گیارھویں جماعت میں داخلہ کے وقت طلبہ سے ایک بیانِ حلفی طلب کیا جاتا ہے کہ ’’مَیں سیاست میں حصہ نہیں لوں گا۔‘‘
یہ سلسلہ گذشتہ 30 سال سے جاری ہے، جب چیف جسٹس افضل ظلہ کے حکم پر تعلیمی اداروں میں سیاست کی بیخ کنی کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔
کوئی 20 سال پہلے میں ایک طالب علم کے داخلہ میں مدد کر رہا تھا۔ بیانِ حلفی کے نمونے میں لکھا تھا کہ ’’مَیں سیاست میں حصہ نہیں لوں گا…… اور اگر سیاست میں حصہ لیا، تو پرنسپل مجھے کالج سے خارج کر سکتا ہے اور مجھے اس فیصلے کے خلاف کسی عدالت میں جانے کا حق نہیں ہوگا۔‘‘
احسان حقانی کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے: 
https://lafzuna.com/author/ihsan-haqqani/
اور سیاست کیا ہے……؟ جس چیز کو بھی پرنسپل صاحب سیاست قرار دیں، وہ سیاست ہے اور ایسا جرم ہے جس کی سزا کے طور پر مجھے اس ادارے میں تعلیم کے حق سے محروم کیا جاسکتا ہے۔
مَیں نے بیانِ حلفی دوبارہ ٹائپ کیا اور اس میں لکھا کہ ’’سیاست ہر شہری کا بنیادی حق بھی ہے اور شہری ذمے داری بھی۔ اس لیے مَیں جہاں مناسب سمجھوں، سیاست میں حصہ لوں گا۔ پرنسپل کو کوئی حق نہیں کہ وہ مجھے اجتماعی مفاد کے لیے کام کے جرم میں کالج سے خارج کرے۔ اور اگر اس نے ایسی غلطی کی، تو مجھے کسی بھی عدالت میں جانے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔‘‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ طالب علم کا داخلہ بھی ہوگیا۔ اُس نے متعلقہ کالج سے چار سال میں ڈگری بھی حاصل کی اور پرنسپل صاحب کو پتا بھی نہ چلا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے!
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ صرف ’’لکیر کی فقیری‘‘ ہے۔ غریب والدین چار چار کالجوں میں داخلہ کی درخواست دیتے ہیں اور چار چار بیانِ حلفی جمع کراتے ہیں۔ ایک بیانِ حلفی پر چار سو روپے خرچہ آتا ہے، بالکل فضول۔
سوات قومی جرگہ کا پائیدار امن کے لیے جد و جہد کا اعلان:
https://lafzuna.com/current-affairs/s-30297/
میرے خیال میں بچوں سے اس طرح کا حلف لینا چا ہیے کہ ’’مَیں توڑ پھوڑ میں حصہ نہیں لوں گا۔ ادارے کی اشیا اور قومی اِملاک کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ کتابی کیڑا بننے کی بجائے ہم نصابی سرگرمیوں میں حصہ لوں گا، وغیرہ وغیرہ۔‘‘
اوراس بیانِ حلفی کے لیے سٹامپ پیپر کی کوئی ضرورت نہیں۔ سادہ کاغذ پر بچوں اور والدین کے دست خط سے یہ قول و قرار لیا جاسکتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اسٹامپ پیپر سرکاری اداروں میں درکار ہوتا ہے، جہاں بھرپور سیاست ہوتی ہے۔ نجی اداروں میں ایسا کوئی بیان حلفی نہیں ہوتا، لیکن کسی کا باپ، میرا مطلب ہے بچہ سیاست کرکے دکھائے۔
اور سیاست پر اتنی شدید پابندی کیوں بھئی! جن پر یہ پابندی ہے، وہ تو لوگوں کے باتھ رومز تک میں گھس کر سیاست کرتے ہیں۔ اور جن کا کام سیاست ہے، انھیں کہا جاتا ہے کہ حلف اُٹھاؤ کہ سیاست نہیں کروگے۔ بس ملک نہیں،جیمز پیٹرسن کا چڑیا گھر ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔