کیاتھا۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس ملک میں سیاست کے نام پر اب کھل کر منافقت ہو رہی ہے۔ ایک طرف پی ٹی آئی اور عمران خان نے اعظم سواتی کے مسئلے پر آسمان سر پر اٹھالیا ہے کہ وہ سینٹر ہے اور اس کی گرفتاری پارلیمنٹ اور انسانی حقوق پر حملہ ہے، لیکن دوسری طرف آج تک عمران نیازی یا پی ٹی آئی کے کسی دوسرے لیڈر نے علی وزیر کے بے گناہ قید و بند پر اُف تک نہیں کیا۔
عمران نیازی کرسی چھن جانے کے زعم میں اب جنرل باجوہ کے خلاف ہر قسم کا زہر اگل رہا ہے، لیکن آج بھی جرات نہیں کرسکتا کہ علی وزیر کے حوالے سے جنرل باجوہ پر ہلکی سی تنقید کرے۔ سب کو یاد ہے کہ جنرل باجوہ نے کہا تھا کہ جب تک علی وزیر معافی نہیں مانگتا، تو رہائی نہیں ملے گی۔ کیا اس معاملے میں پی ٹی آئی کی خاموشی اس وقت جنرل باجوہ اور عمران نیازی کے گھٹ جوڑ کا شاخسانہ ہے؟ اس پر مستزاد یہ کہ اب سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اعظم سواتی کے کیس میں پارلیمنٹ کا استحقاق یاد آیا؟ لیکن بطورِ سپیکر وہ علی وزیر کا پروڈکشن آرڈر جاری اور اس پر عمل کرانے کا کردار تک نہیں کرسکتا تھا۔
سی ایس ایس رزلٹ، تعلیمی زبوں حالی کا منھ بولتا ثبوت:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30370/
اس کے علاوہ موجودہ حکومت اور پارلیمنٹ کو بھی یاد نہیں کہ علی وزیر قومی اسمبلی کا ایک منتخب رکن ہے، لیکن بطورِ ادارہ پارلیمنٹ اور اس کا سپیکر اپنے رکن کے بے گناہ قیدو بند پر خاموش تماش بین بنے ہوئے ہیں۔ حتی کہ عوامی ورکر پارٹی جو علی وزیر پر دعوا جتاتی تھی، بھی خاموش ہے۔ آخر میں وہی پختونخوا ملی عوامی پارٹی میدان میں اتری اور علی وزیر کی رہائی کے لیے 16 دسمبر 2022ء کو ملک گیر احتجاج کیا۔ محمود خان اچکزئی نے علی وزیر کی گرفتاری کے خلاف کویٹہ میں نکالے گئے بڑے احتجاجی جلوس، جس نے بعد میں جلسے کا شکل اختیار کی، سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر علی وزیر کو فوری طور پر رہا نہیں کیا گیا، تو آج کا احتجاج اس سلسلے کا آغاز ہے، جو ’جیل بھرو تحریک‘ پر منتج ہوگا۔‘‘
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔