توتانو بانڈئی آرمی کیمپ کے متاثرین نے پاک فوج کے قبضے سے ایک سو پچاس کنال اراضی کو واگزار کرانے کا مطالبہ کردیا۔ آرمی کیمپ کے ذریعے گذشتہ پندرہ سالوں سے ہماری زمینوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ ہم دوسرے گاؤں میں کرائے کے مکانات میں رہایش پذیر ہیں۔
سوات پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے توتانو بانڈئی آرمی کیمپ کے متاثرین انور علی، محمد علی شاہ، امیر زیب، ظفرعلی، اجمیر پرویز اور نادر خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سوات میں کشیدگی کے دوران میں اپنی زمینیں پاک فوج کے حوالے کیں، جہاں پر آرمی کیمپ لگایا گیا۔ ہماری ایک سو پچاس کنال زمین پر آج بھی فوج قابض ہے، جب کہ ہمیں وہاں جانے تک نہیں دیا جا رہا۔ آرمی کیمپ میں ہمارے چھے مکانات بھی ہیں۔ صرف اُن مکانات کا کرایہ ہمیں دیا جا رہا ہے، باقی ہماری زمینوں سے اناج کا ایک دانہ بھی ہمیں میسر نہیں۔
انھوں نے کہا کہ اپنی زمینوں کے ہوتے ہوئے ہم دوسرے گاؤں میں کرائے کے مکانات میں رہایش پذیر ہیں، جب کہ ہماری ایک نسل دوسرے علاقوں میں جوان ہوئی ہے، جو اَب ہم سے پوچھ رہی ہے کہ ہماری اپنی زمینیں ہمیں کیوں نہیں دی جا رہیں۔
انھوں نے کہا کہ پندرہ سال ہو گئے ہیں۔ اب ہم مزید اپنی زمینیں ان کے قبضے میں دینے کو تیار نہیں اور نہ ہم اسے بیچنے کی خواہش ہی رکھتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ہم نے کئی بار ڈی سی، متعلقہ اے سی اور دیگر بالا افسران کو درخواستیں دی ہیں، لیکن ابھی تک ہمیں ہماری اپنی زمینیں حوالہ نہیں کی گئیں۔
انھوں نے کہا کہ سات اقوام اس آرمی کیمپ سے متاثر ہیں۔ ہم میں مزید صبر اور برداشت کا مادہ نہیں۔ ہم کسی بھی صورت اپنی زمینیں ان کے قبضے میں نہیں دے سکتے۔ آرمی کیمپ متاثرین نے بعد ازاں احتجاج بھی کیا اور نعرے بازی کی۔
انھوں نے افسرانِ بالا اور اعلا حکومتی نمایندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ آرمی کیمپ سے ہماری زمینیں واگزار کرائی جائیں اور فوج کو چھاونی میں منتقل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ہم اپنی خواتین اور بچوں سمیت شدید احتجاج پر اُتر آئیں گے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔