دوستو! آج موضوعِ سخن حالیہ ہونے والا ’’سی ایس ایس‘‘ یا مقابلے کے امتحان کا نتیجہ اور تعلیمی زبوں حالی ہے۔ اگر چہ یہ ایک ایسا موضوع ہے جس کی کہانی پاکستان کے ساتھ ہی چلی آ رہی ہے، تو ایک کالم میں احاطہ مشکل ہے…… مگر چند موٹی موٹی باتوں کا ذکر تو کیا جاسکتا ہے۔ میڈیائی خبروں کے مطابق اِمسال 2022ء کے مقابلے کے امتحان میں مجموعی طور پر 20262 سے زیادہ امیدوار شامل ہوئے تھے، جن میں بمشکل صرف 393 امیدوار تحریری امتحان میں پاس ہوئے ہیں…… جب کہ انٹرویو یا زبانی امتحان کا مرحلہ ابھی باقی ہے۔ اب ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے یہ حساب خود ہی نکال لیجیے کہ کامیابی کا تناسب کیا بنتا ہے؟
اکرام اللہ عارف کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ikram-ullah-arif/
اس کے ساتھ اگر یہ سوچا جائے کہ اس وقت ملکی آبادی 22 کروڑ سے زیادہ ہے۔ تو 22 کروڑ میں صرف 393 بندے……؟ اس کے ساتھ یہ معلوم ہونے میں بھی کوئی مضایقہ نہیں کہ پاکستان بھر میں تقریباً دو سو سرکاری جامعات ہیں جب کہ درجنوں نجی جامعات ڈگری تقسیم یا فروخت کرنے کے کام پر مامور ہیں۔ علاوہ ازیں ملک بھر میں درجنوں اکادمیاں (اکیڈمیز) ہیں جہاں بھاری فیسوں کے عوض مقابلے کے امتحان کے لیے تیاری کروائی جاتی ہے۔
’’سی ایس ایس‘‘ پاس کرنے والے حقیقی بادشاہ ہوتے ہیں، جو جدید جمہوریتوں میں ریاستی نظم و نسق چلاتے ہیں۔ پاکستان میں ’’سی ایس ایس‘‘ دراصل ’’آئی ایس ایس‘‘ کا تسلسل ہے، جو انگریز نے برصغیر میں شروع کیا تھا۔ نوکروں کی اس کھیپ کے اولین امیدواروں کو برطانیہ میں تعلیم و تربیت دی گئی تھی۔ پاکستان میں آزادی کے بعد اولین بیور کریٹ وہی انگریزوں کے تربیت یافتہ تھے۔ سو پاکستان معاشی بدحالی کے باوجود رو بہ ترقی رہا اور قدرت اللہ شہاب، الطاف گوہر اور مختار مسعود جیسے بیورو کریٹ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں مشہور ہوتے رہے۔
پھر نجانے کیا ہوا۔ ملک میں تعلیمی ادارے تھوک کے حساب سے بنتے گئے۔ مقدار بڑھتا گیا، مگر معیار گرتا رہا…… اور اب تو اتنا گرچکا ہے کہ 20 ہزار سے زاید لوگوں میں صرف 393 امیدوار ہی امتحان پاس کرسکتے ہیں۔
بیانِ حلفی کے نام پر طلبہ کے ساتھ مذاق:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30348/
ہم اگر اپنے صوبے کی بات کریں، تو اس وقت خیبر پختونخوا میں مجموعی طور پر 32 سرکاری جامعات یا کیمپس قایم ہیں۔ گذشتہ ہفتے ’’یونیورسٹی آف ہنگو‘‘ قایم کرنے کا اعلان بھی کردیا گیا ہے۔ ایسا ہوا، تو یہ تعداد 33 ہوجائے گی۔ نجی جامعات اس کے علاوہ ہیں…… مگر حالیہ مقابلے کے امتحان میں اس صوبے کے کتنے لوگ کامیاب ہوئے ہیں؟
تعلیمی تنزل کا یہ سفر راتوں رات نہیں چلا۔ اس میں بھٹو مرحوم کے مشہورِ زمانہ ’’قومیانہ قانون‘‘ کا بھی عمل دخل رہا ہے۔ نجی تعلیمی اداروں کے ’’مشروم گروتھ‘‘ کا بھی کردار ہے۔ اس بربادی میں والدین کی غفلت، طالب علموں کو بروقت آگاہی نہ ہونا، حکومتی عدم توجہی اور ملک میں یکساں نظام و نصاب کا نہ ہونا بھی اہم محرکات میں سے ہے۔
تعلیم کو حکومتی سرپرستی مل جائے، تو پھر حکم ران تنزانیہ کی خاتون صدر ’’سامعہ‘‘ جیسے ہوتے ہیں۔ تنزانیہ کی خاتون صدر نے گذشتہ ہفتے یومِ آزادی کی تقریبات یہ کَہ کر منسوخ کردیں کہ ان تقریبات پر اُٹھنے والے اخراجات تعلیمی اداروں کو دیے جائیں۔
اور ایک ہم ہیں کہ یومِ آزادی پربھی ’’بھونپوؤں ‘‘ سے فراغت حاصل نہیں کرپاتے، تو مقابلے کے امتحان کا ایسا نتیجہ برآمد ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔